پاناما لیکس آف شور کمپنیز میں شریف خاندان کا نام آنے کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے جے آئی ٹی بنائی گئی جس کے سامنے وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں سمیت کئی اہم شخصیات پیش ہوئیں ۔ پاناما پیپرز کےشور اور اپوزیشن کے احتجاج کے بعد شریف خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنائی گئی جس کے سامنے وزیر اعظم ان کے بچوں اور بھائی وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف سمیت کئی اہم شخصیات جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے ۔ سب سے پہلے جے آئی ٹی نے تحقیقات کے لیے وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز کو طلب کیا جو مجموعی طور پر 6 بار جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے ۔
پہلی پیشی کا دورانیہ 2 گھنٹے ، دوسری کا 6 گھنٹے ، تیسری کا 5 گھنٹے ، چوتھی کا 6 گھنٹے ، پانچویں پیشی ساڑھے 4 گھنٹے جبکہ چھٹی پیشی کا دورانیہ ساڑھے پانچ گھنٹے رہا ۔ جے آئی ٹی نے حسین نواز سے مجموعی طور پر 29 گھنٹے تفتیش کی۔
وزیر اعظم کے دوسرے صاحبزادےحسن نواز کو مجموعی طور پر تین بارجے آئی ٹی نے طلب کیا ،، پہلی اور دوسری پیشی میں 5،5 گھنٹے جبکہ تیسری بار اڑھائی گھنٹے تفتیش کی گئی ، مجموعی طور پر وزیر اعظم کے چھوٹے بیٹے سے ساڑھے 12 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی ۔ جے آئی ٹی کی پیشیوں میں سب سے بڑی پیشی وزیر اعظم محمد نواز شریف کی تھی ،جن سےمسلسل 3 گھنٹے تک منی ٹریل اور ان کے اثاثوں کے بارے میں سوال جواب کئے گئے ۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے والوں میں وزیر اعظم کے بھائی وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف بھی تھے جو مجموعی طور پر ساڑھے 3 گھنٹے کے لیے جے آئی ٹی کے رو برو پیش ہوئے۔
مزید تحقیق اور شواہد کے لیے جے آئی ٹی نے وزیر اعظم کے کزن طارق شفیع کو دو بار طلب کیا،، جن کی پہلی پیشی کا دورانیہ 11 گھنٹےاوردوسری پیشی کا 2 گھنٹےرہا ، مجموعی طور پران سے 13 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ اس کے علاوہ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک دو گھنٹے ،نیشنل بینک کے صدر سعید احمد 2 پیشیوں میں 8 گھنٹے اور وزیر اعظم کے داماد کیپٹن ریٹائیرڈ صفدر ساڑھے 3 گھنٹے ،نیب کے سابق چئیرمین امجد نقوی ڈیڑھ گھنٹے اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار 45 منٹ کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے۔
سب سے آخرمیں وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز کو جے آئی ٹی نے طلب کیا ان کی پیشی کا دورانیہ دو گھنٹے رہا۔ ان تمام پیشوں کے بعد مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کریں گی ۔












