وزیر اعظم نواز شریف تاحیات نااہل قرار، سپریم کورٹ

0
396

پانچ ججوں کا متفقہ فیصلہ
سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف تمام مواد احتساب عدالت کو بھجوائے جائے گا اور نواز شریف کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ کی جانب سے کیس کا فیصلہ سنایا گیا، جس میں جسٹس آصف سعید کھوسہ،جسٹس اعجازافضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے۔
فیصلہ سننے کے لیے تحریک انصاف کے رہنما وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب،عوامی مسلم لیگ کے رہنما شیخ رشید احمد، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق،پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق، عارف علوی، شیریں مزاری، شفقت محمود، بابر اعوان، فواد چودھری، ایم کیوایم پاکستان کے رہنما میاں عتیق کے علاوہ دیگر سیاسی رہنما بھی سپریم کورٹ میں موجود تھے تاہم چیئر مین تحریک انصاف عمران خان سپریم کورٹ نہیںآئے۔
پاناما کیس کے فیصلے کے پیش نظر اسلام آباد پولیس نے سکیورٹی کا خصوصی پلان تشکیل دیا تھا، سیکورٹی ہائی الرٹ کی گئی اور اہم مقامات ریڈ زون اور سپریم کورٹ کے اطراف پولیس، رینجرز اور ایف سی کے 3 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ۔
پولیس کے مطابق غیر متعلقہ افراد کا ریڈ زون میں داخلہ ممنوع ہے جبکہ میڈیا نمائندوں کو کوریج کے لیے خصوصی سیکورٹی پاس جاری کیے گئے ۔
سپریم کورٹ کے گرد حفاظتی رکاوٹیں اورخاردار تاریں لگائی گئی ہیں اور درخواست گزاروں کو اپنے ساتھ غیر متعلقہ افراد کو ساتھ لانے کی اجازت نہیں ۔
سپریم کورٹ رجسٹرار کی جانب سے جاری پاسز کے بغیر کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ریڈ زون میں موجود دفاتر میں کام کرنے والے افراد دفتری ریکارڈ اپنے ساتھ رکھیں۔
واضح رہے کہ پاناما پیپرز کیس کا فیصلہ 3 رکنی عمل درآمد بینچ نے 21جولائی کو محفوظ کیا تھا۔

عدالت نے شریف خاندان کے بیرونِ ملک مبینہ اثاثوں سے متعلق قومی احتساب بیورو (نیب) کو چھ ہفتوں میں ریفرنس دائر کرنے اور تمام مواد احتساب عدالت کو بھیجنے کا بھی حکم دیا ہے۔

جمعے کو پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس اعجاز افضل نے نیب کو وزیرِاعظم کے علاوہ ان کے تینوں بچوں – حسن، حسین اور مریم – اور داماد کیپٹن صفدر کے خلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ وزیرِاعظم اپنے اثاثے ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ فیصلے میں صدرِ پاکستان سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ آئین پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

عدالت نے وزیرِخزانہ اسحاق ڈار کو بھی نااہل قرار دیتے ہوئے نیب کو ان کے خلاف بھی ریفرنس احتساب عدالت بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔

فیصلے میں احتساب عدالت کو شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز کا فیصلہ چھ ماہ میں کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

پاناما کیس کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ تھے جب کہ بینچ میں جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس عظمت سعید شیخ شامل تھے۔

جمعے کو فیصلے کے اعلان کے موقع پر سپریم کورٹ کے احاطے اور ارد گرد سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

انتظامیہ کے مطابق سپریم کورٹ کے ارد گرد تین ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات تھے جب کہ عمارت کے اندر بھی رینجرز اور پولیس اہلکار موجود تھے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے 20 اپریل کو پاناما پیپرز کے معاملے پر اپنا ابتدائی فیصلہ سناتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں کے غیر ملکی اثاثوں کی مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو اپنا کام مکمل کرنے کے لیے 60 روز کی مہلت دی گئی تھی، جس کے بعد ’جے آئی ٹی‘ نے اپنی رپورٹ 10 جولائی کو عدالت عظمٰی میں پیش کر دی تھی۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے وزیر اعظم نواز شریف اور اُن کے بچوں کے علاوہ دیگر متعلقہ شخصیات کو بھی طلب کیا گیا تھا اور اُن سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

بعد ازاں پاناما کیس کے فیصلے پر عمل درآمد کی نگرانی کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ‘جے آئی ٹی’ کی رپورٹ پر پانچ روز تک فریقین کے دلائل اور اعتراضات سننے کےبعد 21 جولائی کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

حزبِ مخالف کی سیاسی جماعتوں خاص طور پر تحریک انصاف کے چیئرمین کی طرف سے عدالت عظمٰی سے استدعا کی گئی تھی کہ ملک میں سیاسی بے یقینی کی صورت حال کے خاتمے لیے فیصلہ جلد سنایا جائے۔

وزیر اعظم نواز شریف اور اُن کی جماعت پہلے ہی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو مسترد کر چکی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY