میرے ملک کے اُفق پر نیا سورج طلوع ہوا ہے اللہ کرے اسکی کرنیں بد اعمالی کے عفریت کو ختم کردیں اور یہ سورج روز روز چمکدار اور روشن ہو تا رہے ۔ہم نے ہمیشہ لکھا ہمیں اپنے کسی بھی حکمران یا کسی بھی شخص سے کوئی مخاصمت نہیں مگر برائی اور خرابی پر آواز نہ اُٹھا کر ہم بے حسوں میں شامل ہونے پر یقین نہیں رکھتے جو برا کرے اُسے برا کہو بھی اور اُسکی برائی کو سامنے بھی لاؤ ،چاہے اُس سے کتنی ہی رفاقت کیوں نہ ہو ۔اس لئے کہ بڑی سطح پر کی جانے والی برائیاں حلول کر جاتی ہیں معاشرے میں ۔جس کی کھلی مثال ہمارے یہ سوا سال ہیں جن میں ایسی ایسی باتیں ان بڑوں کی سامنے آئیں کہ ہم اُنگشت بہ دنداں رہ گئے ۔

ہمیں دُکھ بھی ہے کہ ہمیں یہ دِن دیکھنا پڑے مگر ہمیں خوشی ہے کہ اب کوئی بھی بڑا ایسی چالبازیاں کرتےہوئے ستر بار ضرور سوچے گا کہ اب یہ وہ ملک نہیں نہ اِس کے عوام وہ ہیں جو تمہارے تابع رہتے تھے ۔اب ایک نئی طاقت ملے گی ایمان کی ،ایقان کی اور خود کو پرکھنے اور سنوارنے کی ۔ہمیں بہت خوشی ہے کہ ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایک ایسی روایت ڈالی ہے جو اُنہیں سوچنے پر مجبور کرے گی کہ برائی پنپتی ضرور ہے اور فائدہ بھی دیتی ہے لیکن ایک دن ضرور کُھل جاتی ہے اور جب کھلتی ہے تو راہِ فرار مَسدُود ہو جاتی ہے ۔اور پشیمانی اور شرمندگی مقدر ہو جاتی ہے
سچائی سب سے بڑا ہتھیار ہے جو بے شک جھوٹ کے سامنے بڑی مشکل سے کھڑا رہ پاتا ہے یا مشکل سے چلتا ہے مگر جب اللہ پر یقین اور اپنی سچائی پر اطمینان ہو تو راستہ خود بہ خود بن جاتا ہے ۔جے آئی ٹی کے ارکان اور تمام ججز حضرات سب سے زیادہ تعریف اور تو صیف کے مستحق ہیں جنہوں نے ہمت اور استقلال سے کام لے کر تمام تر جُزئیات کو پسِ پُشت ڈال کر قوم کو ایک نئی اور عدل کی راہ دکھائی اور ہمیں یہ یقین دلایا کہ اگر اچھے لوگ عہدوں پر موجود ہوں تو کوئی بھی لوہے کا چنا ،چنا چور میں بدل سکتا ہے ۔میڈیا کا کردار بہت قابلِ تحسین رہا سب نے ہی اپنا کردار نبھایا ،سوائے چند تجزیہ نگاروں اور اینکرز کے ۔جن کے سامنے شاید کچھ فائدے تھے ۔یا کچھ دوستیاں ہم نہیں جانتے مگر دوست تو وہ ہی ہوتا ہے جو آپ کو غلط کام سے غلط بات سے روکے ۔یہ تو دُشمن ہوتا ہے جو آپ کی برائیوں اور غلط فیصلوں پر واہ واہ کرتا یا آپ کا ساتھ دیتا ہے ۔اس لئے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ نادان دوست سے دانا دُشمن بہتر ہے ۔۔ساری پارٹیاں سوائے چند کے ،اس مقدمے میں ساتھ تھیں ان میں سَرِ فہرست تھی پی ٹی آئی ،جماعتِ اسلامی اور عوامی مسلم لیگ جنہوں نے اس مقدمے کی پوری پوری پیروی بھی کی اور ملک کے عوام کو یہ یقین بھی دلایا کہ اگر ہمت کرو تو ہر برائی کو ختم کر سکتے ہو ۔اور شاید یہ اس عہد کا سب سے بڑا کارنامہ ہے کہ ہم اداروں پر اعتماد کر سکتے ہیں ۔۔۔۔عمران خان روحِ رواں رہے ۔

ہماری دعا ہے کہ سچائی اور عدل کی یہ لہر میرے ملک میں اسی طرح قائم رہے اور ہم باقی چوروں اور لُٹیروں کو بھی اسی طرح پکڑ سکیں جنہوں نے ہمارے ملک میں نحوست اور غُربت کا طوفان پھیلایا ۔ابھی بہت سے چہرے سامنے آنے ہیں ہمیں امید ہے کہ صدر صاحب بھی اپنی باتوں کا پاس رکھینگے اور حق اور انصاف کی راہیں کھولینگے ۔اس سورج کو مزید چمکنا ہے تاکہ اسکی روشنی میں ہم سب ہی اپنے ضمیر کو دیکھ سکیں ۔اُس کی باز گشت سُن سکیں جب ضمیر جاگتے ہیں تو قومیں نِکھَر جاتی ہیں ،سُر خرو ہوجاتی ہیں ہم ساری قوم کو مبارکباد بھی دیتے ہیں اور اُن کی استقامت پر اُنہیں خراجَ تحسین بھی پیش کرتے ہیں ۔اور یہ اُمید بھی رکھتے ہیں کہ اب خود کو بھی احتساب کے کٹہرے میں لاؤ اپنا احتساب خود کرو کہ ہم اب جھوٹ اور بے ایمانی نہ خود کرینگے نہ کسی کو کرنے دینگے جو جو جس جگہ کام کرتا ہے وہ ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دے ۔چاہے نوکری گورنمنٹ کی ہو یا پرائیویٹ عہد کرے کہ کام کرے گا ایمنداری کے ساتھ ۔کسی قسم کی کوئی ڈنڈی نہیں مارے گا ۔
یہ فیصلہ ہمیں جب ہی فائدہ دے گا جب ہم سب ہی اپنے اپنے کرداروں پر نظر کرینگے یہ صرف سیاسی لیڈروں یا سیاسی کارندوں کا نہیں سب کا فرض ہے کہ اپنا جائزہ لیں اور اس وقت سے فائدہ اُٹھائیں اپنے کئے پر توبہ کریں اور آگے کے لئے ایک نئی طاقت اور ایک نئی سوچ سے قدم بڑھائیں ۔کہ ہمارے ملک میں نہ جانے کتنے نواز ہونگے جنکے کھیسے بھرے پڑے ہونگے ہمارے حقوق سے جو انہوں نے غصب کر لئے ۔

ڈاکٹر سوچے کہ وہ اپنی تعلیم اور اُس تنخواہ کا حق ادا کر رہا ہے یا نہیں جو اُسے ملتی ہے۔انجینئر غور کرے کہ وہ سب کچھ ایمانداری سے کر رہا ہے یا نہیں ۔تاجر سوچے کہ کتنا منافع جائز ہے اور کتنا وہ لے رہا ہے ۔کہیں زیادتی تو نہیں کر رہا ۔عام آدمی سوچے کہ وہ حق حلال سے کام کر رہا ہے یا نہیں ؟ ٹیچر اپنی طرف نظر کرے کہ وہ تعلیم جو اُس نے حاصل کی اُس کا ثمر طالبعلموں تک پہنچا رہا ہے یا نہیں ۔اسکول چلانے والے اپنی تجوریوں کو ہلکا کریں اور تعلیم کے زیور کو عام کریں ۔باقی صرف وہ ہی رہنا ہے جو اچھاکیا ۔ورنہ سب کچھ منوں مٹی میں ملنے کے لئے ہے ۔

بس خواہش ایک ہی ہے کہ اچھے کام جب ہی اچھے رہتے ہیں جب اُنہیں جاری رکھا جائےبغیر کسی مصلحت اور وفاداری کے ۔بغیر کسی دباؤ اور ریا کاری کے ،بغیر یہ دیکھے کہ پاٹ کے بیچ کون آرہا ہے ۔یہ نادر موقع ہے سب کے لئے خود کو سنوارنے کا ۔خود پر نظر کرنے کا ۔آج کا دن میرے ملک کے لئے ایک خوبصورت دن ہے جو عدل اور انصاف کے ساتھ طلوع ہوا ہے ۔

اللہ سے دعا ہے کہ میرے ملک کے نوجوان اب کسی اندھیرے میں نہ رہیں اور ایمان کی روشنی میں خود کو دیکھیں اور ملک اور قوم کے لئے سچائی اور ایمانداری کے ساتھ کھڑے ہوں ۔اپنے لیڈروں پر نظر رکھیں غلطی انسان کرتا ہے اور اُسے ٹھیک بھی انسان ہی کرتا ہے ۔اللہ رحیم و کریم فرماتا ہے مفہوم “ انسان خسارے میں ہے “ بات بالکل حق ہے ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ اس خسارے سے کیسے بچ سکتے ہو بس آؤ ایمان کی طرف روشنی کی طرف اور حق کی طرف سارے دلدر دور ہو جائینگے ۔عدل قائم کرو ،انصاف دو ، عادل بنو نحوست دور ہو جائیگی ،سچ بولو سچ بُلواؤ سچ کا ساتھ دو ،سچ کی کھوج کرو ،جھوٹ ناپید ہو جائیگا غلط بیانی مُشکل ہو جائیگی ۔ برکت خود بہ خود محسوس ہوگی ،قومی معیار بلند ہوگا انشاء اللہ
اللہ میرے ملک کو خوشیاں دے اور حفاظت فرمائے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY