بہت زیادہ چینی جسم پر کیسے اثرانداز ہوتی ہے؟

0
1380

 آپ کو معلوم ہے کہ یہ عادت صرف جسمانی وزن کے مسائل کے ساتھ ساتھ متعدد طبی مسائل کا باعث بھی بن سکتی ہے؟

یہ انتباہ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چینی کا بہت زیادہ استعمال درحقیقت ایک علامت ہے جو متعدد امراض کی جانب اشارہ کرتی ہے جو زندگی میں کسی وقت آپ کو اپنا نشانہ بناسکتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر غذا میں چینی کی مقدار زیادہ ہو تو یہ جسم میں جانے کے بعد انتڑیوں میں جذب ہوتی ہے جہاں سے یہ جگر کی جانب سفر کرتی ہے۔

درحقیقت جگر جسم کا واحد عضو ہے جو اس شکر کو مختلف کاموں کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔

تاہم جب شکر کی مقدار بہت زیادہ ہو تو جگر کی اسے استعمال کرنے کی گنجائش ختم ہونے لگتی ہے جس کے بعد اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہتا کہ اس اضافی جز کو جگر کی چربی میں بدل دے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ ڈیٹا سے ثابت ہوتا ہے کہ جب جگر جب شکر کو چربی میں بدلتا ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ انسولین کی مزاحمت کا عاارضہ لاحق ہوچکا ہے۔

یہ عارضہ آگے بڑھ کر میٹابولک سینڈروم امراض جیسے ذیابیطس، بلڈ پریشر، لبلبے کے مسائل، خون کی شریانوں میں پیچیدگیاں، کینسر، دماغی تنزلی اور امراض قلب وغیرہ میں بھی بدل سکتا ہے جبکہ جگر کے امراض کا خطرہ الگ لاحق ہوجاتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ چالیس فیصد عام وزن کے افراد کسی ایک میٹابولک سینڈروم مرض کے شکار ہوتے ہیں جبکہ 80 فیصد موٹاپے کے شکار لوگوں میں یہ امراض سامنے آتے ہیں۔

اس سے قبل ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ چینی سے بھرپور غذا اور بہت زیادہ سافٹ ڈرنکس کا استعمال گردوں کے امراض کا خطرہ بھی بڑھا سکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ میٹھے مشروبات کا استعمال گردوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق گردوں کے نقصان اور میٹھے مشروبات کے درمیان تعلق ایسے افراد میں سامنے آیا ہے جو 2 یا 3 کولڈ ڈرنکس روزانہ استعمال کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ کچھ عرصے پہلے کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ محض نو دن تک چینی کا بہت کم استعمال ہی صحت کو ڈرامائی حد تک بہتر بناسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق چینی کا استعمال کم کرنے سے میٹابولک سینڈروم کا خطرہ دور ہوتا ہے جس کے بارے میں بتایا جاچکا ہے کہ وہ کن جان لیوا امراض کا باعث بنتا ہے۔

تحقیق کے دوران یہ بات معلوم ہوئی کہ چینی کا استعمال کم کرنے سے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح کم، جگر کے افعال میں بہتری جبکہ انسولین لیول ایک تہائی حد تک کم ہوگیا۔

اس تحقیق کے دوران رضاکاروں کی غذا میں چربی، پروٹین، کاربوہائیڈریٹس اور کیلوریز کی سطح تو یکساں رہی تاہم چینی کی مقدار کو 28 فیصد سے 10 فیصد تک کم کیا گیا اور مختصر وقت میں ان کی صحت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY