ہڑتالی ڈاکٹرز کے خلاف پنجاب حکومت نے بڑا ایکشن لیتے ہوئے 46 ڈاکٹروں کو بر طرف کر دیا، لاہور سمیت بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں کام بند رہا، جس کے باعث مریض خوار ہو کر رہ گئے۔
تفصیلات کے مطابق ینگ ڈاکٹرز اپنے مطالبات کے لئے ہٹ دھرمی پر قائم ہیں، حکومت پنجاب نے مذاکرات میں ناکامی کے بعد ینگ ڈاکٹرز کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے لاہور، فیصل آباد اور دیگر شہروں میں 46 ہڑتال ڈاکٹرز کو برطرف کر دیا۔
لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال پانچویں روز بھی جاری ہے، سروسز، جناح، جنرل اور چلڈرن ہسپتال میں آؤٹ ڈور اور وارڈز بند رہے جس کے باعث دور دراز سے آنے والے مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
فیصل آباد کے سول ہسپتال میں ینگ ڈاکٹر نے احتجاج جاری رکھتے ہوئے ایم ایس آفس کے سامنے دھرنا دیا، ڈاکٹرز نے تنخواہیں روکنے اور ساتھیوں کی برطرفی کے خلاف زبردستی آوٹ ڈور میں کام بند کرا کے مریضوں کو باہر نکال دیا۔
ملتان میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال سے مریض رُل گئے، ہسپتالوں میں ایمرجنسی اور آوٹ ڈور سروس بند ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس صورتحال سے مریضوں کے لواحقین بھی ڈاکٹرز کی ہڑتال پر سراپا احتجاج بن گئے، سرگودھا کےڈی ایچ کیو ہسپتال میں بھی ہڑتال کےباعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے، ینگ ڈاکٹرز نے سینئر ڈاکٹروں کے کمروں کو تالے لگا دیے۔












