قومی اسمبلی کے پارلیمانی لیڈرز کا فوجی عدالتوں کی مدت میں ممکنہ توسیع کے معاملے پر پانچواں مشاورتی اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس میں ہوگا ، حکومتی اتحادی جماعتوں کو تاحال اس آئینی ترمیم پر آمادہ نہیں کیا جا سکا ہے ۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ تیزی سے روبصحت ہو رہے ہیں اور وہ پانچویں مشاورتی اجلاس میں شرکت کے لئے جمعرات کو اسلام آباد پہنچ جائیں گے ا ۔ مشاورتی اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہو گا ۔
حکومتی اتحادی جماعتوں کے قائدین محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی اس اجلاس میں حساس اداروں کے حکام کی جانب سے فوجی عدالتوں کی کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی ۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اتحادی جماعتوں کو تاحال فوجی عدالتوں پر قائل نہیں کیا جا سکا ہے ۔ اس ضمن میں اتحادیوں سے پس پردہ رابطے بھی ہوئے ہیں ۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ حکومت سے اس پانچویں مشاورتی اجلاس میں اتحادیوں سے فوجی عدالتوں کی آئینی ترمیم حمایت حاصل کرنے نہ کرنے کے حوالے سے دو ٹوک انداز میں آگاہ کرنے کے بارے میں کہا گیا ہے ۔
اتحادیوں نے ترمیم میں بعض تبدیلیوں کی صورت میں اس کی مشروط حمایت کا عندیہ دیا ہے تاہم بائیں بازو کی جماعتیں پیپلز پارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم فوجی عدالتوں کو سابقہ حالت میں بحال کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ اتحادیوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ترمیم سے مذہب اور مسلک کے الفاظ حذف کیے جائیں متذکرہ تین بائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل سابقہ حکمران اتحاد اس کی مخالفت کر رہا ہے ۔پاکستان تحریک انصاف کی اس ترمیم کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی تاحال سامنے نہیں آ سکی ہے اور وہ تذبذب کا شکار ہے












