جب چٹان اپنی جگہ سے سرکنے پر آمادہ نہ ہو ، طارق بٹ

0
137

کہنے والے کہتے ہیں کہ سنی سنائی باتوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ مگر میں بے چارہ ناچیز سا پاکستانی ووٹر اپنے رہنمائوں کی کہی ہوئی باتوں پر یقین کر لیتا ہوں۔ صرف میں نہیں میرے جیسے کروڑوں دوسرے بھی یقین پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ میری طرح آپ نے بھی اکثر اوقات مختلف جلسوں اور ٹیلی ویژن کے مباحثوں میں اپنے رہنمائوں کی یہ گفتگو ضرور سنی ہو گی کہ سیاست میں بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے اور وہ کبھی بھی اچھا سیاستدان نہیں بن سکتا جس کے موقف میں لچک نہ ہو۔ کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر سیاست چلتی ہے۔ ضرور چلتی ہو گی صاحب۔ انکار کی مجال کس میں ہے۔ مگر جان کی امان پائوں تو عرض کروں کہ میرے وطن میں ایک ساستدان ایسے بھی ہیں جو شہرت ہی اس حوالے سے رکھتے ہیں کہ وہ نہ جھک سکتے ہیں اور نہ ہی بک سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے طے کئے ہوئے موقف سے سرمو پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔ جو کہہ دیا سو کہہ دیا۔ بلکہ یوں کہیے کہ جو ارشاد فرما دیا۔ بس فرما دیا۔ اب اس کہے ہوئے کو بدلنا یا اس سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنا ان کی شان کے خلاف ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ سمجھ گئے ہوں گے اور اب تک پہچان بھی چکے ہوں گے کہ میرے موضوع گفتگو جناب چوہدری نثار علی خان کی شخصیت ذی وقار ہے۔ موصوف کے قائد اور سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ آنے سے ایک دن قبل چوہدری نثار علی خان باوجود شدید درد کمر کے پنجاب ہائوس اسلام آباد میں میڈیا کے سامنے ارشاد فرما رہے تھے کہ حالات کیسے بھی کیوں نہ ہوں میں نواز شریف کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہوں گا۔ جملہ یاد رکھیے گا بلکہ یاد رکھنے کی کیا ضرورت ہے پورے پاکستان کو یہ جملہ ازبر ہو چکا ہے۔ اب ایک طویل عرصے کے بعد اپنے ڈرون کیمرے کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور حالات کا جائزہ لیتے ہیں۔ 30جولائی کو فیصلہ آ گیا کہ نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیا جاتا ہے۔ اب کیا تھا مسلم لیگ ن کے اجلاس پر اجلاس منعقد ہونا شروع ہو گئے۔ سروں سے سر جڑ گئے مشاورت کے عمل میں انتہائی تیزی آ گئی۔ کبھی سابقہ کچن کینٹ کا اجلاس تو کبھی سابق کابینہ کا اجلاس، کبھی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس تو کبھی چند پیاروں اور آنکھ کے تاروں کی بیٹھک وزارت عظمی سے رخصتی، نئے وزیراعظم کی تعیناتی، نئی کابینہ کا چنائو اور سفر لاہور غرض ایک کی سنی تو دوسرے کے لیے بھی دیدہ دل وا کر دیے۔ مشورے پر مشورہ آنے لگا۔ اس کو عارضی اور جز وقتی وزیراعظم بنایا جائے پر اس کو کل وقتی وزیراعظم بنا دیا جائے۔ مری کے ٹھنڈے ماحول میں گرما گرم بحث چلتی رہی کابینہ میں فلاں فلاں کو شامل کیا جائے فلاں فلاں کو فلاں فلاں وزارت کا قلم دان سونپا جائے۔ آخر طے ہونا تھا ہو گیا۔ شاہد خاقان عباسی نئے وزیراعظم اور چند نئے چہروں کے ساتھ باقی پرانے وزراء نے حلف اٹھا لیا۔ اور وہ کہ جن کے ساتھ چوہدری نثار علی خان کی گزشتہ ساڑھے چار سال سے بول چال بند تھی انہیں پاکستان کی آواز بنا دیا گیا۔ جی ہاں خواجہ آصف بطور وزیرخارجہ پوری دنیا میں پاکستان حکومت کی آواز کے طور پر حکومت وقت کا موقف پہچائیں گے۔ خواجہ آصف کو وزیر خارجہ کا قلمدان سونپنے کا فیصلہ شائید پہلے ہی ہو گیا تھا اسی لیے تو چوہدری نثار علی خان نے اپنی خواہش قربان ہوتے دیکھ کر کابینہ کا حصہ بننے سے انکار میں عافیت جانی۔ اس موقع پر مجھے ڈرون کیمرے کے ذریعے کی گئی 2013 کے الیکشن کی ریکارڈنگ یاد آ گئی کہ کیسے اس وقت میاں شہباز شریف وفاق میں آنے کے لیے پرتول رہے تھے کہ وہ وزارت پانی وبجلی میں دلچسپی رکھتے تھے تاکہ اپنے کیے ہوئے چھ ماہ اور دو سال میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے اعلان کو عملی جامہ پہنا سکیں۔

ایسے میں خواجہ آصف نے صوبائی اسمبلی کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے کہ وہ وزارت اعلیٰ پنجاب ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہیے مگر چوہدری نثار علی خان کو یہ کہاں گوارہ تھا کہ انہوں نے بھی راولپنڈی پی پی6 سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے اپنی گائے الیکشن کی چراہ گاہ میں چھوڑ دی۔ بات طویل ہوتی جا رہی ہے۔ یہ قصہ تقریباً سب کے علم میں ہے۔ کہ میاں شہباز شریف کو بالآخر خادم اعلیٰ پنجاب بننا پڑا اور خواجہ آصف اور چوہدری نثار علی خان کو وفاق تک محدود کر دیا گیا۔ اب میاں محمد نواز شریف کی نااہلی کے بعد نئی کابینہ کی تشکیل کے وقت چوہدری نثار علی خان کو من چاہی وزارت خارجہ نہ مل سکی اور وزارت داخلہ بھی پروفیسر احسن اقبال لے اڑے۔ جنہوں نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں جب میاں محمد نواز شریف سے چوہدری نثار علی خان کے اختلافات کی تردید کی تو فوراً چوہدری نثار علی خان کی جانب سے وزارت داخلہ کے ترجمان کا بیان سامنے آگیا تھا کہ چوہدری صاحب اپنی ترجمانی کا حق خود محفوظ رکھتے ہیں کسی اور کو ان کی ترجمانی کا کوئی حق نہیں۔ یہ دونوں وزارتیں اپنی ناپسندیدہ شخصیات کے پاس جانے سے چوہدری نثار علی خان کی کمر میں پہلے سے موجود درد میں مزید شدت آ گئی۔ اتنی شدت کہ وہ اپنے قائد میاں محمد نواز شریف کو لاہور روانگی کے وقت پنجاب ہاؤس اسلام آباد بھی نہ جا سکے۔ خیر میاں محمد نواز شریف کا قافلہ لاہور کے لیے روانہ ہو گیا۔ بندے کم تھے یا زیادہ یہ میرا موضوع نہیں ویسے بھی میڈیا کے ذریعے پورے پاکستان نے خود وہ مناظر دیکھے ہیں اس لیے بہتر فیصلہ عوام ہی کر سکتے ہیں۔

قافلہ پنجاب ہاؤس سے ہوتا ہوا فیض آباد پہنچا اور عین چوہدری نثار علی خان کی رہائش گاہ کے سامنے سے ہوتا ہوا مری روڈ پر رواں رہا۔ میرا ڈرون کیمرہ باوجود صد کوشش قافلے میں تو کجا چوہدری نثار علی خان کی فیض آباد میں موجود رہائش گاہ کی کسی بالکنی یا کھڑکی میں بھی ان کی کوئی ایک جھلک تک تلاش یا محفوظ نہ کر پایا۔ نواز شریف کا قافلہ رات گئے کمیٹی چوک پہنچا وہاں انہوں نے عوام سے خطاب کیا اور پہلے دن کے سفر کا یہ کہہ کر اختتام کر دیا کہ اب کل دوسرے دن راولپنڈی کچہری سے قافلہ روانہ ہو گا۔ دوسرے روز دیکھنے والی نظروں نے اس وقت ایک عجب منظر دیکھا جب پہلے روز چیونٹی کی رفتار سے چلنے والے قافلے نے چوہدری نثار علی خان کے حلقہ انتخاب این اے52 کو پلک جھپکتے یوں عبور کیا کہ رفتار 120سے 140کلومیٹر فی گھنٹہ ٹھہری۔ مورگاہ، سواں کیمپ، روات، مندرہ، گوجرخان سے قافلہ سرپٹ گزر گیا۔ پورے این اے52 میں چوہدری نثار علی خان کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کی جماعت مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کے استقبال اور انہیں الوداع کہنے کو کوئی موجود نہ تھا۔ اپنی بساط کے مطابق ممبر صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی5 انجنیئر قمرالاسلام راجہ اور راولپنڈی تحصیل کے جنرل سیکرٹری قاسم مشتاق کیانی نے کچھ کوشش ضرور کی اور پہلے روز اچھا خاصہ ہجوم اکٹھا کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے اگر علاقے کے منتخب چئیرمین بھی اپنے ایم پی اے کا ساتھ دیتے تو شو مزید بہتر ہو سکتا تھا مگر چئیرمین تو باج گزار ہیں چودھری نثار علی خان کے وہ ان کی مرضی کے بغیر سانس بھی مشکل سے لیتے ہیں بے چارے ۔خیر صرف چند یوم قبل روات میں ایک بڑا جلسہ کروانے والے چوہدری نثار علی خان اس روز شدید کمر درد کے باوجود اسمبلی کے اجلاس میں شریک رہے اور اپنے قائد کو الوداع کہنے کے لیے اپنے ووٹروں کو قطعاً متحرک نہ کیا۔ جب چوہدری نثار علی خان کی اس بے رخی اور بے حسی پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر تبصرے شروع ہو گے تو موصوف کے ترجمان کے ایک بار پھر الیکٹرانک میڈیا پر ٹکر چلنے شروع ہو گئے۔ کہ حقیقت میں مسلم لیگ ن کی 90فیصد سینئر قیادت نے ریلی میں شرکت نہیں کی تو پھر میڈیا صرف مجھے کیوں زیر بحث لا رہا ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ 90فیصد سینئر قیادت میں سے کسی نے یہ بیان بھی تو نہ دیا تھا کہ حالات خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں نواز شریف کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہوں گا۔ مگر آج جب حالات پر غور کرتا ہوں اور چوہدری نثار علی خان کے اس وقت کہےگے اس جملے کی گہرائی میں جھانکتا ہوں تو وہ مجھے بالکل سچے اور کھرے دکھائی دیتے ہیں۔ اس لیے کہ انہوں نے چٹان کی طرح کھڑا رہنے کا بیان دیا تھا۔ اور وہ واقعی چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔ انہوں نے اپنی جگہ سے ذرا برابر بھی حرکت نہیں کی اس لیے کہ چٹان حرکت نہیں کیا کرتی۔ اس چٹان سے آپ اپنا سر ٹکرا ٹکرا کے پھاڑ سکتے ہیں۔ مگر اسے اپنی جگہ سے حرکت کرنے پر مجبور اور مائل نہیں کر سکتے۔ اس لیے کہ ہلا نہیں کرتی چٹان۔ اب اگر کمردرد جو موضوع بحث بنا ہوا ہے میڈیا میں اس پر مختصراً بات کریں تو عارف کھڑی شریف میاں محمد بخش سے منسوب ایک قطع یاد آتا ہے۔

کوئی کہندا پیڑ لکے دی
کوئی کہندا چک
اصل گل محمد بخشا
وچوں گئی اے مک

اس پر میں مزید تبصرہ اس لیے نہیں کرنا چاہوں گا کہ سمجھنے والے اور میرے پڑھنے والے بہت سمجھدار ہیں۔ خود سمجھ گئے ہوں گے کہ جب چٹان اپنی جگہ سے سرکنے پر آمادہ نہ ہو اور اسے عبور کرنا ناممکنات میں سے ہو تو مسافر راستہ بدل لیا کرتے ہیں اس کے ساتھ ٹکریں مار مار کر اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔

طارق بٹ

SHARE

LEAVE A REPLY