امریکی قانون ساز کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے افغانستان کو دی جانے والی امداد کو ڈیورنڈ لائن کی تسلیم سے مشروط کرنے کی ضرورت ہے۔

کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ بریڈ شرمین نے جمعرات (7 ستمبر) کے روز جنوبی ایشیاء میں امریکا کا اثرو رسوخ قائم رکھنے کے لیے ہونے والی ایک سماعت میں افغانستان کی امداد کو مشروط کرنے کا مطالبہ کیا۔

قانون ساز بریڈ شرمین عموماً پاکستان کی جانب سخت رویہ رکھتے ہیں جبکہ یہ پہلا موقع ہے جب خارجہ امور ہاؤس کی ذیلی کمیٹی میں کسی قانون ساز نے ایسی تجویز پیش کی۔

اسی موقع پر ایک سینئر امریکی عہدے دار — اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے جنوبی و وسط ایشیائی امور ایلس ویلز نے پاکستان کو یاددہانی کرائی کہ افغانستان میں بھارت کا مفاد بھی اتنا ہی ’اصل اور قانونی‘ ہے جتنا کہ پاکستان کا مفاد۔

قانون ساز بریڈ شیرمین نے اپنی تجویز کے ساتھ افغانستان میں بھارت کے بڑھتے اثرو رسوخ کے نتیجے میں پاکستان کے مفاد اورر خدشات پر بھی اظہار خیال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود سرحد — ڈیورنڈ لائن کو افغان حکومت کی جانب سے تسلیم نہیں کیا گیا ہے‘۔

بریڈ شیرمین نے وضاحت دی کہ ’مجھے اندازہ ہے کہ ایسا کرنا مشکل ہے، وہ کہیں گے ایسا نہ کریں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک افغانستان ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہ کرکے پاکستانی علاقوں پر دعویٰ کرتا رہے گا، پاکستان کو شامل کرنا بہت مشکل ہوگا، اور ہمیں افغان طالبان پر کنٹرول کے لیے پاکستان کی ضرورت ہے‘۔

خیال رہے کہ 2430 کلومیٹر طویل ڈیورنڈ لائن پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد ہے جو 1896 میں قائم ہوئی تھی، تاہم افغانستان اسے تسلیم نہیں کرتا اور اکثر بھارت بھی افغانستان کے اس دعوے کی حمایت کرتا ہے۔

کانگریس مین شرمین نے بتایا کہ کس طرح کابل کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے سے انکار اور بھارت کا اس معاملے پر مبہم مؤقف پاکستان کے خدشات میں اضافے کا سبب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان بھارت کو اپنے دشمن کی نظر سے دیکھتا ہے اور بھارت کے افغانستان جیسے ملک (جو سرحد کو تسلیم نہیں کرتا) سے بڑھتے ہوئے تعلقات اسلام آباد کی تشویش میں اضافہ کرتے ہیں‘۔

واضح رہے کہ دو اہم گواہان ایلس ویلز اور بین الاقوامی ترقی کی امریکی ایجنسی میں قائم مقام اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر رہنے والی گلوریا اسٹیل نے اس تنازع پر کوئی بات نہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY