مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماء چودھری نثار نے کہا ہے کہ فوج سے ہماری کوئی محاذ آرائی نہیں ہے، فوج کا پانامہ معاملے سے تعلق نہیں ہے نا ہی فوج نے کوئی کردار ادا کیا، سپریم کورٹ سے محاذ آرائی کر کے کوئی سیاسی مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکتے، کسی نے نواز شریف سے کابینہ میں ہونیوالی باتیں لیک کر دیں، کابینہ میں ہونیوالی باتیں جس نے لیک کی اس نے اپنے انداز میں کی میں نے کچھ اور باتیں بھی کی تھیں، میری کی ہوئی تمام باتیں اگر لیک ہو جاتی تو شاید میری پرسنلٹی بلڈنگ ہوتی۔
چودھری نثار کا کہنا تھا کہ کابینہ میں نواز شریف سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا، نواز شریف کے سامنے ہر طرح کے معاملات ون ٹو ون رکھتا تھا، 2013ء کے بعد نواز شریف کے چہرے پر متعدد بار ناراضگی دیکھی، 2013ء تک نواز شریف کے چہرے پر کبھی ناراضی نہیں آئی، 1985ء سے 2013ء تک بہت اونچ نیچ آئی مگر کبھی ناراض نہیں ہوا، 1985ء سے نواز شریف سے قریبی واسطہ رہا، دشمنیوں کو بھی لمبا نبھاتا اور دوستیوں کو بھی بہت لمبا نبھاتا ہوں، میرے ناقدین الزام لگاتے ہیں کہ مغرور ہوں، اپنی سیاسی اور عام زندگی اسلام کی روش پر چلانے کی کوشش کی ہے۔
نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں چودھری نثار کا کہنا تھا کہ میرے حلقے کے عوام نے ہمیشہ ساتھ دیا، میرے حلقے کے عوام 1985ء سے مجھ پر اعتماد کرتے آئے ہیں، میں تنہائی پسند ہوں، شادیوں میں نہیں جاتا، میں نے ڈسپلن اور وقت کی پابندی فوج سے سیکھا، فوجی ماحول میں پلنے بڑھنے سے اثر تو ہوتا ہے، میں کنٹونمنٹ بورڈ کے ماحول میں پلا بڑھا، میرا خاندان چار پشتوں سے فوج میں ہے، میرے والد پاک فوج میں اعلیٰ عہدے پر تھے، مجھے فخر ہے کہ میرا خاندانی پس منظر فوجی ہے۔
چودھری نثار کا مزید کہنا تھا کہ ریکارڈ پر ہے کہ میں نے جنرل مشرف کیخلاف بیان دیا، مشرف نے جب کو کیا تو میں انکے خلاف کھڑا ہو گیا اور نظر بند کیا گیا، جنرل مشرف سے اس وقت سے تعلق ہے جب وہ کرنل تھے، نظر بندی کے دوران مشرف نے ملاقات کیلئے خواہش ظاہر کی جس پر انہیں انکار کیا، جنرل بیگ سے اچھے تعلقات تھے اور ہیں مگر حکومت کی خاطر ایک بیان دیا جس کے بعد میرے تعلقات خراب ہو گئے، وہی لوگ تنقید کرتے ہیں کہ میں فوج کا آدمی ہوں جن کے پاس تنقید کرنے کیلئے کچھ اور نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے کبھی کسی سے لائن نہیں لی، وزارت خزانہ والے ہمیں لکھتے تھے کہ ایان علی کا نام ای سی ایل میں ڈال دیں ہم ڈال دیتے تھے، وہ کہتے تھے نکال دیں ہم نکال دیتے تھے، ایان علی کا کیس وزارت داخلہ کے پاس نہیں بلکہ وزارت خزانہ کے پاس تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY