پاناما کیس میں نظر ثانی کی تمام درخواستوں کو سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا ہے اور اس پانچ رکنی بنچ کے پہلے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے
یہ سماعت فقط ڈھائی دن جاری رہی اور نواز شریف فیملی کے وکلا کوئی نئی بات سامنے نہ لا سکے
آج سماعت کے دوران وکیل سلمان اکرم راجانے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس فائل ہونے سے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے۔
جسٹس عظمت سعیدنے کہا کہ یقین دلاتے ہیں کہ شفاف ٹرائل پر سمجھوتا نہیں ہو گا۔
سلمان اکرم راجا جے آئی ٹی رپورٹ میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا فلیٹ سے تعلق سامنے نہیں آیا۔
جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ یہ بات درست نہیں ہے کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا کوئی تعلق نہیں،برٹش ورجن آئی لینڈ نے مریم نواز کو مالک قرار دیا۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ کیپٹن ریٹائرڈصفدر نے بطور گواہ ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کیے۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے پہلے لندن فلیٹ کے تعلق سے انکار کیا تھا،جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق مریم نواز لندن فلیٹ کی بینیفیشل مالک ہے،معاملے کی تحقیقات ہونے دی جائے۔
نواز شریف کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجانے کہا کہ انکوائری ہونی چاہیے تھی ریفرنس کا کیوں کہہ دیا۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہکیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق بیان دیا ہے،کیپٹن صفدر کا کچھ نہ کچھ تعلق ضرور ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر مریم نواز کے شوہر ہیں، یہ مناسب نہ ہوتا کہ ہم اس مرحلے پر کوئی آبزرویشن دے دیتے













