سترہ ستمبر 1974استاد امانت علی خان نے وفات پائی

0
209

پٹیالہ گھرانے کے مشہور کلاسیکل گلوکار۔ 1922ء میں ہوشیار پور پنجاب میں پیدا ہوئے۔اپنے بھائی فتح علی خان کے ساتھ جوڑی کی صورت میں مختلف محافل میں اپنے فن گائیکی کے جوہر دکھاتے رہے اور بعد ازاں ریڈیو پاکستان پر موسیقی کے پروگراموں میں بھی شریک ہونے لگے۔

منفرد انداز استاد امانت علی خان نے غزل گائیکی کو اپنے منفرد اندازمیں پیش کرکے بہت جلد اپنے ہم عصرگلوکاروں، جن میں استاد مہدی حسن خان،استاد غلام علی اور اعجاز حضروی شامل ہیں،میں اپنا ایک الگ مقام اور شناخت بنائی۔
موسم بدلا رُت گدرائی اہل جنون بے باک ہوئے ہونٹو ں پہ کبھی ان کے میرا نام بھی آئے انشا جی اٹھو اب کوچ کرو
اور ایسے بے شمار لازوال گیت اور غزلیں آج بھی شائقین موسیقی میں بے حد مقبول ہیں جب کہ ان کے گائے ہوئے ملی نغمے اب بھی ان کے منفرد انداز گائیکی کے ساتھ وطن پرستی کا درس دیتے ہیں۔

ان دنوں ان کے بیٹے شفقت امانت علی جدید اور کلاسیکی موسیقی کے امتزاج کے ساتھ گلوکاری میں مصروف ہیں ۔

استاد امانت علی خان کا انتقال 52 سال کی عمر میں17 ستمبر، 1974ء میں ہوا۔

SHARE

LEAVE A REPLY