فرانس، برطانیہ اور امریکا سمیت سات مختلف ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے میانمار میں جاری تشدد کے معاملے پر غور کرے۔

یہ بات خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اپنے ذرائع سے بتائی ہے۔ مصر، قزاقستان، سینیگال اور سویڈن سمیت یہ سات ممالک چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش میانمار کی فوج کی طرف سے ملکی ریاست راکھین میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کے بارے میں سلامتی کونسل کو آگاہ کریں۔

اقوام متحدہ اس ملٹری آپریشن کو ’’نسلی تطہیر‘‘ قرار دے چکی ہے جبکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے تو اسے ’’نسل کشی‘‘ کا نام دیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY