نقش الااللہ بر صحرا نوشت،سیدرضامہدی باقری

0
1367

نقش الااللہ بر صحرا نوشت
سطر عنوان نجات مانوشت
مظلوم کربلا امام حسین ابن مولا علی علیہم السلام کو وارث انبیاء و مرسلین اس لۓ کہا جاتاھےکہ ان کا قیام دراصل ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں اور رسولوں کی تبلیغ ، محنت اور پیغام ربانی کا ترجمان وپاسبان تھاجبکہ یزید قابیل، نمرود ،فرعون، ہامون و قارون کے ظلم واستبداد کا نمائندہ تھااور اس کی سفاکانہ جارحیت وسامراجیت اس کے اسلاف کے نظریات وعقائد کی آئینہ دار تھی۔
جب دین،رسالت اور سرکار ختمیء مرتبت صلیٰ اللہ علیہ وآلہ کا مذاق اڑایا جانے لگا،وحی اورتوحید الہٰی کو بنی ہاشم کا اقتدار واختیار کے لۓ رچایاگیا ڈھونگ قرار دے دیاگیااورجب قصرہاۓ معدلت منہدم کۓ جانے لگے اور حقوق نوع انسانی کی شاہ رگ کاٹی جانے لگی تو کرہء ارض پر سواۓ مولا حسین علیہ السلام کے کون تھا جو اپنی شاہ رگ کے خون سے دین حق کی رگوں میں زندگی کی لہر دوڑاتا اور انساینت کو یزیدی حیوانت سے بچاتا۔
اس حالت میں حسین۴ آگے بڑھے اور بیعت فاثق کے بتوں کو پاش پاش کرتے ہوۓ ایک” انکار” کو غیرت مند انسانوں کا نعرہء انقلاب بنا دیا ۔ اسی معرکہء عظیم کو اقبال نے بتایا کہ سیدالشہداء نے کلمہء طیّبہ لا الہ الااللہ کانقش صحرا کی ریت پر تحریر کرکے میری نجات کا سامان کردیا۔۔۔ امام کے قیام اور اس کے اثرات پر صدیوں سے لکھا جارھا ھے اور تابد لکھا جاتا رھے گا۔یہ دنیا بھر کے حریت پسند اور ظلم و ستم کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کا مستقل عنوان رھا ھے اور رھےگا
ارض وسماں نے آج تک بہتّر جاں نثاروں کو ہزاروں کے لشکر سے ٹکرا جانے اور اپنے لہو سے انسانی حقوق اور توحید ربانی کا آئین تحریر کرکے ولایت الہٰیّہ و نبویّہ وحیدریہ کا انمٹ نقش مرتسم کرتے سواۓ کربلا کے اور کہیں نہیں دیکھا۔ یہ عظیم ترین قربانی ہر باغیرت و حمیّت شخص کے دل ودماغ کا اثاثہ اور ہمت و حوصلے کا خزینہ ھے۔
قیام امام عالیمقام کو سمجھنے کے لۓ شہزادہ علی اکبر کے ایک مقام کہے گۓ یہ الفاظ کہ “ھم حق پر ہیں تو پھر موت ھمارے لۓ شہد سے زیادہ شیریں ھے۔۔۔اب موت ہم پر گرے یا ھم موت پر اس کی کوئی پرواہ نہیں” بہت گہرے ، فکرانگیز اور فیصلہ کن نظر آتے ہیں۔
ہم جس عہد ناپرساں میں زندگی کے زندان میں مقید ہیں حسینی تحریک ہی کسی روشن صبح کی سمت لے جا سکتی ھے۔ فرقہ واریت اور مذہبی عصبیّت دراصل حسینیّت کی صریح ضد ھے۔ ہم عزاداریء شہیدان کربلا کے ذریعہ وہ انقلاب برپا کرسکتے ہیں جس کے نتیجہ میں غربت بیماری ناداری آمریت سرمایہ داری اور وڈیراشاہی سے نجات مل سکتی ھے۔ یہ استحصالی طاقتیں ہیں جو غریبوں اور بے آواز عوام کو فرقوں میں تقسیم کرکے اور شدت پسندی و دہشت گردی کو ہوا دیتی ہیں۔اس مکروہ مہم میں مقامی اور عالمی قوّتیں برابر کی شریک ہیں ۔جیسے ہی ایام عزا کا آغاز ہوتا ھے نفرت انگیز پروپیگنڈا شروع کردیا جاتا ھے جو نہ صرف امن وامان کے مسائل پیدا کرتا بلکہ کربلا کے انقلابی کردار سے توجہ ہٹانے اور استحصال و استبداد کے نظام کو جاری رکھنے میں معاون و مددگار ثابت ہوتا ھے۔ اسی لۓ ھم کہتے ہیں کہ
“حسین سب کا ، حسین رب کا ”
اس پیام محبت یعنی پیام حسین علیہ السلام کے ساتھ جوش ملیح آبادی اشعار کااشتراک میرے موضوع کو زیادہ واضح کر دے گا
“یوں چلی کشتیءقلزم شکن تشنہ لباں
تھم گیا شور ہوا،رک گئی نبض طوفاں
انکسار دل شبیر نے زہ کی جو کماں
ہاتھ بھر منہ سے نکل آئی تکبر کی زباں
پشتہء دجلہء طغیان ستم ٹوٹ گیا
ناؤ ٹکرائی تو گرداب کادم ٹوٹ گیا
تاج نے آل محمد پہ جو روکا پانی
پیاس کے ابر سے یوں ٹوٹ کے برسا پانی
بے دھڑک قصر حکومت میں در آیا پانی
ہوگیا سرسے شہنشاہ کے اونچا پانی
تاجداری مع اورنگ و نگیں ڈوب گئی
آسماں سے جو لڑی تھی وہ زمیں ڈوب گئی”
آئیے مقصد حسینی کو سمجھنے اور آگے بڑھانے کی تحریک کا حصہ بنیں
سیدرضامہدی باقری

SHARE

LEAVE A REPLY