انتخابات کا تیسرا مرحلہ: مودی کا اپوزیشن پر ’ووٹ جہاد‘ کا الزام اور پاکستان کا ذکر

0
591

بھارت میں 18ویں پارلیمان کی تشکیل کے لیے سات مرحلوں پر مشتمل انتخابات کے تیسرے مرحلے میں سات مئی کو 12 ریاستوں کے 94 حلقوں میں پولنگ ہو گی۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن پر ’ووٹ جہاد‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

جن ریاستوں میں پولنگ ہوگی ان میں مہاراشٹرا، اترپردیش، گجرات، کرناٹک، مدھیہ پردیش، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، گوا، مغربی بنگال، دادر اینڈ نگر حویلی اور دمن اینڈ دیو شامل ہیں۔ پہلے اور دوسرے مرحلے میں 19 اور 26 اپریل کو ووٹ ڈالے جا چکے ہیں۔

تیسرے مرحلے میں بی جے پی کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کا ہوم اسٹیٹ گجرات بہت اہم ہے۔ وہاں بی جے پی 1995 سے مسلسل برسراقتدار ہے۔ نریندر مودی اور امت شاہ نے وہاں متعدد ریلیاں کی ہیں۔

‘ووٹ جہاد’

تجزیہ کاروں کے مطابق وزیرِ اعظم مودی ہر مرحلے سے قبل نئے نئے الزامات لگاتے ہیں۔ انھوں نے تیسرے مرحلے کے موقع پر اپوزیشن پر ’ووٹ جہاد‘ کا الزام لگایا ہے۔ مودی کے بقول ہم پہلے ‘لو جہاد’ اور ‘لینڈ جہاد’ سنتے آئے ہیں اب ووٹ جہاد شروع کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید کی بھانجی اور سماج وادی پارٹی کی رہنما ماریہ عالم نے 30 اپریل کو اترپردیش کے شہر قائم گنج میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ جہاد کے طور پر ووٹ دیں۔ کیوں کہ ووٹ کے ذریعے ہی مودی حکومت کو ہٹایا جا سکتا ہے۔

ان کے اس بیان پر ان کے اور سلمان خورشید کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے۔ سلمان خورشید نے جمعرات کو کہا کہ انھوں نے لفظ ‘جہاد’ بولا بھی نہیں تھا اس کے باوجود ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

جنسی اسکینڈل کی گونج

بی جے پی کے لیے ریاست کرناٹک بھی بہت اہم ہے جو کہ گزشتہ برسوں میں جنوب میں اس کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اور اب جہاں کانگریس کی حکومت ہے۔ وہاں 28 لوک سبھا حلقوں میں سے 14 پر 26 اپریل کو دوسرے مرحلے میں پولنگ ہو چکی ہے۔ بقیہ 14 حلقوں میں تیسرے مرحلے میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ریاست میں بی جے پی کو 2019 میں 25 نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔

لیکن اس بار ایک تو وہاں کانگریس کی حکومت ہے اور دوسرے ہاسن لوک سبھا حلقے سے بی جے پی کی حلیف پارٹی جنتا دل ایس کے امیدوار سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کے پوتے اور سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارا سوامی کے بھتیجے پرجول ریونّا کے مبینہ جنسی اسکینڈل کی وجہ سے بی جے پی کو نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔

پرجول ریونا 2019 میں ہاسن سے کامیاب ہوئے تھے۔ ان پر درجنوں خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کے الزامات ہیں۔ اس سلسلے میں تقریباً تین ہزار ویڈیوز وائرل ہیں۔ ہاسن میں 26 اپریل کو ووٹ ڈالے جا چکے ہیں اور وہ 27 اپریل کو مبینہ طور پر فرار ہو کر جرمنی چلے گئے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY