پارلیمنٹ کے اجلاس میں وزیراعظم کی غیرموجودگی پر اپوزیشن نے احتجاج کیا

0
544

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے معاملے پر پارلیمنٹ کے اجلاس میں وزیراعظم کی غیرموجودگی پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور اسپیکر سے درخواست کی کہ وزیراعظم عمران خان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر پاکستان کی جانب سے حکمتِ عملی پر غور کے لیے پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہے۔

اپوزیشن نے درخواست میں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان پارلیمنٹ کے اجلاس سے مسنگ ہیں،اسپیکر قومی اسمبلی پارٹی وابستگی سے بالادست ہو کر رول 108 کے تحت عمران خان کےپروڈکشن آرڈر جاری کریں۔

 بھارتی حکومت کی جانب سے آئین میں کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس شروع ہوتے ہی ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا اور اسپیکر نے اسے 20 منٹ کے لیے ملتوی کردیا۔

خیال رہے کہ پارلیمان کا مشترکہ صدر مملکت عارف علوی نے طلب کیا تھا، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر بھی شریک ہوئے جنہوں نے بازو پر سیاہ پٹی باندھ رکھی تھی۔

اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن سے کیا گیا، قومی ترانے کے بعد وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے قرار داد پیش کی جس میں بھارتی فورسز کی جانب سے شہری آبادی کو بلا اشتعال فائرنگ اور شیلنگ سے نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافے کا ذکر شامل تھا۔

تاہم اس قرار داد میں بھارت کی جانب سے ختم کی گئی مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کی دفعہ 370 کا ذکر نہ ہونے پر اپوزیشن اراکین نے احتجاج شروع کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیلئے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ قرارداد میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کا ذکر ہی نہیں اس کو شامل ہونا چاہیے۔

مذکورہ مطالبے کی وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے بھی تائید کی، جس کے بعد اسپیکر اسد قیصر کی ہدایت پر اعظم سواتی نے ترمیم شدہ قرارداد ایوان میں پڑھتے ہوئے اس میں آرٹیکل 370 کا ذکر شامل کیا۔

تاہم اپوزیشن نے احتجاج جاری رکھا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور کسی بھی حکومتی رکن کو بات کرنے نہیں دی، جس کے بعد اسپیکر نے 20 منٹ کے لیے ایوان کا مشترکہ اجلاس ملتوی کردیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز بھی منعقد ہوا تھا تاہم قرآن کی تلاوت اور قومی ترانہ کے بعد فوری طور پر یہ کہہ کر ملتوی کردیا گیا تھا کہ ‘حالیہ واقعات کی روشنی میں اسمبلی کا معمول کے مطابق اجلاس نامناسب ہے‘۔

مزید پڑھیں: ’بی جے پی سرکار نے انتخابات جیتنے کے زعم میں خطرناک کھیل کھیلا ہے‘

خیال رہے کہ گزشتہ روز بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری وہ پہلے اپوزیشن رہنما تھے جنہوں نے فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

’وزیراعظم مسئلہ کشمیر پر عالمی سطح پر رابطے کررہے ہیں‘

وقفے کے دوران وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن ہمیں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان کا بچہ بچہ کشمیر کا مقدمہ لڑ رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، پاکستان اور کشمیر لازم و ملزوم ہیں، پاکستان کشمیر کے بغیر ادھورا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہونے والے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے کشمیریوں کی امیدیں وابستہ ہیں اور اس ایشو پر حکومت اپوزیشن نے مل کر بے گناہ کشمیریوں کی سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان بین الاقوامی سطح پر رابطے کررہے ہیں اور مختلف ممالک کے سربراہان سے بات چیت کررہے ہیں تا کہ متعلقہ عالمی فورمز پر کشمیر کا مقدمہ بہتر طریقے سے پیش کیا جائے جس کے بارے میں وہ آج پارلیمان کو اعتماد میں لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی عوام کا کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی

انہوں نے بتایا کہ اعظم سواتی کی پیش کردہ قرارداد میں بھارت کو نشانہ بنایا گیا تھا لیکن اگر اپوزیشن کی خواہش ہے کہ قرارداد میں کشمیر کی حثیت کا ذکر کیا جائے تو حکومت اس میں دفعہ 370 کی منسوخی کے معاملے کو شامل کرنے کی خواہش کا احترام کرے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا مذکورہ قرارداد میں کشمیر کے مسئلے پر ہمارا دوٹوک، باہمی یکجہتی اور اتفاقِ رائے پر مبنی موقف پارلیمان کے ذریعے دیا جائے گا جبکہ کل بھی اپوزیشن نے پاکستان کے بیانیے کی تائید کی تھی جس پر میں نے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔

‘حکومت کی پالیسی پر شدید اختلاف رکھتے ہیں‘

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ‘کشمیر کی حرمت کے لیے پاکستان کا بچہ بچہ قربانی دینے کے لیے تیار ہے لیکن ہمارا پالا نااہل حکومت سے پڑا ہے جو اس اہم موقع پر لوگوں کو متحد رکھنے میں ناکام رہی۔’

انہوں نے کہا کہ ‘بھارت نے یکطرفہ طور پر وہ قدم اٹھایا جس کی اسے 72 سال میں جرات نہ ہو سکی، مودی سرکار نے اقوام متحدہ کی قرارداد کے فیصلے کو ردی میں پھینکنے کی کوشش کی، بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی، بھارت کے اتنے بڑے اقدام کا ذکر قرارداد میں نہ ہونے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا۔’

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے گرفتار اراکین کے پروڈکشن آرڈر کو بھی مسئلہ نہیں بنایا لیکن ہمارے لیے حکومت کی پیش کردہ قرارداد ناقابل قبول تھی، حکومت نے اپوزیشن کے احتجاج کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی جبکہ حکومت ایوان کو تقسیم رکھنا چاہتی ہے تو اس کا فیصلہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان اسمبلی کا کشمیر کے لیے خصوصی اجلاس بلایا گیا، ہم جاننا چاہتے ہیں کہ بھارت کے اقدام کو قرارداد میں کس نے چھپایا، کارروائی شروع ہوئی تو وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ایوان میں موجود نہیں تھے، جاننا چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم کے لیے اس سے بڑی مصروفیات کیا ہیں؟’

احسن اقبال نے کہا کہ ‘معاملے پرغیر ملکی سفرا کو بلا کر ریڈ فلیگ بلند کیا جاتا کہ پاکستان کا موقف اس پر یہ ہے، بھارت میں غیر ملکی سفیروں کو بریفنگ دی گئی، پاکستان میں ایسا نہیں کیا گیا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیر خارجہ خصوصی طیارے پر آکر اراکین پارلیمنٹ کو بریفنگ دے کر واپس حج پر چلے جاتے۔’

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کہتے تھے کہ امریکا سے ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں، وزیر اعظم کے دورے کا نتیجہ یہ ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت بدل دی؟ جبکہ بھارت نے فروری میں ہی امریکا کو اپنے اقدام سے آگاہ کر دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسی پر شدید اختلاف رکھتے ہیں، ہم اختلاف کریں گے کیونکہ یہ نااہل حکومت ہے جبکہ اپوزیشن حکومت سے بڑھ کر کشمیر کامقدمہ لڑے گی۔’

آرٹیکل 370 منسوخی کا معاملہ

واضح رہے بھارتی حکومت نے گزشتہ روز صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

خصوصی آرٹیکل ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا، جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

بھارتی آئین کی دفعہ 35 ‘اے’ کے تحت وادی سے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کر سکتے ہیں، یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔

اس قانون کے خاتمے کی بھارتی حزب اختلاف اور کشمیر کے حریت رہنماؤں نے شدید مذمت کرتے ہوئے اس دن کو بھارتی جمہوریت کے لیے سیاہ ترین دن قرار دیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان نے بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق اعلانات کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کیا تھا۔

دفتر خارجہ سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ بھارتی حکومت کا کوئی یک طرفہ اقدام متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY