ملک کی تین بڑی سیاسی پارٹیوں نے چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کے وکلاء کے مطالبے کو مسترد کردیا۔

جیو نیوز کے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘ میں تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر، ن لیگ کے خرم دستگیر اور پیپلز پارٹی کے ناصر شاہ نے شرکت کی۔

پروگرام کے دوران ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا مختلف بارز کا مطالبہ مسترد کیا۔

بیرسٹر علی ظفر نےکہا کہ اگرالیکشن کمیشن کوئی غلط فیصلہ کرتا ہے تو اس پر تنقید کی جاتی ہے، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ سیاسی ہے مگر اس کی قانونی حیثیت نہیں۔

پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ استعفیٰ کا مطالبہ جائز ہے مگر یہ وقت غلط ہے، ہم انتخابات کے موقع پر کوئی بحران پیدا نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی جارہی، الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کرانا ہے، بطور ادارہ اس کی عزت کرنی چاہیے۔

خرم دستگیر نے کہا کہ چیف الیکشنز کے خلاف الزامات مبہم ہیں، اگر واضح شواہد ہیں تو سامنے لائے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی مدت 2025 تک ہے، جن کا نام بانی پی ٹی آئی نے دیا تھا۔

ناصر شاہ نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنرکو اس وقت ہٹانا انتخابات ملتوی کرنے کا جواز بن سکتا ہے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار نے الیکشن کمیشن اور موجودہ چیف الیکشن کمشنر پر تحفظات کا اظہار کردیا۔

پاکستان بار کونسل نے عام انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کیلئے یکساں مواقعوں کی فراہمی پر زور دیا ہے ، بار کونسل نے الیکشن کمیشن کے انتخابی طریقہ کار، حلقہ بندیوں اور نشستوں کی تقسیم پر سوال اٹھا دئیے۔

بار کونسل کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ موجودہ الیکشن کمیشن کی موجودگی میں شفاف انتخابات نہیں کرائے جا سکتے، جہلم، گجرانوالہ اور ضلع راولپنڈی میں نشستوں کی تقسیم میں عدم توازن دیکھا گیا، آبادی کے تناسب سے موجودہ حلقہ بندیاں انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح ہے کہ کمیشن کا طرز عمل عام انتخابات کی سالمیت کے بارے میں سنگین شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے، ان حالات کی روشنی میں الیکشن کمیشن ان نازک معاملات پر آنکھیں بند نہیں کر سکتا، پاکستان بار کونسل مطالبہ کرتی ہے کہ سپریم کورٹ کو کمیشن کے ہر عمل کی توثیق کرنے کے بجائے ان تضادات کا نوٹس لینا چاہیے۔

اعلامیے کے مطابق بار کونسل کا پختہ یقین ہے کہ بنیادی مقصد محض انتخابات نہیں ہے بلکہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات ہوں، تمام سٹیک ہولڈرز کو یکساں مواقع فراہم ہونے چاہئیں ، سپریم کورٹ بار کی مشاورت سے وکلاء تحریک کے لیے لائحہ عمل کا اعلان کرنے کے لیے جلد ہی ایک آل پاکستان نمائندہ کنونشن بلائے گا۔

اعلامیہ کے مطابق وکلاء کنونشن کا مقصد آزادانہ، منصفانہ اور شفاف عام انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا ہے، شفاف انتخابات موجودہ چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان کی موجودگی میں ممکن نہیں، بار کونسل جمہوری اصولوں کو برقرار رکھنے کے لیے انتخابی عمل میں شفافیت کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔

سپریم کورٹ بار نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ، سپریم کورٹ بار اعلامیے کے متن میں کیا گیا ہے کہ انتخابات 8 فروری کو ہی ہوں لیکن تمام سٹیک ہولڈرز کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں، شکایات کو دور کیے بغیر محض انتخابی ٹائم لائن پر عمل کرنا استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY