خورشید شاہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا اپوزیشن لیڈر کو ہٹانے کی کوششیں جاری ہیں، اس عہدے کے لیے کوئی اور اہل ہے تو مجھے اعتراض نہیں۔ انہوں نے کہا ایمانداری سے سوا 4 سال گزارے، کارکردگی پرفخر ہے، چیئرمین نیب کی تقرری کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے، حکومت اور اپوزیشن لیڈر مل کر فیصلہ کرتے ہیں۔ خورشیدہ شاہ نے کہا یہ سب کچھ پارلیمنٹ کو ڈسٹرب کرنے کیلئے کیا جا رہا ہے، ہمیشہ اپوزیشن کومتحد اور ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی، یہ پہلی روایت ڈالی جا رہی ہے جس پر کوئی شکوہ نہیں۔
خورشید شاہ نے کہا 18 ویں ترمیم سے پہلے اپوزیشن لیڈرکا اختیار سپیکر کے پاس ہوتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ایکشن نے ہمیشہ نواز شریف کو مضبوط کیا، ایم کیو ایم کو پی ٹی آئی نے بہت برا بھلا کہا، عمران خان کا ایم کیو ایم کیخلاف کیا موقف رہا ہے، سب کو معلوم ہے۔ انہوں نے کہا تحریک انصاف ایم کیو ایم سے پہلے دل آزاری پر معذرت کرے، پی ٹی آئی والے اب اپنا تھوکا چاٹ رہے ہیں۔ پہلے ہی کہا تھا نوازشریف کو واپس آ کر عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیئے۔

مریم نواز نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ نواز شریف جانتے ہیں کہ یہ احتساب نہیں پھر بھی واپسی کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نواز شریف کی نہیں 20 کروڑ عوام کی جنگ ہے۔ مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ تبدیلی کی قیمت چکانے کے لئے ہمت اور بہادری درکار ہوتی ہے، ہر کوئی ایسا نہیں کر سکتا۔

SHARE

LEAVE A REPLY