پاناماجے آئی ٹی رپورٹ پرسماعت کل تک ملتوی ہو گئی

0
156

پاناماجے آئی ٹی رپورٹ پرسماعت کل تک ملتوی ہو گئی

اس سے قببل

وزیراعظم اور ان کے خاندان کے مالی اثاثوں کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی حتمی رپورٹ پر سپریم کورٹ میں دوسری سماعت کا آغاز ہوگیا، جہاں وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث دلائل دے رہے ہیں۔

جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کا 3 رکنی عمل درآمد بینچ مذکورہ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

گذشتہ روز سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل نعیم بخاری، جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف اور عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید نے دلائل مکمل کرلیے تھے۔

اپنے دلائل کے دوران پی ٹی آئی وکیل نعیم بخاری نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وزیراعظم نواز شریف کو عدالت طلب کیا جائے تاکہ ان سے جرح کی جاسکے، دوسری جانب سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) اور فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے وکلاء کو بھی عدالت طلب کیا تھا۔

آج جب پاناما لیکس کیس کی سماعت ہوئی تو وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کیا اور سپریم کورٹ کے 20 اپریل کا حکم نامے پڑھ کر سنایا، ان کا کہنا تھا کہ حکم نامہ پڑھنے کا مقصد یہ بیان کرنا تھا کہ جے آئی ٹی کو کس قسم کی تحقیقات سونپی گئی تھیں۔

خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی ممبران نے اپنی حدود سے تجاوز کیا اور ذاتی نوعیت کے سوالات پوچھے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ حدیبیہ پیپرز ملز کا فیصلہ ہائی کورٹ کرچکی ہے اور حدیبیہ کے حوالے سے بہت سے سوالات کا تعلق لندن فلیٹس کی ادائیگی سے نہیں، جبکہ التوفیق کیس میں وزیراعظم کا نام شامل نہیں۔

اس موقع پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ‘وزیراعظم کو پورا موقع دیا گیا لیکن انھوں نے کوئی چیز نہیں دی، ان سے لندن فلیٹس کا پوچھا گیا تو انھوں نے کہا معلوم نہیں، شاید حسن (نواز) مالک ہے، انھوں نے تو اپنے خالو محمد حسین کو بھی پہچاننے سے انکار کیا، سوچ یہ تھی کہ کچھ تسلیم نہیں کرنا، کچھ نہیں بتانا’.

پاناما انکشاف
پاناما لیکس کے معاملے نے ملکی سیاست میں اُس وقت ہلچل مچائی، جب گذشتہ سال اپریل میں بیرون ملک ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے ‘آف شور’ مالی معاملات عیاں ہو گئے تھے۔

پاناما پیپرز کی جانب سے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے، جس میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل تھے۔

ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق، پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں مریم، حسن اور حسین ’کئی کمپنیوں کے مالکان ہیں یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے‘۔

موزیک فانسیکا کے نجی ڈیٹا بیس سے 2.6 ٹیرا بائٹس پر مشتمل عام ہونے والی ان معلومات کو امریکی سفارتی مراسلوں سے بھی بڑا قرار دیا جا رہا ہے۔

ان انکشافات کے بعد اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا اور بعدازاں اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر سماعت کے بعد رواں سال 20 اپریل کو وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے جے آئی ٹی کو حکم دیا تھا کہ وہ 60 روز کے اندر اس معاملے کی تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے جس کی بنیاد پر حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔

جے آئی ٹی نے 2 ماہ کی تحقیقات کے بعد رواں ماہ 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کروائی تھی، 10 جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ میں وزیراعظم سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات لگاتے ہوئے مختلف شواہد سامنے لائے گئے تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY