ایران امریکا مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط ہوگئے: وزیراعظم کا اعلان

0
812

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر آج امریکا اور ایران کے درمیان باضابطہ طور پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نےایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دونوں ممالک کے معزز صدور نے دستخط کیے ہیں جبکہ بطور ثالث انہوں نے بھی اس کی توثیق کی ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی واضح علامت ہے کہ دونوں فریقین تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا ایران معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے اور ابتدائی قدم کے طور پر ایران نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے جبکہ امریکا نے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی حکام نے امریکی ویب سائٹ کو بتایا ہے کہ امریکا اور ایران نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر مقررہ وقت سے پہلے ہی دستخط کر دیے ہیں، اور یہ معاہدہ اب نافذ العمل ہو چکا ہے۔

امریکا اور ایران کے صدور نے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کیے ہیں۔

امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق معاہدے پر دستخط پہلے جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونا تھے، تاہم ایک ثالث ملک کے سفار تکار اور ایک دوسرے ذریعے نے بدھ کے روز بتایا کہ فریقین کے درمیان اس عمل کو پہلے مکمل کرنے اور جلد عملدرآمد شروع کرنے پر بات چیت جاری تھی۔

امریکی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ سفارتی ذرائع کے مطابق اس پیش رفت کا مقصد آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولنا تھا، کیونکہ دونوں فریق اس معاملے پر پہلے ہی متفق تھے۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں ایک وجہ وائٹ ہاؤس پر معاہدے کے متن کو جاری کرنے کے لیے بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم ایک ذریعے نے دعویٰ کیا کہ ایران نے شرط رکھی تھی کہ معاہدے کا متن باضابطہ دستخط سے پہلے جاری نہ کیا جائے، اور یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس کے دباؤ کا نتیجہ نہیں تھا۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے بدھ کے روز بریفنگ کال میں صحافیوں کو معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جس کے بعد کئی دنوں سے جاری ابہام ختم ہو گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY