امریکہ کے فضائی حملے طالبان کی افغانستان بھر میں پیش قدمی کو متاثر کر رہے ہیں تاہم پینٹاگان کے عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ صرف امریکی قوت عسکریت پسندوں کے حملوں کو پسپا کرنے کے لیے کافی نہیں ہو گی۔
وائس آف امریکہ کے لیے جیف سیلڈن کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کئی ہفتوں سے قطر میں واقع اپنے فضائی اڈے العدید اور خلیج فارس میں اپنے کیریئر اسٹرائیک گروپ سے طالبان کے اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگجوؤں پر حملے کے لیے اے 130 گن شپس اور ایم کیو نائن ریپر ڈرونز کی مدد لی جا رہی ہے۔
ایسے میں جب طالبان دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کے گروپ نے گزشتہ پانچ دنوں میں سات صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے، امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے مؤثر ہونے کے بارے میں کئی سوالات موجود ہیں۔
منگل کو طالبان نے ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کا آٹھواں صوبائی دارالحکومت (بدخشاں صوبے کا دارالخلافہ فیض آباد) بھی قبضے میں آنے والا ہے۔
پینٹاگان کے پریس سیکریٹری جان کربی نے کہا ہے کہ ہم بہت پر اعتماد ہیں کہ ہمارے فضائی حملے انہی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں جنہیں ہم نشانہ بنانا چاہتے ہیں اور اس کے طالبان پر اثرات ہوں گے۔کربی نے تسلیم کیا کہ صرف امریکی حملے طالبان جنگجوؤں کو دور رکھنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ افغان فورسز اپنے ملک کے دفاع کی اہلیت و صلاحیت رکھتی ہے اور ان کی عددی قوت بھی زیادہ ہے۔ اب یہ افغان قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان صلاحیتوں کو استعمال میں لائے۔
ادھر وائٹ ہاؤس میں صدر جو بائیڈن نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 31 اگست تک امریکی انخلا مکمل کرنے پر نظر ثانی نہیں ہو گی اور افغان فورسز کو لڑائی کے لیے خود کو تیار کرنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ “ہم نے 20 برسوں کے دوران افغانستان میں ایک ٹریلین (دس کھرب) ڈالر سے زیادہ خرچ کیے ہیں۔ ہم نے تین لاکھ افغان فورسز کو تربیت دی اور انہیں جدید سامان سے لیس کیا ہے، ان کی تعداد طالبان سے کہیں زیادہ ہے۔”
صدر بائیڈن نے کہا کہ افغان سیکیورٹی فورسز کو اپنے اور اپنی قوم کے لیے لڑنا چاہیے۔













