آج عید ہے اور ہمارے معاشرے میں رواج ہے کہ چھوٹے بچے بڑوں سے ا س دن عیدی کی آس لگائے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ چونکہ ا للہ سبحانہ تعالیٰ نے آپ کو بڑا بنا یا ہوا ہے اورآپ نے وہ کام بھی کیئے ہیں کہ پاکستان کی 71 سالہ تاریخ میں کسی چیف جسٹس نہیں کیئے، حتیٰ کہ مدینہ کی اسلامی حکومت کی یاد تازہ کرادی؟ آج مجھے بھی آپ بچہ ہی قیاس فرما لیں، کیونکہ کہتے ہیں کہ بوڑھے اور بچے ایک جیسے ہوتے ہیں؟ اور مجھے احساس ہے کہ میں اس کہاوت پر پورا اترتاہوں اس لیے کہ میں الحمد اللہ11 دسمبر کو اسی سال87 سال کا ہوجاؤں گا۔ مگریہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی مجھ پر مہربانی ہے کہ اس نے مجھے ابھی تک اس قابل رکھا ہے کہ میں آپ کے سامنے چند گزارشات پیش کر سکوں ؟اس لیے میں عیدی کے طور پر آپ سے اس عید کے روز خودبخود ایک نوٹس لینے کی درخوا ست کر رہا ہوں؟ جس سے پوری پاکستانی قوم ہی نہیں پورے عالمِ اسلام کا بھلا ہوگا اور آپ کی مغفرت کا سامان بھی ،کہ دستور میں یہ دفعہ پہلے دن سے موجود ہے کہ آئندہ کوئی قانون غیر اسلامی نہیں بنے گا؟ اور جو غیر اسلامی قوانین رائج ہیں، وہ دس سال کے اندر مشرف با اسلام کرلیئے جائیں گے؟ جو ابھی تک نہیں ہوئے ہیں؟۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کام صرف آپ ہی کرسکتے ہیں کیونکہ اس کے لیے کو ئی کچھ نہیں کریگا اور نہ اب تک کسی نے کیا ہے ؟ میرے اس دعویٰ کا ثبوت یہ ہے کہ 71 سال گزرگئے آج تک کسی نے کچھ نہیں کیا؟ کیونکہ ہم مسلمان کہلاتے توہیں مگر مسلمان بننا نہیں چاہتے ہیں کہ اس میں ہر ایک کو اپنی بہتری کے بجائے موت نظر آتی ہے کہ مسلمان بننے کےبعد ساری برائیں چھوڑنا پڑیں گی؟ لہذا وہ سب کچھ برداشت کرنے کو تیار ہیں، مگر عملی مسلمان بننے کو تیا ر نہیں ہیں ۔ اور علیٰ لاعلان کہتے ہیں کہ ہمیں اس اسلامی قانون سے بچاؤ اور اس اسلام قانون سے بچاؤ؟ویسے تو آپ سے زیادہ کون جانے گا ؟مگر میں یہ بقیہ قوم کو یاد دلائے دیتا ہوں کہ پاکستان اس نعرے کی بنا پر بنا تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ اللہ ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اسی دستور کے اندر جس سے وفاداری کا حلف ہر آنے واالا صاحبِ اختیار اٹھاتا ہے کہ“ میں اسکا پابند رہونگا اور اس کے مطابق کام کرونگا“ فقط وہیں نہیں بلکہ جس شاندار بلنڈنگ میں یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نمائندے بیٹھتے ہیں، جنہیں اب نہ صرف سب سے اعلیٰ ہو نے کا دعویٰ ہے اور اقتدارِ اعلیٰ جنکی مٹھی میں ہے ۔ اس کے درو دیوار پر بھی یہ ہی“ لا الہ اللہ“ لکھا ہوا ملے گا۔ جبکہ یہ بھی جس دستور کی پابندی کاحلف اٹھاتے ہیں ان کے پاس بھی دستور کی وہی کاپی ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ہوگی۔ مگر دیکھا یہ ہی گیا ہے کہ حلف اٹھانے کے بعد انہیں سب کچھ یاد رہتا ہے، مگر نہیں رہتا تو اللہ اور اس کا خوف؟ آپ اگر آپ اس تاریخ کو غلط ثابت کردکھا ئیں تو ہمیشہ تاریخ میں آپ کانام رہے گا۔ جبکہ وہاں جنت بھی تیار ملے گی ۔آپ کے لیے یہ کام کرنا مشکل بھی نہیں ہے۔ آپ کے رگوں میں جن بزرگوں کا خون ہے وہ میں جانتا ہوں کہ انہیں معلوم تاریخ سے مذہبی گردانا جاتا ہے اور انشا للہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ میں کیسے جانتا اسوقت بتاؤنگا جب کہ آپ ریٹائر ہوچکے ہونگے؟ کیونکہ اس وقت لوگ مجھے چاپلوس نہیں سمجھیں گے ؟ یہ میں اسلیے کہہ رہاہوں کہ میرا طویل تجربہ ہے کہ کرسی سے جانے بعدکوئی کسی کو یاد نہیں رکھتاہے؟ لوگ فوراً آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔
اب سوال یہ ہےکہ میں عیدی میں یہ عجیب تحفہ کیوں مانگ رہا ہے ہوں؟ وہ اس لیے کہ جب 1857ء کے بعد ملت نے محسوس کیا وہ اسوقت انتہائی پستی میں پہونچ چکی ہے؟ کیوکہ بہادر شاہ شہنشاہ ِعالم کی از دلّی تا پالم کی حکومت بھی ختم ہوچکی تھی؟ اس وقت کے علماء اور مسٹر دونوں سر جوڑ کر جہاں بھی بیٹھے انہیں ایک ہی اپنی خامی نظر آئی کہ ہم نے دین کو چھوڑدیا ہے ، جس میں حکم تھا کہ علم حصل کرو ؟چاہیں کہیں سے ملے؟ تاکہ جہالت دور ہو ، اور ہم اللہ کو پہچانیں اور اس کی نافرمانیوں سے بچیں اور وہ راضی ہوکر پہلے کی طرح ہم پر مہربان ہو جا ئے؟ پھر ہمیں زمین کا کوئی چھوٹا ساتکڑا دیدے جہاں رہ کر ہم اپنے کردار کو مثالی بناسکیں اور پھر مدینہ جیسی مثالی حکومت قائم کرکے اور خلفائے راشدیں جیسے حکمراں لاکر؟ دنیا کو دیکھائیں تاکہ وہ متاثر ہوکر پہلے کی طرح اسلام میں جوق در جوق داخل ہونے لگیں؟اب الحمد للہ حکومتیں تو ہمارے پاس56 سے زیادہ ہیں جن میں نہ کہیں اسلامی حکومت دکھانے کے لیے ملتی ہے اور نہ مسلمان؟ جبکہ مدینہ کی اسلامی ریاست میں حضو (ص) کے بعد بھی یہ دونوں چیزیں ایک مدت تک موجود رہی تھیں؟انہی میں میں یہ دنیا کی بقول ہمارے واحد اسلامی ایٹمی طاقت، اور دنیا کی سب بڑی اسلامی فوج کی حامل ریست بھی شامل ہے۔ جس پر ہم سب ملکر دنیا کوقدم قدم پر جگ ہنسائی کا موقع دے رہے ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ ہم نے حسب عادت اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ بھی اپنے کیے ہوئے وعدے پورے نہیں کیے؟ اور اس نے ہمیں اپنی سنت کے مطابق بھلادیا جیسا کہ اس نےسورہ حشر آیت نمبر 19 میں فرما یا کہ “تم مجھے بھلادو گے تو میں تمہیں بھلادونگا “ اور 20 میں اسکی وجہ فرمائی کہ “اہلِ دوزخ اور اہلِ جنت برابر نہیں ہوسکتے کیونکہ ان کی مقدر میں فلاح ہے“ اللہ تعالی ہمشہ ہم کوا صحاب الجنہ میں شامل کرے (آمین)













