صفدر ھمدانی، غزہ جنگ کا تیسرا سال — مسلم دنیا کی خاموشی اور عالمی ضمیر کی سرد مہری

0
726

صفدر ھمدانی، غزہ جنگ کا تیسرا سال — مسلم دنیا کی خاموشی اور عالمی ضمیر کی سرد مہری

سات اکتوبر ۲۰۲۵ میں غزہ جنگ اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے۔
دو سالہ تباہ کن جنگ نے نہ صرف فلسطین کی زمین کو کھنڈر بنا دیا بلکہ انسانیت کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
لیکن سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ دنیا، بالخصوص مسلم امہ، اس خون ریز المیے کے مقابلے میں بےحس اور منقسم نظر آتی ہے۔

انسانی المیہ اپنی انتہا پر

اقوامِ متحدہ اور امدادی اداروں کی رپورٹس کے مطابق غزہ میں تیس ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اور لاکھوں زخمی ہو چکے ہیں۔
شہروں کے شہر ملبے میں تبدیل ہو گئے، اسپتال اور اسکول تباہ ہو گئے، اور لاکھوں افراد پناہ کے بغیر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
یہ المیہ کسی قدرتی آفت کا نہیں، بلکہ ایک منظم جنگ کا نتیجہ ہے جس میں طاقتور نے کمزور کو مکمل طور پر روند ڈالا۔

مسلم ممالک کا کردار: بیانیے میں اتحاد، عمل میں انتشار

مسلم ممالک کی سطح پر ردعمل زیادہ تر بیانات اور قراردادوں تک محدود ہے۔
او آئی سی کے اجلاس منعقد ہوتے رہے، لیکن عملی اقدامات— جیسے اجتماعی سفارتی دباؤ، اقتصادی پابندیاں، یا مشترکہ انسانی امداد کی فراہمی— تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔
چند عرب ممالک نے خاموشی سے اسرائیل سے تعلقات برقرار رکھے، بعض نے تجارتی مفادات کو ترجیح دی، اور کچھ نے سیاسی مصلحت کے تحت زبان بند رکھی۔

یہ وہی مسلم دنیا ہے جو کبھی قدسِ اولیٰ کے تحفظ کو ایمان کا حصہ سمجھتی تھی۔
آج صورتحال یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کے ایک ارب سے زیادہ افراد غزہ کے بچوں کے لیے آنسو بہاتے ہیں، مگر ان کے حکمران خاموش تماشائی ہیں۔
یہ خاموشی دراصل سیاسی مفادات اور مغربی انحصار کے اس جال کی عکاسی کرتی ہے جس نے مسلم قیادت کو بےبس کر رکھا ہے۔

عالمی برادری کی سرد مہری

مغربی دنیا نے ابتدا میں انسانی ہمدردی کے کچھ بیانات دیے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ انسانی حقوق کی زبان بھی دوہری ہو گئی۔
امریکہ اور یورپی طاقتیں ایک طرف انسانی حقوق کی بات کرتی ہیں، دوسری طرف اسرائیل کو اسلحہ، مالی امداد اور سفارتی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی قراردادیں ویٹو کے نیچے دب جاتی ہیں، اور عالمی عدالتِ انصاف کی اپیلیں صرف خبروں کی سرخیاں بن کر رہ جاتی ہیں۔

یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی نظامِ انصاف طاقت کے تابع ہے، انسانیت کے نہیں۔
غزہ کے بچے اگر یورپ یا یوکرین میں ہوتے تو شاید دنیا کا ردعمل مختلف ہوتا۔
لیکن چونکہ وہ فلسطینی ہیں، اس لیے ان کی لاشیں صرف اعداد و شمار بن کر رپورٹس میں درج ہو رہی ہیں۔

تاریخ کا سوال اور ضمیر کی عدالت

تیسرے سال کی شروعات صرف جنگ کی طوالت نہیں بلکہ عالمی اخلاقیات کی موت کا اعلان بھی ہے۔
یہ جنگ اب صرف اسرائیل اور حماس کی نہیں رہی؛ یہ جنگ انسانیت بمقابلہ بےحسی ہے۔
تاریخ یہ ضرور پوچھے گی کہ جب غزہ جل رہا تھا تو امتِ مسلمہ کہاں تھی؟
اور عالمی طاقتیں، جو انصاف کی دعویدار ہیں، انہوں نے کیوں آنکھیں موند لی تھیں؟

آگے کا راستہ

اگر مسلم دنیا واقعی امت واحدہ ہونے کا دعویٰ رکھتی ہے تو اسے بیانات سے آگے بڑھنا ہوگا:

مشترکہ سفارتی دباؤ قائم کیا جائے؛

اقوامِ متحدہ میں متحدہ موقف اپنایا جائے؛

اسرائیل کے خلاف اقتصادی بائیکاٹ پر عملی قدم اٹھایا جائے؛

اور سب سے بڑھ کر، غزہ کے عوام کے لیے مسلسل انسانی امداد کو یقینی بنایا جائے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ غزہ کے ملبے سے انسانیت کی نئی بنیاد رکھی جائے۔
اگر مسلم دنیا نے اب بھی کردار ادا نہ کیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں صرف خاموش تماشائیوں کے طور پر یاد رکھیں گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY