قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) میں پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے حوالے سے بھی انکوائری کا آغاز کردیا۔

نواز شریف کے خلاف درج اس پرانے کیس کو کھولنے کا فیصلہ پیر (25 ستمبر) کو ڈائریکٹر جنرل شہزاد سلیم کی سربراہی میں ہونے والے ایک نیب اجلاس کے دوران کیا گیا۔

ایک نیب عہدیدار نے ڈان کو بتایا، ‘قومی احتساب بیورو نے 1990 میں 13 افراد کو لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی دوبارہ سے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ بیورو نے تمام بینیفشریز کو 29 ستمبر کے سمن جاری کیے ہیں جو انہیں لاہور پولیس چیف امین وینس کے توسط سے پہنچائے گئے۔

واضح رہے کہ غیرقانونی پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے انکوائری گذشتہ ایک عشرے سے زائد سے نیب کے پاس زیر التواء تھی۔

ذرائع کے مطابق ‘مذکورہ کیس کی تحقیقات 2000 میں شروع کی گئی تھیں، تاہم کسی دباؤ کے بعد اس پر مزید کام نہیں کیا گیا اور یہ فائل ریکارڈز میں کھو گئی، تاہم اب نیب کو اعلیٰ حکام کی جانب سے اس کیس کی دوبارہ تحقیقات کی ہدایات دی گئی ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘تمام بینیفشریز کے بیانات ریکارڈ ہونے کے بعد نیب کی جانب سے نواز شریف کو طلبی کے سمن جاری کیے جائیں گے’.

ذرائع کا کہنا تھا کہ نیب ممکنہ طور پر نواز شریف کے خلاف فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) میں غیر قانونی تعیناتیوں کے حوالے سے بھی ایک کیس دوبارہ کھول سکتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا، ‘2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سیاستدانوں کے خلاف تمام انکوائریز داخل دفتر کردی گئی تھیں’۔

نیب اس سے قبل نواز شریف اور ان کے بچوں حسن، حسین اور مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر سمیت وزیرخزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف اسلام آباد اور راولپنڈی کی احتساب عدالتوں میں 3 ریفرنسز دائر کرچکا ہے۔

یہ ریفرنسز ان افراد کی آف شور کمپنیز—ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن)، عزیزیہ اسٹیل ملز، ہل میٹل کمپنی اور شریف خاندان کی دیگر کمپنیوں سے متعلق ہیں، جن میں فلیگ شپ انویسٹمنٹس، ہارٹ اسٹون پراپرٹیز، کیو ہولڈنگز، کوئنٹ ایٹون پلیس 2، کوئنٹ سیلونے، کوئینٹ، فلیگ شپ سیکیورٹیز، کوئنٹ گلوسسٹر پلیس، کیونٹ پیڈنگٹن، فلیگ شپ ڈیولپمنٹس، الانا سروسز (بی وی آئی)، لنکن ایس اے (بی وی آئی)، چیڈرون، انسباچر، کومبر اور کیپٹل ایف زیڈ ای، دبئی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ نواز شریف کو سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 28 جولائی کو نااہل قرار دے دیا تھا، جس کے بعد وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY