احتساب عدالت نے نواز شریف کے بیٹوں حسن، حسین اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے ناقابل ضمانت جبکہ صاحبزادی مریم نواز کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کردیئے۔
آج سماعت میں نواز شریف پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی، تین نیب ریفرنسز کی اگلی سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کردی گئی۔
شریف خاندان کے خلاف تین نیب ریفرنسوں کی سماعت آج احتساب عدالت میں ہوئی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف دوسری بار احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔
نمائندہ جیونیوز کےمطابق احتساب عدالت کے روبرو نوازشریف کےبچوں اور داماد کی عدم پیشی پر ان کے وکیل نے عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کلثوم نواز کی بیماری کی وجہ سے ان کے بچے عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور آئندہ تاریخ پر ضرور پیش ہوں گے۔
عدالت نے وکلا کی یقین دہانی کے باوجودان کے مؤقف سے اتفاق نہیں کیا اور مریم، حسن، حسین اور کیپٹن (ر) صفدر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے اور حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر ملزمان کو گرفتار کر کے پیش کیا جائے۔
وکلا نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف کے بیٹے، بیٹی اور داماد آئندہ سماعت پر ضرور پیش ہوں گے۔
نواز شریف پر فرد جرم عائد کرنے کا معاملہ آئندہ سماعت تک موخر کردیا گیا جبکہ نواز شریف کی حاضری سے استثنا سے متعلق درخواست پر آج کوئی بحث نہیں ہوئی۔
بعد ازاں احتساب عدالت نے آئندہ سماعت9 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف کے وکیل شاہنواز محسن رانجھاکا کہنا تھا کہ نواز شریف پر آج فرد جرم عائد نہیں کی جاسکی۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے بیٹے، بیٹی اور داماد پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں۔
شاہنواز محسن رانجھا نے مزید کہا کہ نواز شریف کی حاضری سےاستثنا سے متعلق درخواست پر فیصلہ نہ ہوسکا۔
واضح رہے کہ نیب نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنسز دائر کیے ہیں، اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس میں ان پر فرد جرم عائد کی جاچکی ہے۔













