مغربی افغانستان میں طالبان کے دو متحارب گروہوں کے مابین جھڑپوں کے نتیجے میں درجنوں باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ بات مقامی حکام نے’ وائس آف امریکہ’ کو بتائی ہے۔

ہرات گورنر کے ترجمان، جیلانی فرہاد کے مطابق، مغربی صوبہ ہرات میں خفان علاقے کے شندباد ضلعے میں دو فریق میں جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 40 طالبان شدت پسند ہلاک ہوچکے ہیں۔

صوبائی حکام نے ‘وائس آف امریکہ’ کو بتایا کہ جھڑپوں میں دونوں فریق کے درجنوں شدت پسند زخمی ہوئے ہیں۔

یہ داخلی لڑائی ہفتے کی رات طالبان کے دو کمانڈروں ملا صمد اور ملا ننگیالی کے درمیان چھڑی، جو طالبان کے نئے سربراہ ملا ہیب اللہ کے سابق حامی، جو اپنے پیش رو ملا اختر کی ہلاکت کے بعد طالبان کے لیڈر بنے۔ ملا اختر منصور مئی 2016 کو ہمسایہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں امریکی ڈرون حملےمیں ہلاک ہوئے تھے۔

ننگیالی کا تعلق ملا محمد رسول کے گروپ سے ہے جس نے طالبان کی قیادت سے تعلقات ختم کر دیے ہیں، جو ملک میں باغی گروپ کے الگ دھڑے کے طور پر کارروائیاں کرتا رہا ہے۔

اس گروپ نے تحریک کے سربراہ کے طور پر ہیب اللہ سے وفاداری کا عہد کرنے سے انکار کیا ہے۔ علیحدگی کے بعد سے، دونوں گروپ ہرات اور ملک کے دیگر مقامات پر کبھی کبھار جھڑپوں میں ملوث رہے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY