اسلام اورحقوق العباد (17) از ۔۔۔شمس جیلانی

0
179

گزشتہ مضمون میں ہم یہاں تک پہونچے تھے، چونکہ پہلے آپ نے بجائے خالص اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے ہجرت کرنے کے دوسرے اغراض کے لیے ہجرت کی تھی۔ اب نیت بدل لیں اورخالص اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے ہجرت کی نیت کر لیں ۔ اس کے بعد اپنے کردار کو اسلامی سانچے میں ڈھالنا شروع کریں پھر اس کی برکتیں دیکھیں جوکہ انشا اللہ آپ قدم قدم پر پا ئیں گے۔ کیونکہ ا للہ سبحانہ تعالیٰ مشہور حدیثِ قدسی میں فرماتا ہے کہ “بندہ ایک قدم میری طرف بڑھے تو میں دس قدم اس کی طرف بڑھتا ہوں۔ وہ چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں پھر میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں پیر بن جاتا ہو اس کی آنکھ ،اور کان “بن جاتا ہوں اور یہ ہی بات قرآن کی ایک آیت میں بھی فرمادی جس میں مختصر اً فرمادیا کہ “جو بندہ میری طرف بڑھتا ہے میں اس کی راہ آسان کر دیتا ہوں۔ دونوں کی تفسیر میں آپ جائیں تو اس سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے۔ کہ وہ ہر وقت نگراں تو ہے ہی بندے پر اور اسکے ذاتی علم میں وہ تمام افعال ہیں جو وہ روزانہ انجام دیتاہے ۔ مگر جیسے ہی وہ دین کی طرف رقبت دکھا تا ہے تو اسی طرف رکھ کر اس میں ضروری تو فیق دینا شروع فرمادیتا ہے۔ پھر اس سے صرف اچھائیاں سر زد ہوتی ہیں برائیاں نہیں۔ اگربھولے سے کبھی گناہ سرزد ہو جائے تو وہ فوراً توبہ کی توفیق فرمادیتا ہے اور وہ اپنی رحمت سے اسکو معاف کردیتا ہے۔ لہذا اس کی اس کیفیت کو اس تشبیہ سے ظاہرفرمایا ہے ۔

آپ کو یاد دلا تا چلوں کہ اسلام حضرت موسیٰ ؑ(ع) کی تورات کی طرح ا یک ساتھ نہیں اترا یہ بتدریج ۲۳ سال میں نازل ہوا جیسے جیسے ضررورت ہوئی نازل ہوکر نافذ ہوتا رہا۔چونکہ دیارِ غیر میں آپ اس کو اپنا نے یا تبلیغ کرنے جارہے ہیں وہاں وہ آزادی نہیں ہوگی جو مسلمان ممالک میں ہے۔ لہذا حکمت کا تقاضہ یہ کہ پہلے مقامی قوانیں کا جائزہ لیں۔ کہ آپ کی حدود کیا ہیں اوراسی کے اندر رہ کام کرنا عقلمندی کا تقاضہ ہے ورنہ ٹکراو کی صورتِ حال پیدا ہوجائیگی اور اس میں وہاں رہنا ہی ناممکن ہوجائے گا؟ جو کسی طرح بھی آپ کے عمل کے لیے مفید نہیں ہے۔ اس کے لیے آپ رہنمائی حضور(ص) کے مکی اور مدنی دور اور صحابہ کرام(رض) کے حبشہ کے دور سے روشنی لیں تو کام آسان ہوجائے گا؟ بہت ہی صبر سےآگے بڑھیں اور جلد ی نہ کریں۔ کہ یہاں بھی وہ ہی معاملہ ہے کہ اگر آپ نے اچھائی کی نیت کرلی اور کوئی کام مجبوری کی وجہ سے نہیں کرسکے تو بھی ثواب کہیں نہیں جائے گا۔ جبکہ اس کے برعکس برائی جب تک کریں نہیں اس وقت تک نہیں لکھی جاتی ۔ یہ اس کی اپنے بندوں پر بڑی رحیمی ہے۔
میرے خیال اب پوری آپ طرح میری باتوں کو سمجھ گئے ہونگے۔ جو ہر ایک کے لیے اس میدان میں اترنے سے پہلےسمجھنا بہت ضروری ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرما ئے ( آمین) تاکہ آپ اپنے لیے بھی کار آمد ہوں اور اپنے دین کے لیے بھی۔ انشا اللہ اگلی قسط سے ہم زندگی کے تمام شعبوں میں جسطرح یہاں کام کرنا ضروری انکا بیان شروع کریں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY