حقوق العباد (61) بچوں کی پرورش۔۔۔ شمس جیلانی

0
894

ہم گزشتہ مضمون میں میاں بیوی کے تعلقات اور اس کے بعد بچوں کی پرورش پر بات ہوئے آج کے ماحول تک پہونچے تھے۔ اب آگے بڑھتے ہیں دنیا کے گلوبل ولیج بن جانے کے بعد ماحول کا محل وقوعِ اب وہ نہیں رہا جو ایک صدی پہلے تک محدود تھا؟ اب وہ بہت وسیع ہوچکا ہے۔ لہذا بچوں کو کسی چھوٹے سے دائرے میں یعنی اپنی تہذیب اور ملک کی سرحدوں میں مقید نہیں رکھا جا سکتا۔ مگر اسلام نے بغیر ہدایت کے کسی شعبہ کو بھی نہیں چھوڑا ہے ، یہاں بھی ہدایت موجود ہے قر آن میں ہمارے لیئے کہ “اپنے بچوں سے منسلک رہو “ ۔ یہ بھی فرمانِ خداوندی موجود ہے کہ تمہارے نبی(ص) کے اسوہ حسنہ میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ جب آپ ان دونوں چیزوں کو سامنے رکھ کر دیکھیں گے۔ تو آپ کو رہنمائی مل جائے گی۔ کیونکہ یہاں خاص بات یہ ہے کہ یہ نہیں کہاگیا کہ آپ اولاد سے منسلک رہے ہیں بلکہ یہ کہا گیا کہ بچوں سے منسلک رہیں اس میں جو حکمت ہے وہ یہ ہے کہ والدین کے لیے اولاد جس عمر کو بھی پہنچ جائے ؟وہ انکے لیے بچہ ہی رہے گی چاہے وہ پوتے پوتی اور نواسی نواسے والے ہوجائیں؟ اس طرح خاندانی اجتمایت ختم نہیں ہوسکے گی اور نانا اور نانی داد اور دادی گھر کی نگرانی کے لیے بلا معاوضہ موجود رہیں گے اور پرانے زمانے کی طرح دیکھ بھال کرتے رہیں گے ۔ جو کہ اس مسئلہ کا واحدحل ہے۔ جواب ترقی یافتہ ملکوں میں تو تھاہی،اب پوری دنیا میں رواج پاگیا ہے۔ کہ ایک کی کمائی سے گزارا نہیں ہوتا ا ور میاں او ر بیوی دونوں کو کام کر نا پڑتا ہے؟
حالانکہ اسلام بیوی کو کام کرنے کا حکم نہیں دیتا اور اگر بیوی کرے تو شوہر اور بچوں پر خرچ کرنے کے لیے وہ مجبور بھی نہیں ہے؟ لیکن اگر کرے تو یہ ا س کی طرف سے وہ صدقہ ہے جس کا دہرا ثواب ہے !ایک ا للہ کی راہ میں خرچ کرنے کا دوسرا صلہ رحمی یعنی ا پنوں پر خرچ کرنے کا ؟ اس اعتبار سے وہ پورے خاندان کی محسنہ ہوئی اور اس کے ساتھ وہی بر تاؤ بھی ہونا چاہیئے جس کی ا سلام کی رو سے وہ مستحق ہے؟ یعنی “احسان کے بدلے میں احسان“ اس کی تاکید میں اس حدتک اللہ تعالیٰ سبحانہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے کہ “وہ میرا احسانمند کیا ہوگا جو بندو ں کا احسانمند نہ ہو“ جبکہ ہمارے یہاں جو موجودہ تصور بہو کا ہے ۔وہ ہندو دھرم سے آیا ہے کہ وہ کوئی کمتر مخلوق ہے اور ساس کے برابر بھی نہیں بیٹھ سکتی۔ جبکہ اسلام میں وہ ساس کے لیے بھی بیٹی ہے سسر کے لیے بھی بیٹی ہے اگر اسے بیٹی سمجھا جا ئے تو مسائل پیدا نہیں ہوں گے ا ور نظام بہتر طریقہ سے چل سکتا ہے۔ کیونکہ ماحول اچھا ہوگا تو وہ بہو اور بیٹوں کی عدم موجود گی میں دل کی گہرائیوں سے خوشی خوشی نگراں ہونگے؟ اور تمام معاملات بخیر خوبی چلتے رہیں گے۔ جیسے کہ یورپ میں چلتے ہیں، جبکہ ان کے یہاں جوائنٹ فیملی سسٹم نہیں ہے۔ مگر اکیلا کوئی کیا کرسکتا ہے خصوصاً بڑھاپے میں کوئی کیسے گزاراکر سکتا ہے۔ اس پر مصیبت یہ ہے کہ باپ یورپ میں اکثر لاپتہ ہوجاتے ہیں۔ سنگل فیملی سسٹم زیادہ ہے اکیلی مائیں ہی بچوں کو بھی پرورش کرتی ہیں اور گھر بھی چلاتی ہیں۔ انہوں نے بھی مسائل کا حل اب یہ تلاش کیا ہے کہ ان کی مائیں بیٹیوں کے پاس رہتی ہیں۔جو ایک دوسری کی معاونت کرتی نظر آتی ہیں۔ اگر کسی کی بیٹی نہ ہوتو یہاں ماں کی خواری ہے۔ یہاں بوڑھے اور بوڑھیاں بات کرنے تک کو ترستے ہیں۔حالانکہ زیادہ تر ممالک فلاحی ریاست ہیں اور عوام کو ہر طرح کی سہولتیں حاصل ہیں۔ اور ہر مسئلہ کا حل لیے حکومت ہر وقت حاضر رہتی ہے؟ مگر انسان اجتما عی زندگی کا عادی ہے اس لیے حکومت کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ بوڑھے اپنے ہی گھروں میں رہیں تو بہتر ہے؟ اور بچے کسی طرح انہیں اپنے پاس رکھیں؟ جبکہ ان کے مادی زندگی ہونے کی وجہ سے وہ بات نہیں جو ہمارے یہاں کہ اگر ماں یا باپ دونوں میں سے کوئی ایک زندہ ہو اور ن کا بیٹا دن میں ایک دفعہ ان کو مسکرا کر دیکھ لے تو“ ایک عمرے یا حج کا ثواب ہے“ ایک صحابیؓ نے حضور(ص) سے سوال کیا کہ ہم دن میں پچاس مرتبہ مسکرا کرکے دیکھیں تو کیا پچاس عمروں اور حج کا ثواب ملے گا حضور (ص) نے فرمایا کہ ہاں! مگر اس ماحول کو بنانے کے لیئے ۔ سب کو منصوبہ بندی کرنا پڑے گی ۔ بات ایک دوسرے کے درست کے انتخاب سے شروع ہوگی ،تب کہیں جاکر بچے بہتر ہوں گے اور گھرانا بھی خوش حال ہوگا۔ اگر انتخاب غلط کیا تو بعد میں پجھتانے کے سوا کچھ نہیں ہوسکے گا۔ اس کے لیے بھی ہمارے یہاں جو برائیاں اب عام ہوتی جارہی ہیں ان پر بھی ہرا یک کو خود ہی نگرانی کرنا پڑے گی۔ کہ جھوٹ، بدگمانی، غیبت ،حسد اور سرگوشیاں گھر میں داخل نہ ہونے پائیں؟ ورنہ وہ آپ کے اس چھوٹے سے قلعہ میں دراڑیں ڈالدیں گی۔( بقیہ آئندہ ہفتے

SHARE

LEAVE A REPLY