دنیا بھر میں 35 کروڑ افراد بے شناخت

0
161

دنیا بھر میں 35 کروڑ افراد بے نام و نشان، بے شناخت ہیں، جو کسی گنتی میں ہی شامل نہیں ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کچی آبادیوں اور غیرقانونی طور پر مقیم افراد کا کہیں اندراج ہی نہیں ہوتا، کسی گنتی میں نہ آنے والے یہ بچے، بوڑھے، خواتین اور مرد تعلیم، صحت اور دیگر سہولتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔

شہروں کے ارد گرد آباد مگر تمام شہری سہولتوں سے محروم، کچے مکانوں اور گندگی کے ڈھیر کے درمیان سسک سسک کر زندگی گزارتے یہ لوگ کسی گنتی ہی میں نہیں آتے تو ان کی زندگیاں بدلنے کی فکر کس کو ہو، نہ تعلیم، نہ روزگار، نہ صحت اور نہ دیگر سہولتیں، دو وقت کی روٹی کا حصول ہی ان بے کس اور بے بس افراد کے لیے سب سے بڑی آزمائش بن جاتا ہے۔
عالمی ادارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ معلومات حاصل کرنے کے روایتی طریقوں یعنی سروے، مردم شماری، خانہ شماری اور پیدائش یا ہلاکتوں کے ریکارڈ میں صرف ان لوگوں کو شمار کیا جاتا ہے جو کہیں باقاعدہ طور پر مقیم ہیں یا حکومتی سہولتوں کا استعمال کرتے ہیں، شہروں کے گرد کچی آبادیوں میں رہنے والے اور دوسرے ملکوں میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔
یونیسکو کے مطابق ان افراد کا ریکارڈ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تعلیمی اعداد و شمار کی رپورٹ میں 35 کروڑ کی غلطی ہوسکتی ہے، یہ تعداد برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی اور اسپین کی مجموعی آبادی کے برابر ہے۔
یونیسکو کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد رپورٹ میں ظاہر کیے گئے اعداد وشمار سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے

SHARE

LEAVE A REPLY