سابق وزیراعظم نوا ز شریف سعودی عرب سے لندن پہنچ گئے، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اورسلمان شہبازبھی لاہورسے لندن پہنچے ہیں۔میڈیا سے گفتگو میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ انتخابات وقت پر ہوں گے،پارٹی یا خاندان میں کوئی اختلاف نہیں ۔
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے لندن پہنچ کر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب وزیراعظم کو پاناما کے بجائے اقامہ پرنکالا جائے تو کہاں کا استحکام، کہاں کی ترقی اور خوشحالی؟ ۔
ان کا کہنا تھا کہ جب حکومت کمزورہوتی ہے تو ملک کمزور ہوتا ہے۔ جب سے مجھے نکالا گیا اسٹاک مارکیٹ 10سے 12 ہزارنیچے گر گئی ہے۔
اس موقع پر نواز شریف نے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کا کریڈٹ بھی اپنی حکومت کو دیا اور کہا کہ 4 سال پہلے کوئی ٹیم پاکستان آنے کو تیار نہیں تھی۔
انھوں نے احمد نورانی پرحملے کی مذمت کی اور کہا کہ اس کی تہہ تک پہنچنا چاہیے کہ حملہ آوروں کے کیا عزائم تھے ؟ اور یہ اقدام کیوں کیا گیا ؟؟۔
نواز شریف نے کہا کہ افواہیں بہت اڑتی ہیں،ہمیں افواہوں سے بچنا چاہیے۔انھوں نے بتایا کہ اہلیہ کا لندن میں علاج ہورہا ہے۔
سابق وزیر اعظم نے کہاکہ جب پاکستان میں استحکام آیا تو ہم نے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا، جبکہ ہماری حکومت سے پہلے 18،18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی۔
کراچی کے حالات سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہاں کہ حالات بہت بہتر ہوگئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ آپ کراچی کے لوگوں سے پوچھیں 4سال پہلے یہاں کے حالات کیا تھے۔
صحافی احمد نورانی پرحملے کی مذمت کرتے ہوئے ان کہا کہنا تھا کہ احمد نورانی پرحملہ کس نے اور کیوں کیا اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
نوا ز شریف سے پہلے لندن پہنچنے والے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نےصحافیوں سے گفتگو میں کہا اُن کے پاس قبل از وقت انتخابات کی کوئی تجویز نہیں آئی، ٹیکنو کریٹ حکومت کی آئین میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کا عدلیہ اور اداروں کے ساتھ کوئی ٹکراو نہیں، ن لیگ کسی این آر او یا ڈیل کی جانب نہیں جا رہی۔ ذرائع کے مطابق خواجہ آصف سعودی عرب پہنچ گئے ہیں اور ان کے بھی لندن جانے کا امکان ہے

SHARE

LEAVE A REPLY