۔۔۔ جب رکن پارلیمان فریادی ہوئے؟۔۔۔ شمس جیلانی

0
338

از۔۔شمس جیلانی
تمام ملک کی نظریں اس پر لگی ہوئیں تھیں کہ دیکھیں پا ناما لیکس کا مسئلہ جو اسمبلی کی احتساب کمیٹی میں اٹھایاگیا ہے ۔ اس پر کیا ایکشن لیا جاتا ہے کیونکہ اس کے سربراہ قائدِ حسب ِ اختلاف ہیں اور بنی بھی وہ اسی لیے تھی کہ اگر حکومت اپنے حدود سے باہر نکلے تو اسے روکا جا ئے؟ مگر اللہ نے انکا پردہ رکھ لیا اورفیصلہ سنانے کی نوبت ہی نہیں آئی! جسے سننےبڑے بڑے سورما اخبار روں اور ٹی وی کے نما ئندے آئے تھے ۔ اور دونوں طرف کے لیڈر بھی اس میں شمولیت کے لیے بڑی تیاری کرکے گئے تھے جن میں حزب اختلاف والے یہ سوچ کر کہ آج اڑیں گے، کسی کے پرزے ؟ مگر لوٹ آئے کہ تماشہ نہ ہوا کیونکہ شاہ پرست اگر ضرورت پڑے تو راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے آآئے ہوئے تھے ؟ اس حادثہ پر ہمیں کوئی حیرت نہیں ہوئی کہ ہمیں ایوب خان کے پہلے والے مارشلا ءکا ایک واقعہ یاد تھا کیونکہ وہ شروع میں واقعی بے نظیر تھا، اس کا بڑا رعب اس لیے تھا کہ قوم کے لیے ملک گیر بنیاد پر پہلا تجربہ تھا۔ لوگ سہمے ہوئے تھے اور انہوں نے ملاوٹ شدہ گھی اور تیل جیسی قیمتی چیزیں بھی نالیوں میں بہا دی تھیں جن میں بہت سو ں کی نقل کے ساتھ اصل بھی بہہ گئی؟ اس کے تحت جب عدالتیں قائم ہوئیں تو سکھر میں جہاں کے ہمارے قائد ِ حزب اختلاف ہیں، چشم َ فلک نے یہ منظر دیکھا کہ ایک نامی گرامی وکیل صاحب اپنے منشی کے کاندھے پر کتابوں کا پلندہ لا ئے ! اسے دیکھ کر؟ جج نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتا یا کہ سر! یہ قانون کی کتابیں ۔ پہلا حکم جو صاحب ِ عدالت نے دیا وہ یہ تھا کہ ان کو با ہر رکھ آئیں ، پھر بات کریں؟ کہاوت ہے کہ حکم حاکم مرگ مفاجات ؟ بیچارے کیا کرتے ۔ اور دلیل کیا دیتے کہ قانون کی کتابیں جج صاحب نے باہر بھجوادیں تھیں؟
آمریت کسی بھی شکل میں ہو؟چاہیں پہلے وہ بادشاہت رہی ہو یا جمہوریت ؟ جب ان میں سے کوئی بے لگام ہوتا ہےتو اس کا ایک ہی انداز ِ حکومت ہوتا ہے کہ ً جو ہم کہیں وہ کرو ، جو ہم حکم دیں وہ مانوں، اور جو کہدیں وہ قانون ہے “ یہاں بھی یہ ہی ہوا کہ ایک سکریٹری صاحب جو ریٹائر ہونے کے بعد برے وقتوں کے لیے اس کمیٹی کی رہنمائی کو رکھے ہوئے تھے انہوں نے سب کی زبان بندی یہ کہہ کر فرمادی کہ کمیٹی کے پس یہ اختیار ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا،بقول ایک عوامی ترجمان کے کہ اس اجلاس پر قوم کا بے انتہا پیسہ اور وقت خرچ ہوا ہے کیونکہ یہ اس کمیٹی کا تاریخ میں سب سے زیادہ حاضری سے بھر پور اجلاس تھا۔ اور صدر کمیٹی کے ہاتھ میں پروانہ دیدیا گیا کہ اس کمیٹی کو اس معاملہ کو سننے کا اختیار ہی نہیں ہے اور بات ختم ہوگئی۔ اس رہنمائی کا تقاضہ یہ تھا کہ صدر صاحب اجلاس ملتوی کرکے گھر چلے جاتے ؟مگر اجلاس ختم کیسے ہوتا کہ ایک سرکاری رکن پارلیمان اسمبلی کی شکایت ایجنڈے پر تھی انہیں انصاف مہیا کرنا تھا کہ کسی بنک نے انہیں کریڈٹ کارڈ نہیں دیا اوروہ انہیں ادھار نہیں دیتا ہے؟ جبکہ سب کو دیتا ہے ؟ ان کی فریاد سنی گئی اور اس پرکاروائی کے لیے اجلاس جاری رہا حکم کیا ہوا یہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس پرکسی نے روشنی ڈالنا مناسب نہیں سمجھا ،کیونکہ جو رپوٹنگ کے لیے گئے تھے وہ چھوٹی خبروں پر توجہ اس لیے نہی ںدیتے کہ انہیں اس پر نیوزبلٹین میں جگہ نہیں ملتی، مگر ہمیں وہ خبر بڑی اہم نظر آئی؟
کسی دانشور نے کہا کہ ایک ہی کھڑکی سے بہت سے لوگ جھانک کر سڑک کی طرف دیکھتے ہیں اور ہر ایک کو اس کو اس کے مطلب کی چیز دکھا ئی دے جاتی ہے؟ ہمیں اس میں کیا ملا آئیے اس پر آپ کے ساتھ سا جا کرتے ہیں ؟ اس سے آپ یہ مت سمجھئے گا کہ ہم بھی کوئی پناما میں کارو بار کرنے والے ہیں، دراصل ہم نے اس انگریزی جملہ کی اردو استعمال کی ہے جس کا استعمال آج کل عام ہے ۔ جیسے کہ معلومات شیر کرنا ، خبر شیر کرنا اور یہ شیر کرنا اور وہ شیر کرنا؟ جب کہ اردو میں شیر کا کام ہے شکار کرنا، اس میں اردو کا ایک اور محاورہ اور استعمال کرلیں جو شیر کے بارے میں ہی ہے کہ لومڑیاں یوں اس کے ساتھ ہوتی ہیں کہ جیسے ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پا ؤں ہو تا ہے؟ ویسے ہی شیر کے مارے شکار میں سب کا حصہ ہوتا ہے؟ لہذا لوگ اس کے پیچھے کیڑے مکوڑوں کے طرح ہرکوئی چلتا ہے۔
لیکن ہمیں جب بڑی خبر نہیں ملی تو چھوٹی ہی بہت اہم لگی ؟ کیونکہ ایک زمانہ تھا کہ ہمارے یہاں تمام بنک قومی ملکیت میں لے لیے گئے تھے۔ اور اس کا نتیجہ ہوا کہ سب ایک کر کے قوم کو فروخت کرنے پڑے اور وہی کاروباری لوگ انہیں خرید دوبارہ اس سے زیادہ کامیا بی سے چلا رہے ہیں ۔ اس دور کی خوبی تھی کہ وہ اشرافیہ کی عادتیں خراب کر گیا ؟ کہ لوگ قرضہ لیتے ہی نہ دینے اور معاف کرانے کے لیے تھے ، اور زیادہ تر چیک واپس ہونے کے لیے ہی جاری کر تے تھے۔ لہذا اس دور میں اشرافیہ نے جو ریکارڈ بنا یا وہ اب نئے مالکوں کے کام آرہا ہے اور انہوں نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ اتنا اچھا ریکارڈ رکھنے والے لوگوں کو ادھار نہ دیں تاکہ بنک سلامت؟ ورنہ دو بارہ دیوالیہ ہو جا ئیں گے؟ اب وہاں کا تو ہمیں پتہ نہیں کہ وہاں سے آئے ہوئے ایک نسل جتنا عرصہ گزر گیا ۔ مگر یہاں آکرکے دیکھا کہ اگر ایک چیک بنک میں رقم نہ ہونے کی وجہ سے واپس ہوجا ئے تو وہ اس شخصیت کے لیے اتنا بڑا د ھبہ ہوتا ہے جو اس کی کریڈٹ ورتھی (صاحب امانت)ہونے کو مشکوک ہی نہیں بلکہ ختم کردیتا ہے اور اگر تین چیک واپس ہو جائیں تو بنک اس کا کھاتا شکریہ ادا کر کے بند کر دیتا ؟ اور دنیا محتاط ہو جا تی ہے کہ یہ قابل ِ اعتبار نہیں ہے؟ اس کے لیے کسی کوکہیں جانا نہیں پڑتا، ایسی کاروباری فرمیں موجود ہیں جو ایک منٹ میں کسی کے کریڈت ورتھی ہونے اور نہ ہونے کا فیصلہ کر دیتی ہیں ۔ اب تو حالات یہاں تک آگے بڑھ گئے ہیں کہ مولا ناگوگل (google) کے سپرد کسی کا بھی نام کردیں وہ اس کے بارے میں سب کچھ بتادیں گے؟پھر بھی فراڈی یہاں بھی فراڈ کر جاتے ہیں اور وہ سب سے زیادہ کریڈٹ کارڈ میں ہو تا ہے ؟ لہذا وہ “ پاور لائن“ تو آپ کولاکھوں روپیہ کی دینے کےلیے تیار ہتے ہیں لیکن کریڈٹ کارڈ بہت ہی پرکھنے بعد گھٹیلوں کے بل چلتا ہوآگے بڑھتا ہے ۔اور اس منزل تک برسوں میں پہونچتا ہے کیونکہ اس کی کو ئی ٹھوس گارنٹی نہیں ہوتی، سوائے اس کے اپنے کردار کے؟ جبکہ پاور لائین اور دوسرے قرضوں کے لیے جائداد کی گارنٹی ہوتی ہے ۔ یہ ہی چیز ہے کہ یہاں قسمت آزما کسی کا کارڈ اڑالیتے ہیں اور دو چار دن کے اند لاکھوں کا مال لیکر رفو چکر ہو جاتے ہیں؟ اور بنک والے بیچارے دیکھتے رہ جاتے ہیں کہ کارڈ ہولڈر کی ذمہ داری صرف پچاس ڈالر تک ہے ۔اس سے بڑے فراڈ پر یہاں نقصان بیمہ کمپنی کا ہوتا ہے اور وہ بیمہ کمپنی بھگتی ہے۔ ہمارے یہاں مشکل یہ ہے کہ ہمارے اراکین پالیمنٹ ایک شرط دستور میں موجود ہو نے کے با وجود وہاں یہاں جیسے کردارکی قلت میں یوں مبتلا ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اس سے ہمیں بچاؤ؟ کیونکہ پھر فرشتے ہی اسمبلی میں آسکتے ہیں جب کہ یہاں یہ شرط با خوبی چل رہی کہ کسی عہدے پرآ دمی اسی صورت میں رہ سکتا ہے جبکہ وہ صاحب کردارر ہے ذرا بہکا اور عہدے سے فارغ ہوجاتا ہے؟ یعنی ایک ایک کا کریڈٹ ورتھی ہو نا ضروری ہے؟ مگر ہم بزعم خود اپنے خیال میں یہ جنس نایاب ہونے کے باوجود ان سے خود بہتر کہتے ہیں کہ وہ ان شرائط پر پورے اتر تے ہیں جنپر ہم نہ چلنا چاہتے ہیں نہ پورا اتر نا چاہتے ہیں کہلاتے مسلمان ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY