اسلام کا مقصد انسانیت کی فلاح ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

0
1523

اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو اچھا انسان نہیں ہے وہ اچھا مسلمان بھی نہیں ہوسکتا؟ اورجو ہمیں شکایتیں ہیں کہ ہم جودعائیں مانگتےہیں وہ قبول نہیں ہوتیں؟ ایسا کیوں ہے؟ کبھی سوچا آپ نے کہ دعائیں کیوں نہیں قبول ہوتیں؟ ہم اس طرح اپنے دین سے نہ خود فائیدہ اٹھا رہے ہیں نہ انسانیت اس سے اس مستفید ہورہی ہے جس طرح کے پہلے دین اسے فائدہ پہنچا رہا ہے تھا؟ اس کی ذمہ دار وہ ہماری دو عملی کی پالیسی ہے۔ کہ زبان سے کہہ کچھ رہے ہیں جبکہ ہمارا کردار کچھ اور ہے۔ اور یہ کہ یہ کلیہ ہے کہ جو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قر آن کی آیت نمبر17 اور سورہ رعد میں ارشاد فرمایا ہے وہ آج موثر کیوں نہیں ہے اس کا جواب بھی سورہ الصف کی آیت نمبر ایک اوردو میں اللہ سبحانہ تعالیٰ “نے فرمادیا ہے کہ اے ایمان والو! وہ بات کہتے کیوں ہو ،جس پر عمل نہیں کرتے ہو یہ بات اللہ تعالیٰ کوسخت ناپسند ہے “ اگر انسانیت اس پر غور کرے تو پورا مشن اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس ایک طویل بیان میں میں فرمادیا ہے۔ اور ایک دوسری جگہ اسی کو ہی تقویت دینے کے لیئے یہ فرمان بھی موجود ہے کہ“ ہے کوئی جواس پر غو اور تدبر کرنے والا اور بھی کئی آیتو ں میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ بار بار فرمایا ہے کہ یہ قرآن اولالباب کے لئیے ہے؟ جاہل اور نہ سمجھوں کے لئیے نہیں ہے؟ اب آپ پوچھیں گے کہ اس آیت میں ایسی بات کیا ہے جس کی تمہید تم نے اتنی طویل باندھ دی ہے؟ وہ ہے اس میں ایک ددرمیانی جملہ کہ “جو چیز انسانوں کو فائدہ پہنچانے والی ہے وہ ہمیشہ قائم رہے گی “ جیسے پانی، کہ جس پر زندگی کا دار ومدار ہے اور جھاگ چاہیں وہ پانی کا ہو یا کسی دھات کا چونکہ وہ اپنے لئیے پیدا ہوتا ہے لہذا بنتا ہے اور فنا ہو جاتا بغیر کوئی نشان چھوڑے ہوئے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو بنانے میں جو مشن کار فرما فرما ہے اس کا لب لباب یہ فرما کر دنیا کے سامنے پیش کردیا ہے۔ تاکہ انسانیت امن کے ساتھ رہے اور وہ کام کرے کہ جس پر انعام ہے اور وہ نہیں کرے جس پر سزا ملنا ہے تو تمہاری دنیا جنت بن جائے اور انصاف کے سارے تقاضے پورے ہوجائیں اور ہر آدمی اللہ کے منصف ہونے کا اس مجمع عام میں سب کے سامنے خوداقرار کرسکے ؟جب فرشتہ پوچھیں گے کہ تمہارے پاس کیا نبی ؑ اور وہ کہیں گے ہاں آئے تھے لیکن ہم نے انہیں نہیں مانا!؟اب اس طویل آیت کا مضمون اور اردو میں ترجمہ پڑھیئے۔ “پھر اسی نے آسمان سے پانی بر سایا اورہر سمندر، ندی اور نالے نے اپنی اپنی گنجائش کے مطابق اپنے اندر اسے سموع لیا(جو کم تو فائدہ مند ہوسکتا جسے قناعت کہا جاتا ہےمگر زیادہ ہونا نقصان دہ ہے جسے ہوس کہتے ہیں اپنے نتائج کے اعتبار سے)۔ ابھی فرمان جاری ہے کہ وہی پانی ریلا بن کر اپنے اوپر چڑھے جھا گوں کو اٹھالیتا ہے اور انہیں ضائع کردیتا ہے اور یہ ہی انسانی دلوں کی مثال ہے جو ان میں تفاوت کی بھی ہے۔ پھر دوسری مثال یہ دی ہے کہ ً“ اس چیزمیں بھی جس کو آگ میں ڈال کر تپاتے ہیں زیور یا دوسری اشیاء بناتے ہیں اسی طرح جھاگ بنتے ہیں جھاگ اوپر آکر ضائع ہو جاتے ہیں جبکہ دھاتوں سے زیور یا برتن وغیرہ بنتے ہیں اور وہ ایک مدت تک قائم رہتے ہیں ( وہ بھی اس وقت تک قائم رہتے ہیں جب تک وہ اپنی افادیت نہ کھو دیں) اللہ تعالیٰ اسی طرح مثالیں بیان فر ماتا ہے“ اسی لیئے اسلام میں صدقہ کی ترغیب تو ہے ہی ہے کہ حضوﷺ کا ارشاد ِ گرامی ہے کہ “ روزانہ صدقہ ضرور دو چاہیں وہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو “ لیکن صدقات میں بھی صدقہ جاریہ کی ترغیب زیادہ اس لیئے ہے کہ وہ اسوقت تک دینے والے کے لیئے ثواب کا باعث بنی ر ہے گی جب تک کہ وہ چیز انسانیت کے لیئے کار آمد رہے گی۔
ہمارے یہاں آجکل یہ رواج چل نکلا ہے کہ لوگ چندو ں کا اعلان مجمع عام میں تو کردیتے ہیں یہ دل میں کہہ کر کون دیتا ہے اور کون لیتا ہے ؟یہاں واہ واہ ہونا تھی وہ تو ہوگئی۔ جبکہ حضور ﷺ نے وعدہ خلافی کو منافقت کی تین علامات میں سے ایک علامت قرار دیا ہے۔ جبکہ دوسری دو ہیں جھوٹ اور امانت میں خیانت۔ انسانوں کے ساتھ یہ تینو ں کام کرنامنع تو ہیں ہی ہیں۔ لیکن اللہ کے ساتھ وعدہ کرتے وقت بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ وہ اس پر قادر ہے کہ موقع پر ہی سزا نہ دیدے، تمہاری اس بد نیتی پر اپن علم کی وجہہ سے اس پر مطلع ہوکر؟
اس کے بر عکس جو اللہ کے ساتھ اپنے وعدوں پر جمے رہیں گے اور سچے ثابت ہونگے۔ ان کا اور ان کے انعامات ذکر اسی سورہ رعد کی آیت نمبر21 سے 24ہے جوکہ بہت طویل ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان پر عمل کر نے کی تو فیق عطا فرما ئے تاکہ ان فائدوں سے مستفید ہوسکیں جو ہمیشہ رہنے والے ہیں جن کو کماکر کے اپنے کھاتے میں لکھوانے کے لیئے یہاں ہمیں بھیجا گیا تھا جس کو ہماری اکثریت بھول گئی ہے ؟پھر ہماری دعائیں بھی قبول ہونے لگیں گی اور ہم اسی طرح فائدہ رساں بھی دنیا کے لیئے بن جائیں گے جس طرح قرون ِ اولیٰ کے مسلمان تھے (آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY