لاہور کا شمار بھی آلودہ ترین شہروں میں

0
159

بیجنگ اور نئی دہلی کے بعد لاہور کا شمار بھی آلودہ ترین شہروں میں ہونے لگا ۔
ہنگامی بنیادوں پر فضائی آلودگی کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ہر سال نومبر اور دسمبر کے مہینے خشک موسم کے باعث اسموگ اور دھند کے موسم میں منتقل ہو جائیں گے۔
ماہرین موسمیات اور ماحولیات کے مطابق پاکستان کے شہری اور صنعتی علاقوں میں غیرمعمولی فضائی آلودگی کے سبب شدید اسموگ شہری علاقوں کیلئے صحت کا بڑا مسئلہ بن چکی ہے ، یہ اسموگ آنکھوں اور سانس کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔
آنے والے سالوں میں ہنگامی بنیادوں پر فضائی آلودگی کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ہر سال اسموگ کی شدت بڑھتی جائے گی اور آنے والے دنوں میں درجہ حرارت میں کمی کے بعد یہ اسموگ دھند میں تبدیل ہو جائے گی ۔
نومبر میں کم بارشوں کے باعث اور دسمبر میں دھند کا سلسلہ جاری رہے گا، ان کا کہنا ہے کہ اسموگ اور دھند کے باعث زمینی و فضائی آمدورفت کا شیڈول متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ زراعت ، توانائی اور صحت کے شعبے بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں ، اس حوالے سے تمام صوبوں کو الگ الگ حکمت عملی بنانے کی بجائے قومی سطح پر مربوط حکمت عملی اپنانا ہو گی۔۔
ذرائع کے مطابق ہر سال محکمہ موسمیات کے افسران کے 20سے زیادہ غیرملکی دورے ہوتے ہیں مگر محکمہ آگے جانے کی بجائے پیچھے ہی جا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کی برسات کے دنوں میں بھی کی جانے والی بعض پیشگوئیاں غلط ثابت ہو چکی ہیں ، جب اس حوالے سے محکمہ کے اعلیٰ حکام سے بات کی جاتی ہے تو ان کا یہ موقف ہوتا ہے کہ ان کے پاس آلات ہی بہت پرانے ہیں۔

ساجد چوہدری

جنگ

SHARE

LEAVE A REPLY