نومبر9 تابش دہلوی۔ گلوکارہ مالا اور ثروت حسین کی پیدائش

0
207

نومبر 9 محشر بدایونی، کی وفات

اردو کے ممتاز شاعر محشر بدایونی کا اصل نام فاروق احمد تھا اور وہ 4 /مئی 1922ء کو بدایوں میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے بدایوں سے ہی تعلیم حاصل کی اور قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان کے جریدے آہنگ سے منسلک ہوگئے۔

محشر بدایونی کا شمار پاکستان کے ممتاز شعرا میں ہوتا تھا۔ غزل ان کی محبوب صنف سخن تھی۔ ان کی تصانیف میں شہر نوا، غزل دریا، گردش کوزہ، فصل فردا، چراغ ہم نوا، حرف ثنا، شاعر نامہ، سائنس نامہ اور بین باجے کے نام شامل ہیں۔

نو نومبر 1994ء کو اردو کے ممتاز شاعر محشر بدایونی کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماسٹر غلام حیدر کی وفات

نو نومبر 1953ء کو پاکستان کے مشہور موسیقار ماسٹر غلام حیدر دنیا سے رخصت ہوئے۔
ماسٹر غلام حیدر 1906ء میں حیدرآباد (سندھ) میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدا ہی سے انہیں ہارمونیم بجانے سے بڑی دلچسپی تھی۔ اسی دلچسپی کے باعث وہ لاہور کے ایک تھیٹر سے وابستہ ہوگئے۔ اس وابستگی کے دوران انہیں ہندوستان کے مختلف شہروں کے سفر اور کئی اہم موسیقاروں سے ملاقات کا موقع ملا۔ 1932ء میں وہ لاہور کی ایک ریکارڈنگ کمپنی جین او فون سے منسلک ہوئے۔ اس ادارے سے استاد جھنڈے خان، پنڈت امرناتھ اور جی اے چشتی بھی منسلک تھے۔ ماسٹر غلام حیدر کچھ عرصہ استاد جھنڈے خان کے معاون بھی رہے۔

1933ء میں اے آر کاردار کی فلم سورگ کی سیڑھی سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا، اس کے بعد انہوں نے فلم مجنوں کی موسیقی ترتیب دی، تاہم ان کی شناخت فلم ساز اور ہدایت کار دل سکھ پنچولی کی فلم گل بکائولی بنی جو 1938ء میں نمائش پذیر ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے لاہور میں بننے والی کئی مزید فلموں کی موسیقی ترتیب دی جن میں یملا جٹ، خزانچی، چوہدری اور خاندان کے نام شامل ہیں۔ 1944ء میں وہ ہدایت کار محبوب کی دعوت پر بمبئی منتقل ہوگئے۔ بمبئی کے قیام کے دوران ان کی جن فلموں نے کامیابی حاصل کی ان میں ہمایوں، چل چل رے نوجوان، بیرم خان، جگ بیتی، شمع، مہندی، مجبور اور شہید کے نام سرفہرست ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد 1948ء میں ماسٹر غلام حیدر واپس لاہور آگئے۔ یہاں انہوں نے فلم شاہدہ، بے قرار، اکیلی، غلام اور گلنار سمیت 7 فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ ان کی آخری فلم گلنار تھی جو ان کی وفات سے 3 روز قبل ریلیز ہوئی تھی۔
ماسٹر غلام حیدر کا شمار رجحان ساز موسیقاروں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے برصغیر کی فلمی موسیقی کو ایک نیا رنگ دیا۔ وہ پہلے موسیقار ہیں جنہوں نے پنجاب کی لوک دھنوں کو اپنے گیتوں میں استعمال کیا۔ انہوں نے کئی نامور گلوکارائوں کو فلمی صنعت سے متعارف کروایا جن میں زینت بیگم، شمشاد بیگم، نورجہاں اور لتا منگیشکر کے نام سرفہرست ہیں۔

ماسٹر غلام حیدر لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خواجہ معین الدین کی وفات

نو نومبر 1971ء کو اردو کے نامور ڈرامہ نگار خواجہ معین الدین انتقال کرگئے۔ خواجہ معین الدین کا تعلق حیدرآباد (دکن) کے ایک زمیندار گھرانے سے تھا جہاں وہ 23 / مارچ 1924ء کو پیدا ہوئے۔

خواجہ معین الدین حیدرآباد (دکن) میں تھے تو اکثر ریڈیو دکن سے پروگرام نشر کرتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے زمانہ طالب علمی میں چند ڈرامے بھی لکھے جن میں سے سرکاری دکان اور پرانے محل بہت پسند کیے گئے۔1948ء میں پاکستان آنے کے بعد بھی انہوں نے اس شغل کو جاری رکھا۔

پاکستان میں انہوں نے جو ڈرامے تحریر کیے ان میں سب سے پہلا ڈرامہ زوال حیدرآباد تھا۔ اس کے بعد انہوں نے نیا نشان‘ لال قلعے سے لالوکھیت تک‘ تعلیم بالغان‘ مرزا غالب بندر روڈ پر‘ جیل کو کہیں سسرال‘ جلسہ عام اور ساون کا اندھا نامی ڈرامے نہ صرف تحریر کیے بلکہ ان کی ہدایات بھی دیں۔

ان کے ڈرامے طنز کے نشتروں اور مزاح کی حلاوت کا ایک خوب صورت مرقع ہوئے تھے اور انہیں دیکھنے والے ایک لمحے کے لیے بھی ان کے مکالمات کے طلسم سے باہر نکل نہیں پاتے تھے۔

خواجہ معین الدین نے صرف 47 سال کی عمر پائی۔ مگر اتنی کم عمری کے باوجود وہ ڈرامہ نگاری میں اپنے انمٹ نقوش رقم کر گئے۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نو نومبر تابش دہلوی کی پیدائش

اردو کے ممتاز شاعر تابش دہلوی کا اصل نام سید مسعود الحسن تھا اور وہ 9 / نومبر 1911ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔

وہ ایک طویل عرصے تک ریڈیو پاکستان سے بطور نیوز کاسٹر اور پروڈیوسر وابستہ رہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں نیم روز، چراغ صحرا، غبار انجم، گوہر انجم، تقدیس، ماہ شکستہ اور دھوپ چھائوں اور نثری تصانیف میں دید باز دید شامل ہیں۔
تئیس سمبر 2004ء کو تابش دہلوی کراچی میں وفات پاگئے اور سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو :

تو ہی رہتا ہے دیر تک موجود
بزم میں تو جہاں سے اٹھتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کی پیدائش

اردو کے نامور مزاح نگار میجر جنرل(ر) ڈاکٹر شفیق الرحمٰن 9 / نومبر 1920ء کو کلانور ضلع روہتک میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کیا اور انڈین آرمی کے شعبہ طب سے وابستہ ہوگئے۔

قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پاک فوج میں خدمات انجام دینی شروع کیں اور میجر جنرل کے عہدے تک پہنچ کر ریٹائر ہوئے۔ 1943ء میں ان کے مزاحیہ مضامین کا پہلا مجموعہ شگوفے کے نام سے شائع ہوا۔

ان کے اس پہلے مجموعے سے ہی ان کا شمار اردو کے صف اول کے مزاح نگاروں میں ہونے لگا اس کے بعد ان کے دیگر مجموعوں لہریں، مدوجزر، پرواز، حماقتیں، پچھتاوے، مزید حماقتیں، دجلہ، کرنیں اور دریچے نے ان کی شہرت کو مزید مستحکم کیا۔ ڈاکٹر شفیق الرحمن نے پاک فوج کے ریٹائرمنٹ کے بعد 1980ء سے 1986ء تک اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی وفات کے بعد انہیں ہلال امتیاز کے اعزاز سے سرفراز کیا تھا۔

انیس مارچ 2000ء کو میجر جنرل(ر) ڈاکٹر شفیق الرحمٰن راولپنڈی میں وفات پاگئے۔ وہ راولپنڈی میں فوجی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گلوکارہ مالا کی پیدائش

پاکستان کی مقبول گلوکارہ مالا بیگم 9 / نومبر 1942ء کوامرتسر میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام نسیم بیگم تھا مگر چونکہ اس نام کی گلوکارہ پہلے سے فلمی صنعت میں موجود تھیں اس لیے انور کمال پاشا نے انہیں ’’مالا‘‘ کا نام دیا۔

مالا نے اپنا پہلا فلمی نغمہ انور کمال پاشا کے شاگرد دلشاد ملک کی فلم سورج مکھی کے لئے گایا جس کے موسیقار ماسٹر عبداللہ تھے۔ 1962ء میں مالا نے موسیقار ماسٹر عنایت حسین کی فلم عشق پر زور نہیں کے لئے ایک گانا گایا جس کے بول تھے ’’دل دیتا ہے رو رو دہائی، کسی سے کوئی پیار نہ کرے‘‘ جسے مالا کی خوبصورت آواز اور سائیں اختر حسین کے دلکش الاپ نے ایک غیرفانی نغمے کی شکل دے دی۔

اس نغمے پر مالا نے اس سال کا نگار ایوارڈ بھی حاصل کیا۔
اس کے بعد مالا پر خوش قسمتی کے دروازے کھلتے چلے گئے۔ 1965ء میں انہوں نے فلم نائیلہ کے نغمے جا اور محبت کرپگلی پر دوسرا نگار ایوارڈ حاصل کیا۔ انہوں نے سو سے زیادہ فلموں میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔ انہیں المیہ اور طربیہ ہر طرح کے گانے پر عبور تھا۔

چھ مارچ 1990ء کو پاکستان کی یہ مقبول گلوکارہ اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثروت حسین کی پیدائش

نو نومبر 1949ء اردو کے ایک معروف شاعر ثروت حسین کی تاریخ پیدائش ہے۔ وہ ایک خوش گو شاعر تھے اور اپنا ایک جداگانہ اسلوب رکھتے تھے۔

انکا پہلا مجموعہ آدھے سیارے پر
1989ء میں شائع ہوا تھا جس کی ادبی حلقوں میں بڑی پذیرائی ہوئی تھی۔ ان کا دوسرا مجموعہ کلام خاک دان ان کی وفات کے بعد 1998ء میں اشاعت پذیر ہوا۔
ثروت حسین 9 / ستمبر 1996ء کو کراچی میں ٹرین کے ایک حادثے میں وفات پاگئے۔

ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:

آج اس چشم فسوں ساز نے پوچھا مجھ سے
کیا ترا سیر و سفر بس اسی منزل تک ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بارشوں میں

ٹہنیاں بادل نہ ہو جائیں کہیں
بستیاں اوجھل نہ ہو جائیں کہیں
لڑکیاں پاگل نہ ہو جائیں کہیں

شاعر: ثروت حسین

SHARE

LEAVE A REPLY