اسحاق ڈار حدیبیہ پیپرز ملز کیس میں دوبارہ ملزم قرار، تحقیقات کا آغاز

0
698

نیب نے اعلان کیا ہے کہ حدیبیہ کیس میں بطور ملزم وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ نیب اسلام آباد کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یہ تحقیقات سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں کی جارہی ہیں۔ پریس ریلیز کے مطابق اسحاق ڈار حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس میں وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے لیکن ریفرنس کے منسوخ ہونے کے بعد اسحاق ڈار کے خلاف بحیثیت ملزم تحقیقات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز نامزد ملزم ہیں جبکہ شہباز شریف، عباس شریف اور والد میاں شریف کا بھی نام ہے۔
خیال رہے کہ کچھ روز قبل چیف جسٹس ثاقب نثار نے نیب کی اپیل پر شریف برادران کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کی سماعت کے لیے 3 رکنی بینچ تشکیل دے دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے پاناما کیس پر نظرثانی اپیلوں کے فیصلے میں نیب کو ایک ہفتے کے اندر حدیبیہ پیپر ملز کیس کھولنے کی ہدایت دی تھی جس پر نیب حکام نے عدالت کو کیس پر اپیل دائر کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ بعدازاں نیب نے حدیبیہ پیپرملز کیس کو دوبارہ کھولنے کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جو لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔
ادھروزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تحقیقات کے آغاز پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ نیب کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر اور خلاف قانون ہے، اسحاق ڈار نے کہا کہ حدیبیہ پیپرز ملز کیس کی دوبارہ تحقیقات سے متعلق نیب کا اعلان غیر منطقی ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے اس معاملے کو ختم کر کے میرے حق میں فیصلہ دیا تھا جب کہ سپریم کورٹ نے اس مقدمہ کی ازسر نو تفتیش کیلئے تاحال کوئی احکامات جاری نہیں کئے اس کے باوجود نیب کا دوبارہ تحقیقات کا اعلان ناقابل فہم اور قانون کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی لاہور میں کارروائی فلاحی اداروں کو منجمد کرنے کے مترادف ہے، دونوں ادارے فلاحی سرگرمیوں کیلئے وقف تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY