ڈُگڈُگی کون بجا رہا ہے ؟ عالم آرا

0
125

ہم پندرہ دن اپنے وطنِ عزیز میں گزار کر آئے ہیں ۔اکثر عجلت میں جانا پڑ جاتا ہے ۔مگر ہمیں ایسا لگا کہ ہم جنت میں جا کر آگئے کیونکہ ہمیں وہاں وقت نہیں ملا ٹی وی دیکھنے کا ٹاک شوز سننے کا ۔جب رات میں آکر بہن سے پوچھتے تو وہ کہتیں بھائی ہم نے تو ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیا ہے کون وقت برباد کرے ؟؟؟ بس خبریں سُن لیتے ہیں وہ بھی کبھی کبھی ۔ہمیں لگا کہ واقعئی اب بہت کچھ ایک جیسا ہے وہ ہی عدلیہ پر لے دے ۔وہ ہی فوج پر طعنہ زنی اور وہ ہی قانون سے جھگڑنے کی روایت ۔لیکن صبر کب تک یہ ہم ضرور دیکھینگے ۔
ھمارے بچپن میں بندر کا تماشہ بہت شوق سے دیکھا جاتا تھا ۔بندر والے کے آتے ہی سب بچے گھروں سے باہر نکل آتے اور بندر اپنے مالک کی ڈُگڈُگی پر اُس کا ہر حکم بجا لاتا تھا مثلا
جب مالک کہتا زرا سیر کر کے دکھاؤ بندر کمر پر ہاتھ رکھ کر سیر کرنے لگتا ،وہ کہتا ناچ کر دکھاؤ تو بندر ناچنے لگتا ،وہ کہتا نشانہ لگا کر دکھاؤ بندر جھٹ اُس کے ہاتھ سے نقلی بندوق لے نشانہ لگانے لگتا ،غرض ڈُگڈُگی کی تھاپ پر بندر ہر کام کرتا اور مالک پیسے بٹورتا اور بندر ایک کیلا کھانے پر صبر کرتا ۔آج کل سیاسی بندر کس کی تھاپ پر ناچ رہے ہیں پتہ نہیں چلتا کوئی اسٹیبلشمنٹ کو شامل کرتا ہے تو کوئی ان دیکھی طاقتوں کو ۔لیکن یہ ڈُگڈگی کس کے پاتھ میں ھے عقدہ نہیں کھلتا ۔ایک پارٹی جس کا شیرازہ بکھر گیاتھا ،پھر سے خبروں میں ہے ،کبھی اتحاد کی وجھ سے کبھی این آر او کے نام پر اور کبھی طاقت کے حصول کے لئے ۔کبھی لندن سے رابطے کے باعث۔۔۔۔۔ڈگڈکی کس کے ہاتھ میں ہے پتہ نہیں ؟
ہمارے سیاسی بہروپئے اس قدر اطاعت گزار اور معصوم ہیں کہ شاید تصور نہیں کیا جاسکتا ۔کوئی والدہ کا اتنا طابعدار ہے کہ اُن کے کہنے پر سب کچھ چھوڑ چھاڑ پھر سے عہدے پر آجاتا ہے ۔کہیں دادا سے اتنا لگاؤ ہے کہ اُنکی دی ہوئی دولت کس طرح بڑھ کر پہار بن جاتی ہے کوئی نہیں جانتا ،کہیں بیٹا اتنا حکم ماننے والا ہے کہ والد نے کس طرح کمایا کھوج نہیں لگاتا بس اُن سے لئے اور دئے جاتا ہے بغیر اس تحقیق کے کہ کس طرح دولت حاصل کی ۔کہیں بیٹی اتنی محبت کرنے والی اور جان دینے والی ہے کہ بغیر کسی عہدے بغیر کسی منصب کے ہر کام میں والد کا ہاتھ بھی بٹاتی ہے اور اُن کے مسائل کا شاہکار بھی بنتی ہے ۔کہیں بیوی اتنی وفادار ہے کہ بیماری کے باوجود قومی مسائل کے حل کے لئے الیکشن لڑتی اور جیت کر بیرونَ ملک علاج کے لئے چلی جاتی ہے ۔لیکن سیٹ کسی اور کو نہیں ملتی ۔یہ خاندانی سیاست ہمیں کہاں لے جائیگی پتہ نہیں لیکن اتنا جانتے ہیں کہ ایسی سیاست شاید ہی کسی ملک میں ہوتی ہے جیسی ہمارے ملک میں ہے ۔ہمیں تو خدشہ ہے کہ کہیں سے وصیت نہ نکل آئے قائدِ اعظم کی کہ ملک کی باگ ڈور بس دو خاندانوں کے ہاتھ میں ہوگی ۔اللہ نہ کرے ،کیونکہ ہمارے یہاں ہر قسم کا فراڈ جائز بھی ہے اور نہ کھلنے والا بھی شاید ۔ اور سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اُس پر کوئی سزا بھی نہیں ملتی جیسے فونٹ ہو یا جعلی دستخط ،اب کیا کام سزا کے کے لئے مخصوص ہیں اُن کی بھی نشاندہی ہونی چاہئے تاکہ ہمیں بھی کچھ تو سمجھ آئے ۔ یا یہ ڈگڈگی بھی یونہی بجتی رہے گی ۔۔
لیکن اب جو ہوا چلی ہے اُ سے سارے ہی سیاسئے متاثر ہو رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ ہم نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ یہ دِن بھی دیکھینگے کہ ملک میں انصاف ہو گا اور ہم اُس چھری تلے آجائینگے جو صرف ہمارے ہاتھوں چلتی تھی ۔فون کیا جسے چاہا سزا دلا دی فون کیا جسے چاہا عہدہ دے دیا ،فون کیا جسے چاہا مقدمے میں پھنسا دیا جسے چاہا بری کرا دیا ۔اب جو سیاست پر بادِ سموم چل رہی ہے اُس نے جھلسا دیا ہے بڑے بڑے طاقتور وں کو جن کے خواب و خٰیال میں بھی نہ تھا کہ پکڑ میں آئینگے ۔
سیاسی گرُ گوں کے لئے ملک کی کوئی بات نہیں ،اُن کی کسی بات میں ملک کہیں نظر نہیں آتا جب کہ ہر کوئی کہتا ہے کہ اُس سے زیادہ ملک اور قوم کا درد شاید ہی کسی کے دل میں ہو ۔اب یہ درد کیوں جاگتا ہے پتہ نہیں ۔کیونکہ کوئی کام عوام کے لئے تو ہوتا دکھائی نہیں دیتا ؟؟ بس خوشخبری یہ ملتی ہے کہ تیار ہو جاؤ محترمہ مریم سیاست میں قدم رنجہ فرمانے والی ہیں ۔کھڑے ہو جاؤ کہ جناب بلاول بھٹو سیاسی میدان میں نکل کھڑے ہوئے ہیں ۔ٹِکر چلتا ہے کہ خوش آمدید کہو آصفہ زرداری سیاسی اکھاڑے میں اُترنے والی ہیں ، ہم یہ سارے نام سُن سُن کر اللہ کے آگے دست بہ دُعا ہیں کہ مالکِ کُل ملک بھی بچا لے اور ہمیں بھی عافیت میں رکھنا ۔کہ ایک گُلا لئی نکلی ہیں ساری سیاست کی بساط پلٹنے کو، اور باقی بھی نا تجربہ کار اور غیر سنجیدہ لوگ میدانِ سیاست میں اُترنے کو تیار ہیں ۔وہ دِن بھی دور نہیں جب ان کے بچے سیاسی سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونگے اور کوئی مائی کا لال اُنہیں سیاست سے نہ روک سکے گا کیونکہ اُن کے کھیسے میں ہوگا باپ کا نام ،دادا کا نام اور ماں اور پھوپی کا نام ،اللہ ایسے سخت وقت سے ملک کو اور اُس کے عوام کو محفوظ فرمائے آمین ہم نا چیز صرف دعا ہی کر سکتے ہیں
بیس بیس سال کی سیاسی پارٹیاں ان نئے لوگوں کے سامنے کچھ نہیں بیچتیں کیونکہ ان کے ناموں مین نام ہیں والدین کے ۔دادا کے نانا کے ۔۔جو ہمارے یہاں طرئہ امتیاز ٹہرتا ہے ۔صلاحیت نہیں شباہت تلاش کی جاتی ہے ،
ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے ملک میں انصاف کی ہوا چل رہی ہے ۔کوئی بھی نہیں چاہتا کہ بلاوجہ کسی کو زیرِ عتاب لایا جائے لیکن جھوٹ اور مکر ،غبن اور بے ایمانی ،کرپشن اور بے نامی وہ لعنتیں ہیں جنہوں نے ہمارے ملک کو کنگال کر دیا اس لئے اُن لوگوں کو معافی نہیں ملنی چاہئے جو اس گھناؤنے کام میں ملوث ہیں ۔یہ بھی ہمارا ہی طرئہ امتیاز ہے کہ تمام وارنٹ زدہ لوگ اپنے اپنے عہدوں پر براجمان ہیں فوٹو کے زریعے بیماریوں کی تشہیر کر رہے ہیں ۔یہ بھی ایک طرفہ تماشہ ہے کہ جیسے ہی کوئی قانون کی زَد پر آتا ہے ایسی ایسی بیماریاں لا حق ہوجاتی ہیں کہ علاج صرف اور صرف بیرونِ ملک ہی ہو سکتا ہے ۔۔تصویریں ایسی ایسی کہ دیکھ کر کلیجہ منہ کو آجاتا ہے اور ساتھ ہی عبرت بھی ہوتی ہے کہ کیا دن دیکھنے پڑ رہے ہیں ،کاش سمجھتے کہ کہ ایک لاٹھی بے آواز ہے جب چلتی ہے تو کوئی نہیں بچ سکتا کوئی نہیں بچا سکتا ۔میاں صاحب اپنی ڈگر پر ہیں کب تک چلینگے اللہ ہی جا نتا ہے ہم تو بس یہ ہی کہتے ہیں کہ ۔۔۔ سب ہی ننگے ہیں اِس حمام میں کوئی نہیں چھُپتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ اپنے پرخچے یوں اُڑاؤ کاش تم سنبھلو
بس انصاف لازم ہے ۔سزا دی جانی چاہئے ملک کو کرپٹ اور جھوٹی مافیا سے بھی نجات ملنی چاہئے ۔کسی بھی کرپٹ کو جائے فرار نہ ملنی چاہئے ۔انصاف کی ڈگڈگی بجتی رہنی چاہئے تاکہ ملک ان تمام آلائشوں سے پاک ہو جائے جن کا تعفُن ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتا ۔
اللہ ہم سب کو عقل اور سمجھ عطا فرمائے ۔اور حق اور سچ کا ساتھ دینے کی توفیق بخشے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY