اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو تین روز میں فیض آباد میں دھرنا ختم کرانے کی ایک اور ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر وفاقی وزیر داخلہ کوشوکا زنوٹس بھی جاری کر دیا گیا۔ ہائیکورٹ کا حکم ملتے ہی ضلعی انتظامیہ میں حرکت میں آتے ہوئے دھرنا قائدین کو آخری وارننگ جاری کرتے ہوئے انھیں آج رات 12 بجے تک فیض آباد کو خالی کرنے کا حکم دیدیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری آخری وارننگ میں کہا گیا ہے کہ پہلے بھی تین وارننگ نوٹسز جاری ہو چکے ہیں لیکن دھرنے کے شرکا گزشتہ دو ہفتے سے غیر قانونی طور پر فیض آباد بیٹھے ہیں اور مسلسل قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے وارننگ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کے حکم پر فیض آباد کے قریب پریڈ گراؤنڈ جلسے جلوس کیلئے مختص ہے۔ اگر آج ہفتے کی رات 12 بجے تک فیض آباد خالی نہ کیا گیا تو ایکشن ہو گا۔ وارننگ آپریشن کی صورت میں تمام تر ذمہ داری دھرنے کے قائدین اور شرکا پر ہو گی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیض آباد دھرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس شوکت صدیقی نے اب تک عدالتی حکم پر علمدرآمد نہ ہونے پرشدید برہمی کا اظہار کیا۔ سیکرٹری داخلہ نے موقف اپنایا کہ ضرورت پیش آنے پر ریاست پوری طاقت کا استعمال کر سکتی ہے، تاہم ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال سے خون خرابہ ہو سکتا ہے۔ اس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ابھی تک تو کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ عدالت کے سوال پر چیف کمشنر نے بتایا کہ حکومت نے اقدام اٹھانے سے روکا ہوا ہے۔ جسٹس شوکت صدیقی بولے کہ وزیرِ داخلہ نے کس اتھارٹی کے تحت عدالتی حکم کے باوجود کاروائی سے روکا؟ وفاقی وزیرِ داخلہ بلکہ وزیرِ اعظم کا عدالتی حکم کے خلاف جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ اقدام عدالت حکم کونیچا دکھانے کی کوشش ہے۔
عدالت نے وزیرِ داخلہ چودھری احسن اقبال کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو 3 روز میں فیض آباد خالی کرانے کا حکم دیا۔ جسٹس شوکت صدیقی نے کہا عدالت سیدھی سیدھی گولیاں چلانے یا فائرنگ کرنے کا لائسنس نہیں دے سکتی، آنسو گیس کے شیلز سے بھی آدھے سے زائد لوگ بکھر جائیں گے۔ عدالت نے راجہ ظفرالحق رپورٹ 27 نومبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ پبلک نہیں کریں گے، جن لوگوں کے نام شامل ہیں وہ باہر نہیں جائیں گے۔ عدالت نے ڈی جی آئی بی اور آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کو طلب کرتے ہوئے کہا کہ فیض آباد دھرنے کے پیچھے ایجنسوں کے ہونے کے تاثر کو ختم کرنا حساس اداروں کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے سماعت 27 نومبرتک ملتوی کر دی۔
خیال رہے کہ مذہبی جماعتوں کی جانب سے گزشتہ دو ہفتوں سے اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں دھرنا دے رکھا ہے جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس تمام علاقے کو خاردار تاریں اور کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے جس سے لوگوں کو کئی کئی میل پیدل چلنا پڑتا ہے۔












