اسلام اور حقوق العباد( 20) ۔۔۔ شمس جیلانی

0
173

ہم گزشتہ مضمون میں یہاں تک پہونچے تھے کہ حضور(ص) کے اتباع میں عافیت اس لیے ہے کہ وہی دینِ اسلام ہے کیونکہ نہ ا کیلا قرآن دین ہے نہ اکیلی احادیث دین ہیں دینِ اسلام نام ہے اس کا جیسا کہ حضور(ص) نے عمل کرکے صحابہ کرم (رض)کو دکھایا اورا للہ تعالیٰ سورہ ا لعمران کی آیت نمبر20 میں فرمارہا ہے کہ سوائے دینِ اسلام کے مجھے کوئی دین پسند نہیں ہے۔ جبکہ حضور (ص) کا ارشاد گرامی ہے کہ جس کے کان میں میرا نام پہونچااور وہ پوری طرح ایمان نہیں لایا ،یااپنے آخری وقت تک اس پر قائم نہ رہا تو اسکاٹھکانا جہنم ہے۔ یہ مہینہ حضور (ص)کی پیدائش کا مہینہ ہے جس میں سب سے زیادہ ان ہی کا ذکر ہوتا ہے۔گزشتہ سال تک اس کا منانا اس سرزمین پر جہاں کہ حضور (ص) کی ولادت ہوئی، اور پہلی اسلامی ریاست قائم ہوئی بدعت تھا اب ایک پاکستانی روز نامہ میں پڑھا ہے کہ اس سال وہ سرکاری طور منا رہے ہیں خدا کرے کہ خبر صحیح ہو۔ رہے عاشقان رسول(ص) ان کے لیئے وہ پہلے بھی عید کا دن تھا اب بھی عید کادن ہے جبکہ اب وہ بھی اسی راہ پر آگئے ہیں تو اچھی بات ہے اللہ سبحانہ تعالیٰ انہیں بھی ہدایت اور توفیق سے نوازے تاکہ ان کا حلقہ اثر جو عام مسلمانوں سے کٹ کر رہ گیا تھا وہ عام مسلمانوں میں شامل ہوسکے اور اس طرح ملتِ اسلامیہ سے تفرقہ بازی ختم ہوسکے ۔ جبکہ پوری دنیا پہلی سے ہی یہ دن مناتی آئی ہے۔ مگر منانا صرف یہ نہیں ہے کہ جلسے کیئے جائیں اور جلوس نکالے جائیں بلکہ میرے خیال میں منانایہ ہے کہ اس پورے مہینہ کو رمضان المبارک طرح ریفریشر کورس کے طور پر منایا جائے یعنی دوبارہ زیادہ سے زیادہ اسوہ حسنہ (ص) پر مسلمان عامل ہوں تاکہ اللہ راضی ہوجائے اور امت مسلمہ کی حالتِ ابتر جو ا ن کے پاس سب کچھ ہوتے ہوئےآج ہے۔ کہ دنیا میں خوار ہیں، وہ صورتِ حال بدل جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں خدانخوستہ یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ جلسے جلوس نہ کریں؟ کریں ضرور کریں اچھی بات ہے۔ وہ بھی ثواب ہے کہ نبی ( ص) سے اظہارِ محبت اور مودت کازریعہ ہے۔
مگر باعثِ نجات اسوہ حسنہ پر عمل کرنا ہے۔ جس کے لیے میں نے آپ کو بہت آسان نسخہ گزشتہ مضمون میں بتایا تھا کہ آپ صرف نیت تبدیل کرلیں اور تبلیغ شروع کردیں جو آپ کی ذمہ داری تھی اور آپ بھولے ہوئے تھے۔ پھر یہاں جو قدم بھی آپکا اٹھے گا۔ وہ ثواب ہی ثواب ہوگا اور آپکے لیےصدقہ جاریہ اور باعث نجات بھی ہوگا۔
ہم سب کہتے تو ہیں کہ ہمارے نبی (ص) سب کے لیے رحمت ہیں۔ لیکن عملی طور پر ہم ان جیسے مہربان نہیں ہیں وہ تو انسانوں پر ہی نہیں درختوں اور جانوروں پر بھی مہربان تھے۔ مگر ہم! پہلے ہم سب سے محبت کرنا سیکھیں ، درگزر کرنا سیکھیں بات بات پر لڑنا اور بگڑنا چھوڑیں اپنے خلاق کو سدھاریں کچھ تو خود کو حضور (ص) جیسابنائیں جس کی تعریف خود خالق کررہا ہے۔ اے بنی! آپ خلق العظیم کے مالک ہیں۔ اگرپور ے اسوہ حسنہ (ص)میں سے صرف یہ با تیں آپ اپنا لیں، تو آپ دیکھیں گے۔کہ آپ سے ایک دم لوگ محبت کرنے لگیں گے۔ باقی رہا صرف زبانی جمع خرچ ؟ وہ تو بقول حضرت علی کرم وجہہ کے “اچھی باتیں تو برا آدمی بھی کر لیتاہے “ اس عمل کو مزید تقویت دینے کے لیےآ پ اتنا اورکریں کہ یہ عادت بنا لیں کہ ہر معاملہ پر یہ سیرت سے جاننے کی کوشش کریں کہ حضور (ص)نے اس موقعہ پر کیا عمل کیا تھا جس سے آپ اس وقت دوچار ہیں تو غصہّ بھی ٹھنڈا ہو گائے گا، پھرکوئی گناہ اور زیادتی بھی آُ پ سے سرزد نہیں ہو سکے گی؟ مگراس عمل کے لیے ضروری یہ ہو گا کہ آپ زیادہ سے زیادہ وقت جو بھی آپ کو میسر ہو حضور (ص) کی سیرت کا مطالعہ کریں جو عالمی اخبار میں آرکائی میں میری کتاب “روشنی حرا کی شکل میں موجود ہے“ چاہیں تو وہاں پڑھ لیں۔ ورنہ اپنی پسند کی کسی دوسری سیرت میں پڑھ لیں جتنا اس کا علم بڑھتا جائےگا ۔نجات قریب آتی جا ئےگی ۔ باقی آئندہ

SHARE

LEAVE A REPLY