لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ( پیمرا) کے چیئرمین کے عہدے کے لیے کم سے کم اہلیت ’ گریجویشن ڈگری‘ رکھنے پر تحفظات کا اظہار کردیا۔

واضح رہے کہ اس مقدمے کی مزید سماعت 29 نومبر کو ہوگی جس میں پیمرا کے وکیل کی جانب سے جواب جمع کرائے جائیں گے۔

اس سے قبل گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں سینئر صحافی ابصارعالم کی بطور چیئرمین پیمرا تقرری کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ دنیا بھر میں اس طرح کے اعلیٰ عہدوں کے لیے کم سے کم قابلیت کی اہلیت بڑھائی گئی ہے لیکن پاکستان میں اسے کم کردیا گیا۔

جج نے ملک کے ذرائع ابلاغ کی نگرانی کے لیے سربراہ کو مقرر کرنے کے لیے تشکیل کردہ انتخابی بورڈ کی آزادی کے بارے میں استفسار کیا اور کہا کہ کیا بورڈ میں تمام ممبر سرکاری ملازم تھے اور اس میں کوئی آزاد ممبر شامل نہیں کیا گیا تھا؟

اس موقع پر پیمرا کے وکیل علی شاہ گیلانی سلیکشن بورڈ کی جانب سے شورٹ لسٹ کے لیے استعمال کیے گئے فارمولے پر اٹھنے والے سوالات پر عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔

انہوں نے کہا کہ تین امیدواروں کا پینل تھا جس میں سے وزیر اعظم نے ابصار عالم کو اس عہدے کے لیے منتخب کیا۔

وزیر اعظم کے حکم پر نجی نیوز چینلز کی نشریات کی حالیہ معطلی کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ اتھارٹی کے چیئرمین بظاہر آزادانہ کام نہیں کررہے۔

جج نے کہا کہ پیمرا چیئرمین یا بورڈ نے اس معاملے پر آزادانہ فیصلہ کیا؟ نیوز چینلز کی بندش کے حوالے سے فیصلہ الگ معاملہ تھا۔

ایڈووکیٹ علی گیلانی نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی عوامی مفاد کی درخواست نہیں، انہوں نے ابصار عالم کی تقرری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس پورے عمل میں قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی تھی۔

اس موقع پر درخواست گزار نے پیمرا کے چیئرمین کی بہت زیادہ تنخواہ پر اعتراض اٹھایا، جس پر وکیل نے کہا کہ اشتہار کے مطابق تنخواہ کا پیکج مناسب تھا۔

درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیقی نے کہا کہ ابصار عالم 15 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ وصول کر رہے ہیں جبکہ پیمرا کے چیئرمین کا عہدہ مینجمنٹ پوزیشن ( ایم پی 1) کے برابر ہے، جس کے مطابق ان کی تنخواہ 4 لاکھ 50 ہزار ہونی چاہیے۔

انہوں نے اسے وفاقی حکومت کے ایک حصے کی جانب سے میرٹ کی خلاف ورزی اور اقرباء پروری کا مقدمہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عہدے پر عارضی طور پر تقرری کی گئی۔

وکیل نے مزید کہا کہ حکومت نے اس عہدہ پر درخواست کنندہ کو سہولت فراہم کرنے کے لیے تعلیمی قابلیت میں بھی چھوٹ دی۔

انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اس طرح یک طرفہ تقرری کو غیر قانونی قرار دیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY