سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آلودہ پانی کیس کی سماعت ہوئی۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ عدالت میں حاضر ہوئے۔ چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ سندھ سے کہا کہ اس کیس کو مخاصمانہ نہ لیجئے، ہم نے بڑے عزت و وقار اور احترام سے آپ کو بلایا ہے، ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگوں کو اس آلودہ پانی سے نجات دلائی جائے۔ یقین مانیں کہ ہمیں انتہائی دکھ ہوتا ہے یہ حالت دیکھ کر، ہم اس کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کہیں گے تو میں اور آپ مٹھی جاکر نہر سے ایک گلاس پانی پئیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے استدعا کی کہ مجھے چند منٹ بولنے کی اجازت دی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو بولنے کا پورا موقع ملے گا، پہلے اس حوالے سے دستاویزی فلم دیکھیں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ وزیر اعلی صاحب حکومت نے یہاں کے لوگوں کی زندگیاں خراب کر دی ہیں۔ ہمیں آپ لوگوں کیخلاف کاروائی کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ یہاں کے لوگوں کے حال پر مجھے درد محسوس ہوا، سندھ کے لوگ بہت تکلیف میں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا لوگوں کو صاف پانی پینے کو نہیں مل رہا، ہم خود گندگی کو پینے کے پانی میں شامل کر رہے ہیں۔ آپ وفاق کے بغیر اس معاملہ کو حل نہیں کر سکتے تو بتائیں ہم آپ کی مدد کرتے ہیں۔
چیف جسٹس نے اوپن کورٹ میں ڈاکومنٹری کلپ پلے کرائی اور کہا کہ ڈاکومنٹری میں آپ دیکھے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ سندھ کے لوگ کتنا آلودہ پانی پی رہے ہیں۔ وزیر اعلی سندھ سمیت دیگر حکام بھی دیکھیں، لوگ کس طرح پانی پی کر بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔ دستاویزاتی فلم کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ خواہش تھی کہ چییرمین بلاول بھٹو بھی یہاں ہوتے اور صورتحال دیکھتے۔ بلاول بھٹو کو بھی معلوم ہوتا کہ لاڑکانہ کی کیا صورتحال ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دئیے کہ آپ کو لوگوں نے مسائل حل کرنے کے لیے منتخب کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت میں کوئی معاملہ عدالت تک نہیں آیا۔ انتظامیہ کی نا کامی کے بعد لوگ عدالتوں کا رخ کرتے ہیں۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ شاہ صاحب، ان باتوں کو چھوڑیں کہ مسائل کب حل ہوں گے۔ ہم یہاں مسائل کے حل کے لیے آئے ہی، ہمیں ملکر کوئی حل نکالنا ہوگا تا کہ مسئلہ حل ہو۔ آپ کےچیئرمین بلاول بھٹومیرے بچوں کی طرح ہیں، خواہش تھی کہ بلاول بھٹوبھی یہ دیکھیں، لاڑکانہ اور دیگر شہروں کےلوگ کون سا پانی پی رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ بولے جو ویڈیو دیکھائی گئی وہ درخواست گزار کی بنائی ہوئی ہے جبکہ صورتحال اتنی سنگین نہیں ہے، موقع ملا تو بہت جلد سپریم کورٹ میں ویڈیو پیش کروں گا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے شاہ صاحب، آپ اس ویڈیو کو چھوڑیں مگر کمیشن کی رپورٹ ہی دیکھ لیں، کمیشن کی رپورٹ کی سنگینی کا جائزہ لیں۔ رپورٹ سے مسائل کا حل تلاش کریں، کمیشن کی رپورٹ مسئلہ کے حل تک پہنچنے کا ذریعہ ہے جو نشاندہی کی گئی، اس سے مدد لیں۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ عدلیہ کو انتظامیہ کے اختیارات استعمال کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ سندھ سے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے کندھے آپ کو دینے کے لئے تیار ہے لیکن شاہ صاحب آپ کو بھی کام مکمل کرنے کی گارنٹی دینی ہوگی۔ علم، لیڈر شپ اور قانون پر عمل کرنے والی قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔ ماضی میں جو ہوا ہم دوسرے مرحلے میں ذمہ داروں کا تعین بھی کریں گے، پینے کا پانی صوبائی معاملہ ہے، آپ ہی حل کریں گے۔ یہ مسئلہ اب حل ہونا ہے۔اگر آلودہ پانی سے نجات نہ دلائی تو اپنے بچوں کو کیا مستقبل دیں گے، مل کر کام کریں تو انشاء اللہ چھ ماہ میں یہ مسلۂ حل ہوجائے گا۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ چھ ماہ میں یہ کام مکمل نہیں ہو سکتا، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ مہلت مانگیں گے تو وقت بڑھا دیں گے، کیا ہمیں نہیں پتہ رشتہ داروں کو ٹھیکے دیے جاتے ہیں، ہم ان چکروں میں نہیں پڑنا چاہتے۔ وزیر اعلیٰ سندھ بولے منتخب ہونے کے بعد طے کیا تھا کچھ مثالیں قائم کروں گا۔ سمت درست کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ یقین دلاتا ہوں آپ کو کام نظر آئے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اچھا کام کریں گے تو لوگ بار بار منتخب کریں گے، سال میں دریا سندھ کا کتنا پانی سمندر میں جاتا ہے۔ آپ اس پانی کو کراچی کے لوگوں کی ضروریات کیلئے کیوں استعمال نہیں کرتے، دریا سندھ میں پانی بہت کم ہوتا ہے، پانی کی قلت کے باعث بدین اور ٹھٹہ تباہ ہو رہے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY