عالمی طاقتوں کا امریکا کو القدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے پر سخت انتباہ

0
48

دنیا کے مختلف ممالک اور عالمی اداروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے اعلان پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے خطے اور عالمی سطح پر سنگین مضمرات ہوں گے۔
ترک حکومت کے ترجمان نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے سے پو را خطہ اور دنیا آگ کی ایسی لپیٹ میں آجائیں گے کہ ان سے نکلنا بہت مشکل ہوگا۔
ترکی کے نائب وزیراعظم بکیر بزداق نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ یروشیلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا تاریخ او ر خطے میں سچائیوں کو تسلیم نہ کرنا ہے۔یہ ایک بہت بڑی ناانصافی ، سفاکیت ، تنگ نظری ، حماقت اور پاگل پن ہے۔یہ خطے اور دنیا کو آگ میں دھکیلنا ہے اور اس کا کوئی انجام بھی نظر نہیں آتا‘‘۔
انھوں نے کہا:’’ میں ہرکسی سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ منطقی انداز میں فیصلے کرے ،دست خط کیے گئے سمجھوتوں کا احترام کرے اور ذمے داری سے کردار ادا کرے۔اپنی داخلی سیاست یا دوسری وجوہ کی بنا پر دنیا کے امن کو خطرے سے دوچار کرنے سے گریز کرے۔
برطانیہ
برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو صدر ٹرمپ کے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے پر تشویش لاحق ہے۔
انھوں نے کہا:’’ ہم جو رپورٹس سن رہے ہیں،ان پر ہمیں تشویش لاحق ہے کیونکہ اسرائیلیوں اور فلسطینورں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے کسی حتمی معاہدے میں یروشیلم کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جانا چاہیے۔
پوپ فرانسیس
رومن کیتھو لک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے ایک بیان میں مقبوضہ بیت المقدس کی جوں کی توں صورت حال برقرار رکھنے پر زوردیا ہے۔
انھوں نے ویٹی کن میں اپنے ہفتہ وار خطاب میں کہا کہ ’’ میں حالیہ دنوں میں رونما ہونے والی صورت حال کے بارے میں اپنی گہری تشویش کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔اس کے ساتھ ہی ساتھ میں تمام لوگوں سے یہ اپیل کروں گا کہ وہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق شہر کی موجودہ حیثیت کا احترام کریں۔
اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے امن ایلچی برائے مشرق وسطیٰ نیکولے میلادینوف نے کہا ہے کہ بیت المقدس کے مستقبل کا فیصلہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے ۔انھوں نے متنازع شہر کے بارے میں کسی بھی اقدام کے سنگین مضمرات سے آگاہ کیا ہے۔
مسٹر نیکولے نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اس موضوع پر بہت مرتبہ بیانات جاری کر چکے ہیں اور وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ہمیں اپنے اقدامات کے مضمرات کے بارے میں بہت محتاط رہنا ہوگا ۔
انھوں نے کہا کہ ’’ یروشیلم کے مستقبل کا فیصلہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے۔وہ آپس میں مل بیٹھیں اور تصفیہ طلب مسائل کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں‘‘۔
جرمنی
جرمنی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اپنی اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں متشدد جھڑپیں شروع ہوسکتی ہیں۔
وزارت خارجہ نے برلن میں اسرائیل اور فلسطینی علاقوں میں جرمن شہریوں کے لیے نیا سفری انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’ 6 دسمبر 2017ء سے مقبوضہ بیت المقدس ، غرب اردن اور غزہ کی پٹی میں مظاہرے ہوسکتے ہیں اور ان کے دوران میں جھڑپوں کے امکان کونظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
چین
چین نے بھی صدر ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر نے کے فیصلے پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پورے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے کہا ہےکہ ’’ ہمیں کشیدگی میں ممکنہ اضافے پر تشویش لاحق ہے۔تمام متعلقہ فریقوں کو علاقائی امن اوراستحکام کو ملحوظ رکھنا چاہیے اور تنازع فلسطین کے حل کے لیے کوئی نئی بنیاد وضع کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
امریکی انتظامیہ کے ایک سینیر عہدے دار نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ آج بدھ کی رات گرینچ معیاری وقت کے مطابق 1800 جی ایم ٹی پر ایک نشری تقریر میں مقبوضہ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا ا علان کرسکتے ہیں۔
فلسطینی صدر محمود عباس پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ اگر امریکا نے یروشیلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا تو اس سے وائٹ ہاؤس کی مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’یروشیلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے یا وہاں امریکی سفارت خانہ منتقل کرنے کا فیصلہ بالکل ناقابل قبول ہے اور یہ مستقبل میں امن عمل کے لیے ایک خطرہ ہے‘‘۔
واضح رہے کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے ممالک نے اس وقت تل ابیب میں اپنے سفارت خانے قائم کررکھے ہیں کیونکہ وہ اسرائیل کے مقبوضہ بیت المقدس پر کنٹرول کے یک طرفہ دعوے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور اس کو متنازع شہر قرار دیتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے گذشتہ سال اپنی انتخابی مہم کے دوران میں امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی جبکہ سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے گریز کیا تھا۔
اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس کو یک طرفہ طور پر اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا۔اب وہ تمام شہر کو اپنا دائمی دارالحکومت قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس پر یہود کا حق ہے جبکہ فلسطینی بیت المقدس کے مشرقی حصے کو مستقبل میں قائم ہونے والی اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تصفیہ طلب مسائل میں مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت پر تنازع سب سے نمایاں ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY