وزیرعظم نوازشریف اور ان کے اہلخانہ کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کیسے ہو؟مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ابھی بنی نہیں کہ پہلی رکاوٹ سامنے آگئی ،پاکستان کا ٹیکس بچانے کی جنت سمجھے جانے والے 9ممالک سے معاہدہ ہی نہیں۔

تحقیقات کے لئے آف شور کمپنیوں کے ثبوت کیسے حاصل ہوں گے؟معلومات کے تبادلے کے عالمی معاہدوں پر عمل درآمد جو لائی 2018ء سے ہی ہوسکے گا،سپر کورٹ کی ہدایت پرجو ٹیم بننے گی وہ 2ماہ میں کیا کرسکے گی ؟

پاناما کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے 7 روز کے اندر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کے احکامات جاری کیے،تحقیقاتی ٹیم تو ابھی بنی نہیں،لیکن اس کے تفتیش کے اختیارات پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔

ایک جانب تو ٹیکس بچانے کی جنت سمجھے جانے والے 9 ملکوں معلومات کے حصول کا معاملہ ہے تو دوسری طرف معاشی تعاون اور ترقی کی تنظیم کے معاہدے کی بیڑیاں ہیں جو2018ء کے بعد کھلیں گی۔

آسان لفظوں میں کہا جائے تو اگلے سال سے ہی پاکستان کو اپنے شہریوں کے بیرون ملک فنڈز کی تفصیلات مل سکیں گی جبکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے پاس آف شور کمپنیوں کی معلومات حاصل کرنے کے لیے صرف 2 ماہ کا وقت ہوگا۔

سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس بچانے کی جنت سمجھے جانے والے دنیا کے نو ملکوں سے پاکستان کا ایسا کوئی معاہدہ نہیں، جس کی رو سے آف شور کمپنیز کی معلومات حاصل کی جاسکیں،خود وزیر داخلہ چوہدری نثاربھی اس مجبوری کا اظہار کرچکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جن آف شور کمپنیوں کی معلومات درکار ہیں، ان میں سے زیادہ تر برٹش ورجن آئی لینڈز میں قائم ہیں،اس کے علاوہ بہاماس،سیموا،ماریشس،پاناما سے بھی معلومات اور ثبوت حاصل کرنے کے لیے یہاں کے حکام کو اکتوبر 2016ء میں خطوط لکھے گئے،لیکن صرف سیموا آئی لینڈ کی طرف سے جواب آیا وہ بھی انکار میں کیونکہ دونوں حکومتوں کے درمیان مشترکہ ڈبل ٹیکسیشن کا کوئی معاہدہ وجود نہیں رکھتا،باقی علاقوں کے حکام نے جواب دینے کی زحمت بھی نہیں کی۔

اس صورت حال میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کیا معلومات نکالے گی اور سپریم کورٹ کو کیا جواب دے گی،اس کے لیےکیجیے تھوڑا انتظار،کیونکہ پکچر ابھی 2 ماہ کے لیے باقی ہے

SHARE

LEAVE A REPLY