صبح نو ۔۔ ترجیحات۔۔۔طاہرہ مسعود ،کینیڈا

5
521

ہمارے نو منتخب وزیر اعظم عمران خان صاحب کے نتائج کے بعد مختصر تاثرات سنے۔ شکریہ کہ انہوں نے سب سے پہلے ہمارے بلوچ بہن بھائیوں کا ذکر خیر کیا۔ اس وقت ان کو داد رسی کی بہت ضرورت ہے۔ آپ ایک دردمند دل اور قومی غیرت رکھنے والے انسان ہیں۔ امید ہے کہ آ پ ان کے مسائل کا ذاتی طور پر جائزہ لے کر ان کی جائز مطالبات جلد پورے کریں گے۔
پاکستان کے وزیر اعظم کے طور پر ایک باشعور اور باضمیر انسان کو دیکھ کر اپنے کچھ تحفّظات کے باوجود ایک طمانیت کا احساس ہو رہا ہے۔ اللہ کرے کہ یہ دن پاکستان کی قسمت بدلنے کا دن ثابت ہو اور اب ملک میں امن کی فضا ساز گار ہو اور ملکی معیشت اور مجموعی نظام بہتری کی شاہرہ پر گامزن ہو جائے۔آمین۔ پاکستان کا وقار تو عمران خان کے الیکشن کے ساتھ ہی دنیا میں بلند ہو چکا ہے۔ یاس امحسوس ہوتا ہے کہ اب پاکستان کا اللہ کے بعد کوئیو الی وارث ہے۔ کوئی ا س کا ہمدرد ہے۔ سب ملک دشمن سیاستدانوں کو اپنی پڑی ہوئی ہے۔ ایک کھلبلی کی سی کیفیت ہے ان میں۔ جبکہ محب وطن پاکستان کو فضا صاف اور خوشگوار محسوس ہو رہی ہے۔
عمراں خان صاحب نے جیتنے کے بعد جو سادہ حکومتی رہن سہن کی یقینی دہانی کروائی ہے وہ بے حد خوش آئند ہے۔ جہاں عمران خان صاحب نے دیگر اصلاحت کا تذکرہ کیا ہے وہیں اگر وہ چند دوسرے اہم امور پر بھی اپنا ایجنڈا عوام کو بتادیں توبہت اچھا ہو۔
ملک کو اس وقت بہت سے سنگین مسائل کا سامنا ہے جس میں یوں ۔۔۔۔
٭اوّل تعلیم اور صحت ہے۔ لیکن اس وقت بدقسمتی سے سب سے بنیادی چیز پانی ا ورفضا یعنی ہوا یہ دونوں خطرے میں ہیں۔ اس لیے ڈیمز کی تعمیر اوّلین ترجیح ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی جنگلات کا جو توازن پہلی حکومتی کی نااہلی کی وجہ سے بگڑا ہے اس کو بھی نارمل پر لانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس سے موسموں کی شدت میں کمی آئے گی۔ اور فضا صاف ہو گی۔ ہوا کی کثافت ختم ہو گی۔ علاوہ ازیں شہروں میں شجر کاری بھی ازبس ضروری ہے۔ کسانوں کو سہولت دے کرزراعت کے امکا نات وسیع تر کیے جانے کی سخت ضرورت ہے۔
٭ جیسا کہ پی ٹی آ ئی کا ایجنڈا ہے کہ ملک بھر میںا سپتال قائم کیے جائیں گے۔ یقین ہے کہ اب حکومت سرکاری اسپتالوں میں کرپشن کا مکمل خاتمہ یقینی بنائے گی۔ اور وہاں دوائیوں کی دستیابی سریع اور آسان ہو نیز نضافت اور ہائیجین یعنی عمومی صفائی بھی معیاری ہوگا۔
٭ تعلیم کا فرسودہ اور بے معنی نظام بدل کر آسان اور با مقصد نصاب متعارف کرویا جائے ۔ سرکاری اسکولوں اور پرائیویٹ سکولو میں جو فرق ہے جس کی وجہ سے والدین کی آمدن کا ایک بڑا حصہ بچوں کی تعلیم کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس دراڑ کو ختم کریں گے۔ نیز اسکولوں میں مذہبی اور لسانی منافرت پر مبنی نصاب مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ گستاخی کابے بنیاد اور غلط الزام لگانے والے ذہنی مریضوں کی بیماری کے علاج طور پر ان کی باقاعدہ سزا مقرر کی جائے۔ کہ الزام غلط ثابت ہونے پر ان کو جرمانہ یا قید کی سزا یا دونوں دی جائیں۔
٭ہمارے ملک میں بچوں کے لیے دودھ میں ملاوٹ سے متعلق جو روح فرسا حقائق ہیں ان سے نمٹنے کے لیےپورے ملک میں اعلیٰ نسل کی گائے بھینسوں کی سرکاری سرپرستی میں افزائش کی جائے تا کہ عوام الناس کو دودھ اور گھی وافر سستا ، خالص اور مناسب داموں پر مل سکے۔ یہ عوام کی صحتوں کا سوال ہے۔ صحت مند بدن صحت مند سوچ کو فروغ دیتا ہے۔ ہمارے پچھلے لیڈران اعلی ترین گاڑیوں کے فلیٹس (fleets) ہونے کے باوجود باہر سے درآمد قیمتی گھوڑوں کے اصطبل رکھتے تھے۔ جو صرف شغل تھا ۔ ان کو اس کی چنداں ضرورت نہ تھی۔ ان گھوڑوں کو مربّے، بادام اور سیب کھلائے جاتے ہیں۔ جبکہ عوام کو بھینسوں کے باڑوں کی سخت ضرورت ہے۔ یا تو حکومت خود کھولے یا گوالوں کو قرضے دے کہ وہ خود چلائیں ۔ لیکن حکومت ان کا ٹریک رکھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ پیسہ ذاتی ضروریات میں تو استعمال نہیں ہو رہا۔

٭آج کل دیہاتوں سے لوگوں کا شہر میں آکر آباد ہونے کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے جس سے شہروں میں بہت بھیڑ اور عوامی سہولیات کا فقدان ہوتا جا رہا ہے۔ ہے اس کے لیے دیہاتوں میں اسکول، کالج اسپتال اور کارخانے لگائے جائیں۔ اس سکلسلے میں نجی کارخانوں اور فیکٹریوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے۔۔ تاکہ وہاں لوگوں کو تعلیم روزگار اور صحت کی سہولتیں میّسر ہوں۔
٭ پاکستان کے تمام چھوٹے شہروں میں عموماً اور بڑے شہروں میں خصوصاً سیوریج کے نظام کو بہتر کیا جائے بلکہ اس کا جال بچھایا جائے۔ جو پہلے سے موجود ہیں ان کو مرمت اور صفائی کے ذریعے بحال اور فعّا ل یا جائے۔ تا کہ بارشوں میں سڑکو پر پانی اکٹھا ہو کر ٹریفک کو مفلوج نہ کرے۔ تمام ملک میں صفائی کے لیے اور اور گند گی کوختم کرنے کے خاص اقدامات کیے جائیں۔ چاہین تو ابتدائی طور پہ نوجانون کی رض اکار تنظیمیں بنائی جائین جو ہفتہ وار شہر کی صفائی میں حصہ لیں۔ اس طرح نوجوانوں میں سوک سینس یعنی ایک ذمہ دار شہری کی روح بیدار ہو گی۔ اور وہ فالتو بیٹھ کر غلط ہاتھوں میں پڑنے سے بچ رہیں گے۔ اس طرح ان میں سے اچھا کام کرنے والوں کو حکومت سند دے جو ہر ادار ے میں اس کی ایک اضافی قابلیت کے طور پر مانی جائے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ بہت بڑا ایجینڈ اہے اور اس میں وقت لگے گا لیکن کم و بیش یہ سب پاکستان کی حکومت میں زیادہ تر سارے ادارے موجود ہیں اور باقاعدہ تنخواہیں بھی لیتے ہیں۔ مگر فیوڈل سسٹم اورکرپٹ حضرات نے ان کو ناکارہ بنا رکھا ہے۔ بس ان کو ٹیوننگ کی ضرورت ہے۔ اگر یہ باتیں ایجنڈے پر ہوں گی توعمل بھی ہو سکے گا۔
٭اندازہ ہوتا ہے کہ آنےو الی حکومت پاک چین دوستی کومزید فروغ دے گی۔ اچھی بات ہے مگرچین دو نمبر مال کے لیے مشہور ہے۔ ا سکی سروسز بھی کہیں دو نمبر نہ ہوں اس کا یقین کر لینا چاہیے۔ اور یہ بھی خیال رہے کہ چین پر اتنا اعتماد اور انحصار نہ ہو کہ ہم اپنے گھر میں ثانوی حیثیت اختیار کر جائیں۔ پھر یہ کہ ، یہ دوستی برابری کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ اور یہ بھی خیال رہے کہ ہم صرف نیچے کا ہاتھ نہ بنیں۔
٭اللہ کے فضل سے ہماری قوم میں ذہانت اور محنت کی کمی نہیں۔ ان ذہین طاقتوں کو کرپشن اور کرپٹ لوگ آگے نہیں آنے دیتے تھے۔ ایک ایسا دارہ بنائیں جس سے ایسے لوگ رابطہ کر سکیں جو ریسرچ یا سائینسی اور ٹیکنالوجی یا انڈسٹریز کے حوالے سے کوئی بہتر چیز متعارف کروانا چاہتے ہوں۔ حکومت ا س آئیڈیے کی خود سرپرستی کرے۔ تاکہ ہمارے اپنے انجینیئر زاور ڈاکٹرز اور ریسرچرز بلکہ عامتہ الناس بھی اپنے ملک کے لیے اپنا ہنر پیش کر سکیں۔
چین سے دوستی میں ا س لیے بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ تو دور تھا اس کا ہاتھ ہمارے گریبان تک پہنچنے میں دیر لگتی تھی۔ یہ بغل میں بیٹھا ہے ۔ نیّت خراب ہوئی تو چھوڑے گا نہیں۔
٭ خواتین کے لیے بڑی تعداد میں سرکاری اسکول پورے ملک میں کھولے جائیں۔ خصوصاً اندررون سندھ تھر میں خواتین کی تعلم کا نظام بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ تا کہ وہاں خواتین سے متعلق بے ہودہ رسموں مثلاً قرآن سے شادی، کاروکاری وڈیروں کی غلامی جیسی قبیح رسوم کا خاتمہ ہو۔
٭تھر میں جگہ جگہ نل اور ٹیوب ویل لگائے جائیں تا کہ خواتین کو پانی بھرنے کے لیے جھلستی دھوپ میں دور نہ جانا پڑے۔
ہم بیرونی ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کے نبضیں پاکستان کےساتھ چلتی ہیں۔ دل اس کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ہم سانس سانس اس کی بہتری کے لیے دعا گو رہتے ہیں۔
خدا کرے کہ مری ارض پاک پہ اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہ ء زوال نہ ہو
باقی ہمارے حکمرانوں کا عقیدہ کیا ہے ہمیں ا س سے کوئی غرض نہیں سوائے اس کے کہ وہ پاکستانی ہیں اور ملک سے مخلص ہیں۔ اوریہ کہ اس مملکت خداد داد کے لیے جو اس وقت اندرونی بیرونی سازشوں کا شکار ہے کے لیے وہ کیا بہتری لاتے ہیں ۔ اللہ کرے کہ عمران خان واقعی قائد اعظم کا تقریباً ستر سال قبل اغو اہو جانے والا بچہ ان کا پاکستان اندرون ملک بسنے والے حکومت کی مشینری میں بیٹھےملک دشمن عناصر سے رہاکرو الیں ۔آمین
طاہرہ مسعود ،کینیڈا

SHARE

5 COMMENTS

  1. محترمہ طاھرہ مسعود صاحبہ کی تحریر کردہ سبھی باتیں ایک پاکستانی کے دل کی کی حقیقی ترجمانی کرتی ھیں – خدا کرے کہ ان باتوں کو سنجیدگی سے سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ھونے کی آنے والی حکومت کو اللہ تعالی ھمت و توفیق عطا فرمائے – آمین

  2. ۔ جزاک اللہ۔ آمین ۔ م،حترم ناصر صاحبآپ کے کمنٹ سے میری بڑی حوصلہ افزائی ہوئی ہے

LEAVE A REPLY