اسلام اورحقوق العباد (7) از۔۔۔شمس جیلانی

0
216

ہم گزشتہ ہفتے یہاں تک پہونچے تھے کہ اگر کوئی صاحب مسلمان ہونے کے باجود بطور شوہر حضور (ص) کا اتباع کرنے کو تیار نہیں ہیں تو یہاں آنے سے پہلے اپنا ہونے والاا نجام سوچ لیں پھر یہاں آنے کا فیصلہ کریں ،ورنہ انکا انجام یہاں اچھا نہیں ہوگا۔ جبکہ وہاں توا چھا ہونا ہی نہیں ہے کہ حضور (ص) کے اتباع سے اللہ کی رحمت مشروط ہے ۔ اب آگے بڑھتے ہیں کیونکہ ہم نے آنے سے پہلے آپ کو سارے خطرات سے خبردار کردیا ہے۔ اگر پھربھی ہجرت کرکے یہاں کوئی آرہا ہے تو ایک نسخہ اور بتائے دیتے ہیں جو ان کے بھلے کا ہے اور ہم انہیں اس سے محروم نہیں رکھنا چاہتے ۔ جبکہ جو یہاں پہلے سے موجود ہیں اور اب تک اس ثواب سے محروم ہیں اس کی اب نیت کرلیں تو وہ بھی ثواب کماسکتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ حضور (ص)نے فرمایا جو جس نیت سے ہجرت کرے گا اس کا وہی ثواب ہے ۔ جبکہ اگر کسی نے صرف کمانے کے لیئے ہجرت کی یا کسی عورت کے لیے کی ہے تو کوئی ثواب نہیں ہے۔ اس کے برعکس اچھے روز گار اور مستقبل کے لیے جس کے لیے زیادہ تر لوگ آتے ہیں وہ ثواب ہے اورا س میں کوئی برائی نہیں ہے۔ بشرطِ یہاں رہ کر اچھا مسلمان بننے کی نیت کرکے آئیں تو پھرثواب ہی ثواب ہے۔ کیونکہ آپ رزق حلال کے لیے جو بھی جدوجہد کریں اور کہیں بھی کریں تو اسلام میں اس کا وہاں صلا ہے اور اجرت یہاں بھی ہے اور یہ شرف یہاں آ کر بغیر کسی مشقت کے مل جا ئے گا،کیونکہ یہاں صرف رزقِ حلال ملتا ہے؟ حرام عنقا ہے ۔

اس لیے یہاں اگر رشوت لیں تو بچتے نہیں ہیں ،کام اتنا نہ کریں جتنا آپ کی بتائی ہوئی اور مالکوں کی مقرر کی ہوئی صلاحتیوں کے اعتبار سے پورا سمجھا جاسکے تو چھٹی ہوتے دیر نہیں لگتی؟لہذا ہر ایک مجبور ہے کہ اکل حلال کھائے۔ دوسری بات صدق مقال کی ہے (یعنی سچ بولنا) جو کہ اسلام میں لازمی ہے۔ وہ سہولت بھی یہاں بآسانی پورے معاشرے میں میسر ہے اورجھوٹ بالکل قابل ِ معافی نہیں ہے۔تو یہ دو چیزیں تو آپ کوخود بخود یہاں آنے پر حاصل ہو جائیں گی ۔ تیسری چیز قانون کی پاسداری ہے۔وہ یہاں وزیر اعظم سے لیکر افسر تک سب کو کرنا پڑتی ہے۔ مگر انکا بھی جھوٹ یا جرم کہیں پکڑا جا ئے تو قابلِ معافی نہیں ہے۔ سزا سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ تو ان تین چیزوں پر تو خود بخود یہاں کا معاشرہ آنے والے کو عامل بنادیتا ہے۔ جو آپ کےیہاں بھی دین کا لازمی حصہ ہیں یہ اور بات ہے کہ ہمارے یہاں مسلمان ہونے کے باوجود عمل نہیں کرتے ۔ اگر ایک نیت اورکرلیں کے ہم خود کو یہاں آکرسلام کے سفیر بن جائیں گے اور اپنے کردار سے لوگوں کومتاثر کریں گے تواب آپ پوری ہجرت کے ثواب کے مستحق ہو جائیں گے۔ اس پر کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ دار الاسلام سے دار ا لحرب کی طرف ہجرت کرنا منع ہے؟ پہلے میں آپ کو دار السلام اور دار الحرب کے معنی بتادوں کہ ان دونوں میں فرق کیا ہے؟ تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو؟ دار اسلام ان ملکوں کو کہتے ہیں جہاں اسلامی حکومت قائم ہو۔ اورا سکے سوا سب ممالک دار الحرب ہیں ۔ جبکہ اب صورت ِ حال یہ ہے کہ اسلامی حکومت دنیا میں کہیں نہیں ہے۔ بس کچھ ایسے ممالک ہیں جو مسلم اکثریت والے ممالک تو کہلا ئے جا سکتے ہیں مگر اپنے نظام کے اعتبار سے وہ ا سلامی نہیں کہلا ئے جا سکتے کیونکہ سب جگہ یا توآمر یت ہے یا باد شاہ اور امیر ہیں ۔جوکہ ہر احتساب سےبالا تر ہیں جبکہ ا سلام میں ہر ایک قابل ِ احتساب ہے۔ پھر وہ آپ کو شہریت دینے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ چاہیں ان کے یہاں آپ ساری زندگی گزار دیں لہذا کوئی مستقبل بھی نہیں۔

جبکہ غیر اسلامی ملک جنہیں علماءدار الحرب کہتے ہیں ۔ وہاں آپ کو برابری کی بنیاد پرمقامی با شندوں جیسے حقوق حاصل ہیں۔ پھر یہ کہ حضور (ص) نے ہمیشہ تمام اپنے ماننے والوں کو یہ ہی ہدایت فرمائی ہے کہ وہ پوری دنیا میں پھیل جائیں۔ اور وہ تعمیلِ حکم میں فورا“ پھیل بھی گئے جس کی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام نظر آرہا ہے۔ اگر وہ بزرگ پوری دنیا میں نہ پھیلتے تو اسلام صرف مدینہ شریف اور مکہ معظمہ تک ہی ہو تا۔جب ایسی صورت حال ہو کہ کہیں کوئی ملک اسلامی نہ ہو تویہ دیکھنا پڑیگا کہ جب ایسی صورت حال تھی تو حضور (ص) نے کیا حکم دیا اور اس ملک کی خصوصیت کیا بتلائی جہاں صحابہ کرام (رض) نے سب سے پہلے ہجرت کی؟ وہ ملک تھا عیسائی ملک حبشہ کہ “تم وہاں چلے جاؤ کہ وہاں کا بادشاہ عادل ہے۔ اس حکم سے ثابت یہ ہو تا ہے کہ ہجرت کرتے وقت ان ممالک کو ترجیح دو جہاں “عدل“ کی حالت بہتر ہو؟ اس کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول اور واضح کرتا ہے کہ “انسان بھوکا تو زندہ رہ سکتامگر عدل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا“ باقی آئندہ

SHARE

LEAVE A REPLY