یکم اکتوبر 2009ء کو پاکستان کے نامور اداکار سید کمال دنیا سے رخصت ہوئے۔

0
2656

سید کمال 27 اپریل 1937ء کو میرٹھ (بھارت) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا پورا نام سید کمال شاہ تھا۔ ان کی فلمی زندگی کا آغاز قیام پاکستان سے قبل ممبئی میں بننے والی فلم ’’باغی سردار‘‘ کے ایک مختصر سے کردار سے ہوا تھا۔ ایک دو اور فلموں میں کام کرنے کے بعد وہ پاکستان آگئے جہاں ہدایت کار شباب کیرانوی مرحوم نے انہیں اپنی فلم ’’ٹھنڈی سڑک‘‘ میں بطور ہیرو کاسٹ کرلیا۔ یہ فلم 2 مئی 1957ء کو عیدالفطر کے دن نمائش پذیر ہوئی تھی۔سید کمال نے 2000ء تک 84 فلموں میں کام کیا جن میں 75 اردو ، 8 پنجابی اور ایک پشتو فلم شامل تھی ۔ ان کی مشہور فلموں میں زمانہ کیا کہے گا، آشیانہ، ایسا بھی ہوتا ہے، ایک دل دو دیوانے، بہن بھائی، ہنی مون، روڈ تو سوات اور نئی لیلیٰ نیا مجنوں کے نام سرفہرست ہیں۔ انہوں نے بطور فلم ساز اور ہدایت کار بھی کئی فلمیں بنائیں جن میں جوکر، شہنائی،ہنی مون، ہیرو، آخری حملہ، انسان اور گدھا، جٹ کڑیاں توںڈردا، آج دی کڑیاں، کل دے منڈے اور سیاست کے نام شامل تھے۔
سید کمال نے 1975ء میں پاکستان ٹیلی وژن سے کمال کا شو کے نام سے ایک مارننگ شو پیش کیا جو ناظرین میں بے حد مقبول ہوا۔انہوں نے این ٹی ایم کی ڈرامہ سیریل ’’کشکول‘‘ میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے 1985ء کے عام انتخابات میں بھی عملی طور پر حصہ لیا مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ان انتخابات کے واقعات ان کی فلم ’’سیاست‘‘ کا حصہ بنے۔
سید کمال نے اپنی خود نوشت سوانح داستان کمال کے نام سے تحریر کی تھی، اس کے علاوہ ان کا مجموعہ کلام بھی ’’کسب کمال‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوا تھا۔سید کمال نے اپنی اداکاری پر لاتعداد ایوارڈز بھی حاصل کئے تھے جن میں بہترین اداکاری کے تین نگار ایوارڈز کے علاوہ لائف اچیومنٹ ایوارڈ بھی شامل تھے۔سید کمال کراچی میں ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معروف سیاستدان، عالم دین اور جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما مولانا عبدالستار خان نیازی یکم اکتوبر 1915ء کو اٹک پنوالا تحصیل عیسیٰ خیل ضلع میانوالی میں پیدا ہوئے تھے۔ عیسیٰ خیل سے میٹرک کرنے کے بعد انہوں نے دینی تعلیم کے حصول کے لئے اشاعت اسلام کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ اس کالج سے منشی فاضل کرنے کے بعد 1940ء میں ایم اے کیا اور اسلامیہ کالج لاہور میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ اسی دوران انہوں نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور پنجاب مسلم فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے۔ بعدازاں وہ پنجاب مسلم لیگ کے سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز ہوئے اور آل انڈیا مسلم لیگ کی مرکزی اور صوبائی کونسل کے رکن بھی بنے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے حسین شہید سہروردی کی پاکستان عوامی مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ 1946ء اور 1951ء میں وہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1953ء میں انہوں نے تحریک تحفظ ختم نبوت میں فعال کردار ادا کیا جس پر انہیں مارشل لاء کی ایک فوجی عدالت نے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے ساتھ سزائے موت سنائی۔ بعدازاں ان دونوں رہنمائوں کی یہ سزا 14 سال قید بامشقت میں تبدیل ہوگئی۔ 1970ء کی دہائی میں انہوں نے جمعیت علمائے پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور اس کے سیکریٹری جنرل اور مرکزی صدر کے عہدے پر فائز رہے۔ 1988ء اور 1990ء کے عام انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1994ء سے 1999ء تک سینٹ آف پاکستان کے رکن رہے۔ اسی دوران انہوں نے وفاقی وزیر مذہبی امور کے عہدے پر بھی خدمات انجام دیں۔
٭2 مئی 2001ء کو معروف سیاستدان، عالم دین اور جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما مولانا عبدالستار خان نیازی میانوالی میں وفات پاگئے۔
مولانا عبدالستار خان نیازی مدرسہ و جامع مسجد انجمن فلاح المسلمین، روکڑی موڑ، میانوالی کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یکم اکتوبر 1895ء پاکستان کے پہلے وزیراعظم قائد ملت لیاقت علی خان کی تاریخ پیدائش ہے۔ وہ کرنال کے ایک متمول گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے 1918ء میں بی اے کا امتحان پاس کیا اور 1922ء میں انگلستان سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ وطن واپسی کے بعد انہوں نے سیاست میں فعال حصہ لینا شروع کیا۔ 1926ء میں وہ یو پی کی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔1933ء میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور 1937ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکریٹری مقرر ہوئے۔ قائداعظم انہیں اپنا دست راست (Right Hand)کہا کرتے تھے۔1946ء میں جب ہندوستان کی ایک عبوری کابینہ قائم کی گئی تو وہ اس میں وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس وزارت کے اہتمام میں انہوں نے ایک شاندار بجٹ پیش کیا جسے غریب کا بجٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔قیام پاکستان کے بعد وہ اس نئی مملکت کے پہلے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ 16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی میں ایک شقی القلب شخص نے انہیں گولی مار کر شہید کردیا۔ انہیں قائد ملت اور شہید ملت کے خطابات سے نوازا گیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY