پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کا افتتاح
٭28 / دسمبر 1951ء کو پاکستان کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے واہ میں پاکستان آرڈی ننس فیکٹری کا افتتاح کیا۔
اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کے موجودہ غیر یقینی حالات کے پیش نظر پاکستان کے دفاع کو بہت اہمیت حاصل ہے اسی لیے مسلح افواج کی دیکھ بھال اور ان کے لیے بہترین اسلحے کی فراہمی کو دوسرے تمام کاموں پر فوقیت دی گئی ہے۔
————————————————————————————————————-
انتخاب عالم کی پیدائش
٭28 / دسمبر 1941ء پاکستان کے مشہور ٹیسٹ کرکٹر انتخاب عالم کی تاریخ پیدائش ہے۔
انتخاب عالم نے اپنا پہلا ٹیسٹ 5 / دسمبر 1959ء کو آسٹریلیا کے خلاف کھیلا تھا اور انہوں نے اپنے کیریئر کی پہلی ہی گیند پر وکٹ حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ انہوں نے یہ اعزاز جس کھلاڑی کو آئوٹ کرکے حاصل کیا تھا اس کا نام کولن میکڈونلڈ تھا۔ انتخاب عالم نے مجموعی طور پر 47ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا۔ ایک سنچری کی مدد سے 1493 رنز اسکور کیے اور مجموعی طور پر 125 وکٹیں حاصل کیں۔ وہ پاکستان کے پہلے کھلاڑی تھے جنہیں ٹیسٹ کرکٹ میں ڈبل کرنے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ انتخاب عالم نے 4 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور 4وکٹیں حاصل کیں۔ 25 / اکتوبر 2008ء کو انہیں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا کوچ مقرر کیا گیا۔ وہ آج کل بھی اسی عہدے پر فائز ہیں۔
————————————————————————————————————-
وسیم سجاد دوسری مرتبہ سینیٹ کے چیئرمین بنے
پاکستان کے سابق نگراں صدر وسیم سجاد 30 / مارچ 1941ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔ وہ جسٹس سجاد احمد جان کے صاحبزادے ہیں ۔
وسیم سجاد نے پنجاب یونیورسٹی، یونیورسٹی لاء کالج لاہور اور اوکسفرڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ عملی زندگی کا آغاز تدریس کے شعبے سے کیا تاہم جلد ہی قانون کے پیشے سے وابستہ ہوگئے۔ 1985ء میں وہ سینٹ آف پاکستان کے رکن منتخب ہوئے اور 24 / دسمبر 1988ء کو سینٹ کے چیئر مین کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1991میں وہ دوسری مرتبہ سینٹ کے چیئر مین کے عہدے پر منتخب ہوئے۔ 18 /جولائی 1993ء کو جب غلام اسحاق خان اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے تو وسیم سجا د سینٹ کے چیئر مین ہونے کے ناتے پاکستان کے نگراں صدر مملکت بن گئے۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نمائندے کے طور پراگلے صدارتی انتخاب میں بھی حصہ لیا لیکن کامیاب نہ ہوسکے اور ایک مرتبہ پھر سینٹ کے چیئر مین کی ذمہ داریاں نبھانے لگے۔ وسیم سجاد 1997 ء میں تیسری مرتبہ سینٹ کے چیئر مین منتخب ہوئے ۔ دسمبر 1997ء میں جب فاروق احمد لغاری اپنے عہدئہ صدارت سے مستعفی ہوئے تو وسیم سجا د سینٹ کے چیئر مین ہونے کے ناتے ایک مرتبہ پھرپاکستان کے نگراں صدر مملکت بن گئے۔ اس مرتبہ وہ اس عہدے پر جناب رفیق تارڑ کے صدر منتخب ہونے تک متمکن رہے ۔
————————————————————————————————————-
نیاز فتح پوری کی پیدائش
٭ اردو کے نامور ادیب‘ نقاد‘ محقق‘ مترجم‘ مورخ‘ صحافی اور ماہر لسانیات علامہ نیاز فتح پوری 28 / دسمبر1884ء کو فتح پور‘ سہوہ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1922ء میں انہوں نے ایک ادبی جریدہ نگار جاری کیا جو تھوڑے ہی عرصے میں اردو میں روشن خیالی کا مظہر بن گیا۔ علامہ نیاز فتح پوری قریباً 35 کتابوں کے مصنف تھے جن میں من و یزداں‘ نگارستان‘ شہاب کی سرگزشت‘ جمالستان اور انتقادیات کے نام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی سینکڑوں تحریریں‘ نگار میں شائع ہوئیں جنہوں نے اردو میں نت نئے مباحث کو جنم دیا۔ بھارت نے انہیں ہندوستان کا سب سے بڑا ادبی اعزاز پدمابھوشن عطا کیا تھا۔
٭24 / مئی 1966ء کو علامہ نیاز فتح پوری کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
————————————————————————————————————-
٭28 / دسمبر 1980ء کو پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر امیر الٰہی کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ قیام پاکستان کے بعد وفات پانے والے پاکستان کے پہلے ٹیسٹ کرکٹر تھے۔ امیر الٰہی نے مجموعی طور پر 6 ٹیسٹ میچ کھیلے ان ٹیسٹ میچوں میں سے پہلا ٹیسٹ میچ انہوں نے بھارت کی طرف سے اور بقیہ پانچ ٹیسٹ پاکستان کی طرف سے کھیلے تھے۔ وہ دنیا کے ان معدودے چند کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں ٹیسٹ کرکٹ میں دو ممالک کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا۔
امیر الٰہی یکم ستمبر 1908ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ امیر الٰہی نے بھارت کی طرف سے واحد ٹیسٹ میچ 39 سال 102 دن کی عمر میں کھیلا تھا۔ اس ٹیسٹ میں انہوں نے 17 رنز اسکور کئے۔ پاکستان کی جانب سے کھیلتے ہوئے انہوں نے 5 ٹیسٹ میچوں میں 65 رنز اسکور کئے اور 7وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان کی جانب سے کھیلے جانے والے ان کے آخری ٹیسٹ کے آخری دن ان کی عمر 44 سال 105 دن تھی۔
————————————————————————————————————-
شیخ ایاز کی وفات
٭28 / دسمبر 1997ء کو اردو اور سندھی کے نامور شاعر، دانشور، ماہر قانون اور ماہر تعلیم شیخ ایاز کراچی میں وفات پاگئے۔
شیخ ایاز کا اصل نام شیخ مبارک علی تھا اور وہ 23 / مارچ 1923ء کو شکارپور کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ گریجویشن اور قانون کی تعلیم کے حصول کے بعد انہوں نے 1950ء میں کراچی میں وکالت کا آغاز کیا۔1946ء میں ان کی مختصر کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’’سفید وحشی‘‘ شائع ہوا اس کے بعد ان کی کہانیوں کے کئی اور مجموعے شائع ہوئے جن میں پنھل کان پوئِ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ اسی زمانے میں ان کی شاعری کی بھی دھوم ہوئی۔ ان کی روانی طبع اور برجستگی کو دیکھ کر کئی قادرالکلام اساتذہ بھی حیران رہ گئے۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ’’بھور بھرے آکاس‘‘ 1962ء میں پاکستان رائٹرز گلڈ کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ اس مجموعہ پر 1964ء میں حکومت نے پابندی لگادی۔ ان کی شاعری کا دوسرا مجموعہ ’’کلھے پاتم کینرو‘‘ 1963ء میں شائع ہوا۔ یہ مجموعہ بھی 1968ء پابندی کی زد میں آگیا۔ شیخ ایاز نے سندھی کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی اپنا ذریعہ اظہار بنایا اور ان کی اردو شاعری کے مجموعے بوئے گل نالۂ دل، کف گلفروش اورنیل کنٹھ اور نیم کے پتے کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کی سندھی شاعری کا ایک اردو ترجمہ بھی ’’حلقہ مری زنجیر کا‘‘ کے نام سے شائع ہواتھا۔ شیخ ایاز کا ایک بڑا کارنامہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مجموعہ کلام ’’شاہ جو رسالو‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ شیخ ایاز کے اس ترجمے کی وساطت سے شاہ لطیف کا پیغام اردوداں طبقے تک بھی پہنچا۔ شیخ ایاز کے کئی نثری کارنامے بھی اہل نظر سے داد حاصل کرچکے ہیں۔ جن میں ان کی تقاریر کا مجموعہ ’’بقول ایاز‘‘، خطوط کا مجموعہ ’’جے کاک ککوریا کا پڑی‘‘، مضامین کا مجموعہ’’ بھگت سنگھ کھے فانسی‘‘ اور یادداشتوں کے مجموعے ’’کراچی جا ڈینھن ئِ رایتون‘‘ اور ’’ساہیوال جیل جی ڈائری‘‘ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ 1976ء میں انہیں سندھ یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔وہ بھٹ شاہ میں شاہ لطیف کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔
وقار زیدی ۔ کراچی












