سارے تماش بین ہیں ! تانیہ رحمان

0
1093

جمعہ تین دسمبر دو ہزار اکیس کی اس خبر نے ایک بار پھر دماغ کے تار ہلا دئے اور اس وقت بھی بار بار کرنٹ لگ رہا ہے ۔ سوچ رہی ہوں اس خبر کے خلاف لکھوں تو شدت پسند لوگوں کی نظر میں مسلمان ہونے کے زمرے سے باہر ہو جاتی ہوں اور جو نہ لکھا تو اپنی ہی نظر میں بے ضمیر ہو جاؤنگی۔ ۔۔۔ خبر کیا ہے بجلی ہے خاکستر کر رہی ہے ۔۔

سیالکوٹ کی ایک معروف فیکٹری راجکو میں سری لنکن مینیجر نے ایک مشین پر لگی ہوئی پرچی کو پھاڑ کر پھینک دیا…. اس پرچی پر درود پاک لکھا ہوا تھا۔ نام نہاد عاشقین نے یہ جانے بغیر کہ اس کا عمل غلطی تھا یا جان بوجھ کر، اس کو پتھر مار کر جان سے مارا اور آگ لگا دی….

لاش کو آگ لگانے کے موقع پر سینکڑوں کی بھیڑ جمع تھی۔ پولیس بھی پہنچ چکی تھی۔ انتظامیہ و پولیس مشتعل ہجوم کو ان کے حال پر چھوڑ کر بت بنی کھڑی رہی۔

اخبارات کی سرخیاں آگ اگل رہی ہیں کہ خون برسا رہی ہیں ۔

بقول ان کے جو خود کو پکا اور سچا مسلمان کہتے ہیں۔ تھوڑی دیر سوچنے کی بات ہے ۔ کیا کوئی پکا سچا پرہیز گار اللہ کو ایک مانے والا ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ماننے والا ، ان سے محبت کرنے والا ایسا کر سکتا ہے ؟

کون سی حدیث میں لکھا ہے کہ گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کرنے والے کو زندہ مارنے کے بعد جلا دو۔۔ اس واقعے میں جتنے لوگ شامل تھے۔ کبھی ایک وقت کی نماز بھی نہیں پڑھی ہو گی۔ دیکھا دیکھی باقی لوگ بھی شامل ہو گے۔ اس دوران پولیس کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ غیر مسلمانوں کو ہم یہ سبق دے رہے ہیں کہ مسلمان اتنے ظالم و سفاک ہیں۔

ہمارے ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں۔جس کا دل کرتا ہے نہتے غیر مسلم کو گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر جلا دیتے ہیں یا جیل کے پیچھے دکھیل دیتے ہیں ۔ ۔۔ وہ بھی بنا ثبوت کے۔۔ کیا اس غیر مسلم کو اندازہ نہیں تھا۔ کہ میں اگر ایسا کروں گا تو میرا انجام موت ہے۔۔ وہ بھی ایک ایسی قوم جو سوچے سمجھے بنا قانون کو ہاتھ میں لیتی ہے۔۔ اگر مسلنا اور بلخصوص پاکستانی قوم اتنی ہی غیرت مند ہے تو روز کتنی معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔۔ انھی کے محلوں میں رہنے والے یہ بے غیرت دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔۔ انہیں سب معلوم ہوتا ہے ۔۔کیا کبھی کسی کو سرے عام پتھروں سے لہولہان کیا گیا یا اسے جلایا گیا ۔۔۔ نہیں کیا نہ یہ سلوک ۔۔ کیوں؟ وہ بچی انسان نہیں تھی یا اس کی عزت کے کوئی معنی نہیں تھے ۔۔یا ہمت نہیں ہے خود کو جلانے کی ۔۔ خود کو مارنے کی ۔

سال پہلے اسی سیالکوٹ میں حافظ قرآن بے گناہ دو بھائیوں کو ڈنڈوں سے مارا گیا پھر یہاں بھی ان کو تسلی نہیں ہوئی تو ان کی لاشوں کو ٹریکٹر پر رکھ کر پورے بازار میں گھمایا گیا۔ حسد جلن ، بے حسی ، متشدد زہن کی آگ نے ان کے ہوش ہوس گم کر دیے۔ ظالموں نے اس پر بھی بس نہیں کیا بیچ چوراہے پر ان لاشوں کی بے حرمتی کی گئی۔ سارے لوگ ویڈیو بنانے کے چکروں میں لگے ہوئے تھے۔ تماشا دیکھتے ہوئے کہاں تھی ان مسلمانو کی غیرت۔ اب پھر وہی کچھ ہوا۔ سب تماش بین کھڑے تھے۔بس فرق اتنا تھا۔کہ یہ کسی بائی کا کوٹھا نہیں تھا۔۔۔

افسوس اس حکومت پر ہوتا ہے۔ دو چار دن اس طرح کی خبر پر ردعمل دیکھا کر حکومت ، پولیس ، عدلیہ پر خاموشی چھا جاتی ہے۔۔۔
یوں لگتا ہے
جیسے سارے تماش بین ہیں !

تانیہ رحمان

SHARE

LEAVE A REPLY