خزینہ شعر و ادب کا خصوصی اجلاس زیر سرپرستی شیخ امتیاز اقبال کے مرزا شہزاد علی کی رہائش گاہ پر منعقد کیا گیا۔اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے نغمانہ کنول شیخ بانی و صدر خزینہ شعر و ادب نے کیا۔خزینہ کی ایڈوائزر پامیلہ ملک نے ممبران کو نئی حکمت عملی پر سختی سے عملدرآمد کے اصولوں پر اپنی آراء سے نوازہ جس پر دیگر شرکاء نے انکی تائید کی چیرپرسن امتیاز اقبال نے نغمانہ کنول شیخ کے ساتھ پاک برٹش آرٹس کی جانب سے پیش آنے والے واقعہ پر اپنے غم و غصہ کا اظہار قلم بند کروایا اور مستقبل میں کسی بھی ایسے سنگین سائبر کرائم سے نمٹنے کے لئے قانونی چارہ جوئی کی پالیسی پر ہنگامی بنیادوں پر عملدرآمد کرنے کے لیئے رائے دی اور اسکو خزینہ شعر و ادب کی پالیسی کا دیگر شرکاء کی متفقہ رائے سے جز قرار دیا۔
مقدسہ بانو نے بھی پاک برٹش آرٹس کی انتہائ اخلاق سے گری ہوئی اس حرکت پر فوری طور پر قانونی کاروائی کرنے پر اتفاق کیا،اور کہا کہ بے ادب لوگوں کو کسی بھی ادبی گروپ کا حصہ نہیں ہونا چائیے بلکہ انکے چہروں سے نقاب اتار کر عوامی تحریک چلائی جائے اور پاک برٹش آرٹس جیسی دو نمبر تنظیموں اور نوسر باز لوگوں کی اس باب کے لئے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہئے
خصوصی مہمان چیئرپرسن گلاسگو خزینہ شعر و ادب محمد اظہر نے گزشتہ کی گی غلطیوں سے سبق حاصل کرنے پر زور دیا اور فل فور کاروائی کی درخواست کی جبکہ ہر دل عزیز ڈاکٹر یونس پرواز نے حکمت کے موتیوں سے اجلاس میں دیں و دنیا کے اصولوں پر روشنی ڈالی ہے ۔نغمانہ کنول شیخ نے اپنے ساتھ گزشتہ دونوں ہونے والے سائبر کرائم سے نمٹنے کے لئے قانونی چارہ جوئی پر عملدرآمد پر اپنی رضامندی کا اظہار کیا اور ان تمام دوست احباب کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انکی حوصلہ آفزائی کی اور مشکل گھڑی میں انکے حوصلوں کو پست نہیں ہونے دیا۔متفقہ رائے سے آئندہ کے لئے ہونے والے پروگراموں پر سیر حاصل بحث کی گئی اور دیگر تنظیموں کے اشتراک سے کئے جانے والے کسی بھی پرگرام میں کسی بھی قسم کی کوتائی کو کسی ایک فرد کو ذمہ دار نہ ٹہرائے جانےجانے پر اتفاق کیا گیا ۔
خزینہ شعر و ادب کی ساکھ بحال رکھنا ہر ممبر پر فرض ہے۔
پاک برٹش آرٹس کے ڈاکٹر یونس امین نے نغمانہ کنول شیخ بانی و صدر خزینہ شعر و ادب کی 15سالہ علمی و ادبی خدمات پر اور ان کی ذاتیات پر کیچڑ اچھالا ہے اس سے انکی ذہنی پسماندگی اور علم و شعور سے انکے قاری بھی خوب واقف ہوئے انکی پیسوں پہ پروان چڑھنے والی تنظیم کئ مرتبہ اپنے ممبران کی سائبر کرائمز ایکٹ کے تحت کردار کشی زبان ذد عام ہے۔
جنرل سیکرٹری شہزاد علی مرزا نے پر لطف کھانوں سے شرکاء کو محضوظ کیا۔اور دعائیہ کلمات سے اجلاس اختتام پذیر ہوا ۔اور ساری کاروائی کو سیکرٹری نشرو اشاعت مقدسہ بانو نے قلم بند کیا
مقدسہ بانو













