مرثیہ کی میراث انیس کو اجداد سے منتقل ہوئی،شاہین اشرف علی

0
318

میر ببر علی نام تھا اور انیس تخلص

اس سے قبل حزیں بھی انکا تخلص رھا اپ کے نامور آآباو اجداد دہلی کے رھنے والے تھے جب دلی تباہ ھوی تو فیض آباد چلے اے اور فیض آباد کے محلے گلاب باڑی میں انیس کی پیدائش ھوی آپ انتہای باعلم اور دنیاے سخن کے نامور گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اپ کے دادا میر حسن مثنوی سحر اللبیان اور بدر منیر کے خالق تھے اس سے انیس کے گھرانے کی عظمت کا اندازہ کر سکتے ھیں میر انیس اور انکے گھرانے کی زبان مستند سمجھی جاتی تھی ابتدا میں غزل کی طرف مائل تھے اور حزیں تخلص کرتے تھے مگر اپ والد کے ارشاد پر مریثے کی طرف توجہ دی اور مریثیے پر جو کمال و دسترس میر انیس کو حاصل تھی ان سے پہلے یا انکے بعد کوئی اس فکری بلندی تک نہ جا سکا جہاں آج سے دو سو سال قبل میر انیس پہنچے وہ گذشتہ دو صدی سے آسمان سخن پر ماہ کامل کی طرح ضوفشاں ھیں زبان کی چاشنی محاورات کی بر محل بندش سلاست زباں تنوع کے ساتھ رزم و بزم میں وہ دلکش انداز اختیار کیا کہ انکے ھم عصروں نے انکو فردوسی وقت تسلیم کیا اشعار کی تعداد لاکھوں میں ھے
آج میر انیس کا ایک مرثیہ قرات کر رھی تھی

میرے بزرگ کہتے تھے کہ زعفر جن میر انیس کو واقعات کرب و بلا لکھواتے تھے۔ اللہ اللہ زبان و بیان پر اتنی کامل دسترس

تول لے عقل کے میزان میں جو فہمیدہ ھے
بات جو منہ سے نکلتی ھے وہ سنجیدہ ھے

مرثیہ کی میراث انیس کو اجداد سے منتقل ہوئی تھی مگر ان کی طبعِ رواں ذاتی لیاقت کربلا سے ایمانی وابستگی اور شاہانِ اودھ کے عہد حکومت میں لکھنو کے اندرعزاداری کے لیے مثالی ماحول کی دستیابی نے انیس کو مرثیہ نویسی اور مرثیہ خوانی کے فن میں طاقِ روزگار بنا دیا اور کچھ ہی عرصہ میں انیس نے سلاستِ زبان ، ادائیگی اور حسنِ بیان میں اپنے عہد کے راسخ البیان مرثیہ گو استادجناب میرزا سلامت علی دبیر اور دیگر اساتذہ ٔفن کو بھی مقبولیت میں قدرے پیچھے چھوڑ دیا۔ انیس کا معمول تھا کہ شب بھر جاگتے اور مطالعہ و تصنیف میں مصروف رہتے تھے۔ ان کے پاس دوہزار سے زائد قیمتی اور نایاب کتب کا ذخیرہ موجود تھا۔ نمازِ صبح پڑھ کر کچھ گھنٹے آرام کرتے تھے۔ بعدِ دوپہر بیٹوں اور شاگردوں کے کلام کی اصلاح کرتے تھے۔ محفلِ احباب میں عقائد اور علوم وعرفانیات پر گفتگو کرتے تھے۔

مراثی انیس کی تعداد

میر ببر علی انیس کو دشت کربلا کا عظیم ترین سیّاح قرار دیا گیا ہے۔ اُن کے مرثیوں کی تعدا د بارہ سو (1200) کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے۔ مجلّہ نقوش انیس نمبر میں بہ تحقیقِ عمیق میر انیس کے 26 نایاب اور غیر مطبوعہ مراثی طبع کئے گئے ہیں۔ محققین کے مطابق ان کے کئی مرثیے ابھی تک غیر مطبوعہ حالت میں مختلف بیاضوں کے اندر موجود ہیں۔ میر انیس نے روایتی مرثیہ کے علاوہ سلام، قصائد، نوحہ اور رباعیات کا بھی کثیر ذخیرہ چھوڑا ہے۔ رباعیاتِ انیس کی تعداد محققین کے مطابق چھ سو(600) کے برابر ہے۔ میر انیس کے کئی مراثی میں معجزاتی کرشمہ کاری کا عنصر ملتا ہے۔ آپ کے ایک نواسے میر عارف کی تحریری یادداشت سے پتہ چلتا ہے کہ 1857ء کے اواخر میں میر انیس نے ایک سو ستاون (157) بند یعنی ایک ہزار ایک سو بیاسی (1182) مصرعوں کا یہ شاہکار مرثیہ جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے ایک ہی شب میں لکھا اوراپنے خاندان کے عشرۂ مجالس میں پڑھا۔ انیس نے حضرت علی ابنِ ابی طالب علیہ السّلام کے بے نُقط خُطبہ کی تآسی میں کچھ ایسے مرثیے بھی لکھے جو بے نُقط تھے۔ میر انیس کے تین فرزندان تھے میر نفیس، میر جلیس اور میر سلیس اور یہ تینوں منجھے ہوے شاعر و مرثیہ نگار تھے۔ والد کے بعد میر نفیس کا مرثیہ اعلٰی پائے کی مرثیہ نگاری میں شمار ہوا ہے۔

رواں صدی کے مرثیہ نگار شاعرجوش ملیح آبادی نے میر انیس کے لیے کہا:
اے دیار لفظ و معنی کے رئیس ابن رئیس
اے امین کربلا، باطل فگار و حق نویس
ناظم کرسی نشین و شاعر یزداں جلیس
عظمت آل محمد کے مورخ اے انیس
تیری ہر موج نفس روح الامیں کی جان ہے
تو مری اردو زباں کا بولتا قرآن ہے

SHARE

LEAVE A REPLY