تل ابیب میں بد عنوانی کے خلاف ہزاروں اسرائیلی شہریوں کا مظاہرہ

0
122

ہزاروں اسرائیلی شہریوں نے ہفتہ کو مسلسل دوسرے ہفتے تل ابیب میں حکومت اور وزیر اعطم بینجمن نتن یاہو کی مبینہ بدعنوانی کے خلاف مظاہرہ کیا جنہیں اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے وجہ سے فوجداری تحقیقات کا سامنا ہے۔

پولیس کے انداز ے کے مطابق مظاہرین کی تعداد 10 ہزار کے قریب تھی اور اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی ایسا ہی مظاہرہ ہو چکا ہے جو حالیہ ہفتے بدعنوانی کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں سے سب سے بڑا مظاہرہ تھا جس میں ایک اندازے کے مطابق 20 ہزار افراد نے شرکت کی۔

یہ مظاہرے نتین یاہو پر بدعنوانی کے الزامات منظر عام پر آنے کے بعد شروع ہوئے جنہیں وہ یہ کہتے ہوئے مسترد کرتے ہیں کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ نتین یاہو پر بدعنوانی کے دو کیسوں میں مبینہ طور ملوث ہونے کے شبہ کا اظہار کیا جارہا ہے۔

پہلے کیس کا تعلق ایک امیر کاروباری شخصیت سے مبینہ طور پر تحائف وصول کرنے کے معاملے سے ہے جبکہ دوسرے معاملے کا تعلق اخبار کے ایک مالک کے ساتھ بہتر کوریج کے لیے بات چیت کرنے سے ہے اور اس کام کے عوض ان کے حریف روزنامہ اخبار پر کچھ پابندیاں عائد کی جانی تھیں۔

اگر وزیراعظم نتین یاہو پر باضابطہ طور پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں تو ان پر مستعفیٰ ہونے کے لیے شدد دباؤ آ سکتا ہے یا دوسری صورت میں وہ فوری انتخاب کا اعلان کر سکتے ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ کیا ان کے پاس حکومت کرنے کا اختیار ہے یا نہیں۔

نیتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت ‘ لیکود’ نے فیس بک پر جاری بیان میں کہا کہ یہ مظاہرہ بائیں بازو کے لوگوں تھا۔ بیان میں تمام اسرائیلوں سے کہا گیا ہے کہ وہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد ہونے والی بین الاقوامی تنقید کے خلاف وزیرا عظم کا دفاع کریں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ “یروشلم کے معاملے پر (اسرائیلی) لوگوں کے ساتھ مل کر دنیا کو متحدہ ہونے کا تاثر دینے کی بجائے بائیں بازوں والے اپنے آپ کو الگ رکھ کر (لوگوں کو ) تقسیم کرنے کا موجب نہیں بن سکتے ہیں۔ “

گزشتہ کئی ہفتے سے جاری مظاہروں میں شرکت کرنے والوں نے دونوں دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت کرنے کا بتایا ہے۔ ہفتے کو انہوں نے جو بینر اٹھائے ہوئے تھے ان پر لکھا ہو ا تھا کہ “چاہے دائیں بازو چاہے بائیں بازو (کی جماعتیں ) ہوں ہمارا مطالبہ دیانت داری ہے۔ ہم بدعنوان (سیاستدانوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ ” اور ” ان سب کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے”۔

SHARE

LEAVE A REPLY