چلتے ہو تو چین کو چلئے۔مشتاق احمد قریشی

0
101

گزشتہ دنوں دوستوں کے ساتھ چین جانے کا اتفاق ہوا اتفاق اس لئے کہ چین کے بارے میں پہلی بار غالباً 1950ء میں جب میں چوتھی کلاس میں داخل ہوا تو پہلی نظر جس تحریر پر پڑی جو کلاس کی دیوار پر نمایاں سجی تھی وہ تھی ’’علم کے حصول کیلئے اگر چین بھی جانا پڑے تو جائو‘‘ چین کے حوالے سے سب سے پہلے ابن انشا یاد آئے کہ ان کے دلچسپ سفر نامے نے بھی چین کا اشتیاق پیدا کر رکھا تھا اور ان کے نامور بھتیجے عامر محمود کا یاد آنا ضروری تھا عامر محمود نے اس سفر چین کی تیاری میں لمحہ لمحہ دوستوں کی رہنمائی کی لیکن افسوس آخری لمحہ میں وہ ساتھ نہ جاسکے کم از کم میں نے ہر قدم پر ان کی کمی شدید محسوس کی۔ چین کا سفر یقیناً ایک بہت یادگار سفر رہا تمام ساتھیوں نے بھرپور علم حاصل کیا قدم قدم پر حیران کن تجربات سے گزرنا پڑا چین کے بارے میں زبانی کلامی جو جو سن رکھا تھا ہوبہو ویسا ہی پایا ساڑھے چھ گھنٹے کی پرواز کے بعد کراچی سے اڑ کر بیجنگ پہنچے جہاں ہمارا شاندار استقبال کیا گیا۔
اسی شام چین میں تعینات پاکستانی سفیر جناب مسعود خان صاحب نے پاکستانی سفارت خانے میں مدعو کیا اور پاکستانی کھانوں سے ضیافت کی ان سے بڑے خوشگوار ماحول میں گفتگو ہوئی اور انہوں نے پاکستان اور چین کے مشترکہ منصوبوں کی تفصیل سے آگاہ کیا اور بتایا کہ پاکستان میں اگر چین اپنے منصوبوں پر اپنے لوگوں سے کام لے رہا ہے تو وہ پاکستانی لوگوں کو چین میں کام کے مواقع بھی فراہم کر رہا ہے بڑی تعداد میں پاکستانی چین کے بڑے بڑے منصوبوں میں کام کرنے کیلئے بلائے گئے ہیں۔ بیجنگ میں ہماری ملاقات چینی محکمہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل زنگ ای اور اعلیٰ حکام سے ہوئی انہوں نے بریفنگ دی چین پاکستان دوستی کے بارے میں مثبت گفتگو کی اور پاکستان سے بھرپور تعاون اور دوستی کی یقین دہانی کرائی اور چین پاکستان کے مشترکہ مفادات اور منصوبوں کے بارے میں بھی مطلع کیا، پھر ہمیں وزارت اطلاعات کے اور چائنا اکنامک سینٹر کے دفتر کا دورہ بھی کرایا گیا۔ صحافیوں کو،جو اس وفد میں شریک تھے، کو اپنے دفتر آنے کی دعوت دی اور باہمی مشاورت کا اہتمام کیا، میزبان نے اپنے خیالات کا اظہار مترجم کے ذریعے اپنی قومی زبان چین میں ہی کیا جبکہ پاکستانی صحافیوں نے انگریزی کو اپنے اظہار خیال کا ذریعہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ چین کے تمام اخبارات ایک منصوبے، قانون اور ضابطے کے تحت شائع کئے جاتے ہیں، کوئی خبر تصدیق کے بغیر شائع نہیں کی جاسکتی تمام اشاعت گھر کی سرپرستی حکومت کرتی ہے، حکومتی پارٹی ہر خبر کی نگرانی کرتی ہے۔ اس لئے کوئی بے بنیاد خبر شائع نہیں ہوتی نہ ہی کی جاسکتی ہے موصوف نے ایک سوال کے جواب میں سی پیک کے بارے میں تفصیلی جائزہ بھی پیش کیا انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں بیک وقت کئی منصوبوں پر کام ہورہا ہے سی پیک یقیناً ہمارا ایک بڑا اور اہم منصوبہ ہے اس سے جہاں پاکستان کو بے پناہ فائدہ پہنچے گا وہیں چین کیلئے بھی سی پیک کا منصوبہ بڑا اہم اور ضروری ہے۔ دنیا دیکھے گی کہ کس طرح چین کی حمایت سے پاکستان دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کرتا ہے جو ممالک اور لوگ اس کی اہمیت کو سمجھ رہے ہیں وہ اس کی مخالفت کر رہے ہیں اس کا مطلب ہے کہ وہ پاکستان کو آگے بڑھتا ہوا دیکھنا نہیں چاہتے۔
دوسرے دن صبح قافلہ چین کی وزارت خارجہ کے دفتر پہنچا، وہاں خارجہ امور کے ڈائریکٹر جناب چن چن پن، جو ایشیائی امور کے انچارج ہیں، نے بھرپور بریفنگ دی وہاں سے ہمیں چین کے سب سے بڑے اخبار چائنا ڈیلی کے دفتر لے جایا گیا جو آٹھ ممالک سے بیک وقت شائع ہوتا ہے اس کی اشاعت ایک ملین سے زیادہ بتائی گئی اور تقریباً ستائیس ملین آن لائن ریڈر شپ بتائی گئی اس کے بعد دوسرے روز چین کے صوبے سنگیانگ کے شہر ارمچی تقریبا ساڑھے تین گھنٹے کی پرواز سے پہنچے سنکیانگ کا رقبہ پاکستان سے تین گنا زیادہ بتایا گیا۔ یہ علاقہ خود مختار کہلاتا ہے یہاں ہماری ملاقات کمیونسٹ پارٹی چائنا کے مقامی رہنما غیرات سیف ہو سے کرائی گئی انہوں نے سنکیانگ اور اس کے بارے میں مکمل تفصیل سے آگاہ کیا۔ ارمچی پہنچنے پر برف نے ہمارا استقبال کیا برف کی چادر اوڑھے یہ شہر اپنی خوب صورتی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ میرے تصور میں بھی نہیں تھا کہ یہاں میری ملاقات ایک نہیں بلکہ کئی سنگیوں سے ہوجائے گی محترم ابن صفی نے اپنا کردار سنگی غالباً یہی سے لیا ہوگا ہوا یوں کہ جب ہم سنکیانگ کے شہر ارمچی پہنچے تو ہمارے استقبال سے لے کر ہماری رخصتی تک چینی پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے لوگ ہماری حفاظت و نگہداشت کیلئے سائے کی مانند ہمارے ساتھ ساتھ تھے میں نے خفیہ سیکورٹی آفیسر کو دیکھا تو اپنے مترجم کے توسط سے ان کا نام دریافت کیا تو انہوں نے جو نام بتایا میں اسے سن کر اچھل پڑا نام تھا چن چون سنگی، سنگی کا نام میرے لئے نہ ہی ابن صفی صاحب کے قارئین کیلئے نیاتھا لیکن یوں اچانک سر راہ سنگی نام سے ملاقات ہوجائے گی میں حیران تھا، میں نے مترجم کے ذریعے دریافت کیا، کیا آپ واقعی سنگی ہی ہیں پہلے تو انہوں نے اس کا مطلب پوچھا میں نے اس کے جواب میں پوری تفصیل سے ابن صفی صاحب کا تعارف کرایا اور انہیں بتایا کہ سنگی ہی ان کا مشہور زمانہ منفی کردار ہے جو جرائم کی دنیا میں اپنا ثانی نہیں رکھتا اور چلتی ہوئی گولیوں سے پھرتی اور چالاکی سے بچ جاتا ہے، اس جواب پرپہلے تو وہ صاحب مسکرائے اور پھر چینی زبان میں ہی انہوں نے بڑی طویل تقریر کی، ان کے خاموش ہونے پر مترجم نے بتایا کہ یہ کہتے ہیں کہ سنگیانگ کا ہر شہری سنگی ہے، رہی بات سنگ آئوٹ کی تو وہ صرف آپ کے رائٹر کی تصوراتی تخلیق ہے، میں خود مارشل آرٹ کا ماہر اور استاد ہوں اور خفیہ پولیس میں ایک بڑے عہدے پر ہوں لیکن مسلسل چلتی گولیوں سے بچ کر نکل جانا ممکن نہیں، ویسے کہنے کو تومیں بھی سنگی ہوں ہمیں بچپن سے ہی مارشل آرٹ کی تعلیم دی جاتی ہے اس کے ساتھ ساتھ دوسری تعلیم بھی شروع کردی جاتی ہے بچپن میں کی گئی محنت زندگی بھر ہمارے کام آتی ہے کیا آپ کو مارشل آرٹ آتا ہے، میں نے نفی میں گردن ہلائی وہ مسکرا کر خاموش ہوگیا، میں نے مترجم کے ذریعہ کہا کہ ہمارے ادیب ابن صفی کا کردار سنگی ہی ہے اس میں اور آپ کے نام میں ہی کا فرق ہے اس پر مترجم نے جواب دیا کہ آپ پاکستان میں رہتے ہیں میں بھی اسلام آباد اور لاہور کے قونصل خانوں میں رہا ہوں جیسے آپ لاہور کے رہنے والے کو لاہوری اور کشمیر کے رہنے والے کو کشمیری کہتے ہیں ایسے ہی ’’سنگی ہی‘‘ بھی بولا جاسکتا ہے ’’ہی‘‘ کے معنی رہنے والے کے ہونگے، چین کے سفر نے جہاں نئے جہاں کی سیر کرائی معلومات کا خزانہ دیا چین اور چینی لوگوں سے متعلق بہت سا علم ملا وہیں ابن صفی کی یاد بھی تازہ کردی۔

SHARE

LEAVE A REPLY