شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان بن عبدالعزیزآلِ سعود

0
1671

سعودی عرب نے شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان بن عبدالعزیزآلِ سعود کو امریکا میں سعودی سفیر مقرر کیا ہے۔ ریاض کے شاہی محل میں 1975ء میں پیدا ہونے والی شہ زادی سعودی ولی عہد کے چھوٹے بھائی شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیزسے اس عہدے کا چارج لیں گی جنہیں مملکت کے نائب دفاعی وزیر کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔شہزادی ریما تادیرامریکا میں تعینات رہنے والے اپنے والد کی جگہ بھی سنبھالیں گی جن کی تقرری کے دوران انھوں نے اپنی زندگی کا 2005 ء تک ، بیش تر حصہ امریکا میں ہی گزارا تھا۔ انہوں نے فیصل بن ترکی بن ناصر سے شادی کی جو 2102 میں ختم ہو گءی۔ ان کے 2 بچے ہیں۔

شہزادی نے امریکا ہی کی جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے میوزیم سٹڈیز میں بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ اس دوران انھوں نے پیرس میں اور بعد میں واشنگٹن کی مشہور سیکلر آرٹ گیلیری میں انٹرنشپ بھی کی ہے۔2005 میں ریاض واپسی پر انہوں نے پبلک اور پرائیویٹ دونوں سیکٹرز میں کام کیا ہے۔ وہ ریاض میں قاءم ہونے والے پہلے بریسٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ کی بانی رکن ہیں اور کئی کاروباری عہدوں پر تعینات رہی ہیں جب کہ ریاض میں موجود معروف برطانوی لگثری ڈپارٹمنٹل سٹور ہاروی نکولس کی سی ای او بھی رہ چکی ہیں۔ انہوں نے سعودی وزارتِ محنت و افرادی قوت کے ساتھ کام کرتے ہوئے سعودی خواتین کی ریٹیل سیکٹر میں شمولیت اور انھیں کام دینے کے مواقعوں اور عمل کو بہتر بنایا اور خواتین ملازمین کی سہولت کے لیے کام کرنے کی جگہ پر ملک کی پہلی نرسری بھی بنائی جہاں خواتین کام کے دوران اپنے بچوں کو چھوڑ سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے خواتین ملازمین کو’ ٹرانسپورٹ الاؤنس’ دینے کے پروگرام کا بھی اعلان کیا، کیوں کہ 2011 تک سعودی خواتین پر گاڑی چلانے پر پابندی تھی تو انھیں کام پر آنے کے لیے ٹیکسی کا استعمال کرنا پڑتا تھا۔

ناصر رانا

SHARE

LEAVE A REPLY